روایت: ’’ألا! طال شوق الأبرار إلى لقائي، وأنا إليهم لأشد شوقا‘‘. آگاہ ہوجاؤ! نیک بندوں کا مجھ سے ملاقات کا شوق بہت بڑھ گیا ہے، اور میں ان سے بھی زیادہ ان کا مشتاق ہوں۔
حکم: آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، لہذا آپ ﷺ کے انتساب سے بیان نہیں کرسکتے، البتہ اسرائیلی روایت کے طور پر ثابت ہے، اس لئے اسرائیلی روایت کہہ کر بیان کرسکتے ہیں۔
تفصیل
زیر بحث راویت دو طرح سے منقول ہے: 1 مرفوع طریق 2 غیر مرفوع طریق۔
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الفردوس بمأثور الخطاب:5/240،رقم:8067 ،ت:السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1406هـ .
[2] إحياء علوم الدين:ص:883،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1426هـ .
[3] المغني عن حمل الأسفار:1/710، رقم:2586،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[4] طبقات الشافعية الكبرى:6/331،ت:عبد الفتاح محمد الحلو،هجر للطباعة والنشر،الطبعة الثانية1413هـ .
[5] تذكرة الموضوعات:ص:196،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الثانية1399هـ .
[6] إحياء علوم الدين:ص:1689،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1426هـ .
أنظر إتحاف السادة المتقين:12/423،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[7] الفتوحات المكية:3/545،ت:أحمد شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
[8] روضة المحبين:ص:23،ت:أحمد شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[9] الجواب الكافي:ص:358،ت:عمرو عبد المنعم بن سليم،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1417هـ .
[10] مختصر منهاج القاصدين:ص:348،ت:محمد أحمد دهمان،مكتبةدار البيان ـ دمشق،الطبعة1398هـ .
[11] المحبة لله سبحانه:ص:111،رقم:256،ت:عبد الله بدران،دار المكتبي ـ دمشق،الطبعة الأولى1423هـ .
علامہ ابواسحاق ابراہیم بن عبد اللہ خُتّلِیl کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’حدثني إبراهيم، حدثني عمرو بن أيوب أبو حفص النسائي، حدثني منصور بن محمد البلخي، قال: سمعت أحمد بن مخلد الخراساني، يقول: قال الله تبارك وتعالى: ألا! قد طال شوق الأبرار إلى لقائي، وإني إليهم لأشد شوقا...‘‘.
[12] الترغيب في الدعاء:ص:53،رقم:19،ت:فواز أحمد زمرلي،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .
[13] الرسالة القشيرية:ص:482،ت:عبد الحليم محمود و محمود بن الشريف،المكتبة التوقيفية ـ القاهرة .
’’رسالہ قشیریہ‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقال فارس: قلوب المشتاقين منورة بنور الله تعالى، فإذا تحرك إشتياقهم أضاء النور ما بين السماء والأرض، فيعرضهم الله تعالى على الملائكة، فيقول: هولاء المشتاقون إلي، أشهدكم أني إليهم أشوق‘‘.
[14] لطائف المعارف:ص:135،ت:ياسين محمد السواس،دار ابن كثير ـ دمشق،الطبعة الخامسة1420هـ .
[15] الصحيح للبخاري:8/106،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:ساتھیوں سے ملاقات کےلئے جاتے وقت آپ ﷺ کا پانی میں دیکھ کر اپنی داڑھی اور سر کے بالوں کو سنوارنا ۔
روایت: ’’درج ذیل کلمات پڑھنے پر حضور ﷺکی سفارش کہ حساب نہ لیا جائے، اور یہ کہ اللہ تعالی نے بخش دیا:
’’اللهم آمنّا في أوطاننا، وأصلحنا وأصلح ولاة أمورنا، اللهم صل على محمد كلما ذكره الذاكرون، وكلما غفل عن ذكره الغافلون‘‘. اے اللہ! ہمارے وطنوں کو امن کا گہوارہ بنا، اور ہمیں نیک بنا اور ہمارے حاکموں کو نیک بنا، اے اللہ! محمدﷺ پر رحمت کاملہ نازل فرما جب بھی یاد کرنے والے انہیں یاد کریں اور جب بھی غافل ہونے والے ان سے غافل ہوں‘‘۔
روایت: ایک صحابی r کا ایمان لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ایک عورت کو دیکھنے سے انکار کرنا، جس سے ایمان لانے سے قبل تعلقات تھے۔
روایت:’’اللہ تعالی نے فرشتوں کو پیدا کرکے ان میں عقل رکھی، اور چوپایوں کو پیدا کرکے ان میں شہوت رکھی، اور بنی آدم کو پیدا کرکے اس میں عقل اور شہوت دونوں رکھی ہیں، تو جس کی عقل شہوت پر غالب آگئی وہ ملائکہ سے افضل ہے، اور جس کی شہوت عقل پر غالب آگئی وہ چوپایوں سے کمتر ہے‘‘۔
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔