اے ابن آدم! ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے
باب: ذات و صفاتِ باری تعالیٰ
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، اس کی محبت و رحمت، اور اس بارے میں منسوب احادیثِ قدسیہ۔
گروپ: عقائد
16 روایات
روایت: ’’ إنما خلقت الخلق ليربحوا علي، ولم أخلقهم لأربح عليهم‘‘. میں نے مخلوقات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ مجھ سےنفع حاصل کریں، اور میں نے ان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ میںان سے نفع حاصل کروں۔
روایت: ”میں نے اپنے رب کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے دیکھا “ ( معاذ اللہ )۔
یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔
روایت: ”باری تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک خزانہ تھا۔۔۔“۔
یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے، لیکن اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ’’باری تعالیٰ بوڑھے شخص کو صبح وشام دیکھ کر فرماتے ہیں کہ مجھے تمہارے بڑھاپے کی وجہ سے تمہیں آگ میں عذاب دینے سے حیاء آتی ہے‘‘۔
یہ حدیث بھی اب تک نہیں مل سکی۔
روایت: ’’إني إذا أطعت رضيت، وإذا رضيت باركت، وليست لبركتي نهاية، وإني إذا عصيت غضبت، وإذا غضبت لعنت ولعنتي تبلغ السابع من الولد‘‘. بے شک جب میری اطاعت کی جائے تو میں راضی ہو جاتا ہوں، اور جب میں راضی ہوتا ہوں تو برکت دیتا ہوں اور میری برکت کی کوئی حد نہیں ہے، اور اگر میری نافرمانی کی جائے تو میں ناراض ہوتا ہوں، اور اگر میں ناراض ہوجاؤں تو لعنت کرتا ہوں اور میری لعنت اولاد میں سات پشتوں تک پہنچتی ہے۔