روایت: ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’عليكم بلا إله إلا الله والاستغفار، فأكثروا منهما، فإن إبليس قال: أهلكتهم بالذنوب وأهلكوني بالاستغفار، فلما رأيت ذلك منهم أهلكتهم بالأهواء، فهم يحسبون أنهم مهتدون، فلا يستغفرون‘‘. لاالہ الا اللہ اور استغفار کو بہت کثرت سے پڑھا کرو، شیطان کہتا ہے کہ میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے استغفار سے ہلاک کردیا، جب میں نے دیکھا (کہ یہ تو کچھ بھی نہ ہوا) تو میں نے ان کو ہوائے نفس (یعنی بدعات) سے ہلاک کیا، وہ اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے رہے، سو وہ استغفار نہیں کرتے تھے‘‘۔
باب: توبہ و استغفار
توبہ، گناہ کی ندامت اور استغفار سے متعلق روایات۔
گروپ: اخلاق و آداب
14 روایات
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لا تنظروا في صغر الذنوب، ولكن انظروا على من اجترأتم‘‘. گناہوں کے چھوٹا ہونے کو نہیں دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ تم نے کس کے سامنے گناہ کرنے کی جرأت کی ہے‘‘۔
حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ
حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔
روایت: گناہوں کو یاد کرکے غم زدہ ہوجانے والے کےلئے روزِ قیامت شہداء کے ساتھ حشر کی بشارت۔
روایت: ’’حضرت عائشہR نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ آپ کی امت میں کوئی ایسا بھی ہے جو بلاحساب وکتاب جنت میں داخل ہوگا؟ حضورﷺ نے فرمایا : ہاں جو اپنے گناہوں کویاد کر کے روتا رہے‘‘۔
روایت: ایک گناہگار کی زبان سے کروٹ بدلنے کے دوران ’’یا رب‘‘ کا لفظ نکلنا، اور اس پر اللہ تعالی کا اس کی بخشش فرمانا۔
روایت : حضرت ابوہریرہ r کے سامنے ایک عورت کا زنا، پھر ولد ِزنا کے قتل کا اقرار کرنا، بالآخر اس کی توبہ کا قبول ہونا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے، جیسے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے، اور اس کی صفائی استغفار ہے‘‘۔
روایت: ’’ لأنين المذنبين أحب إلي من زجل المسبحين‘‘.
باری تعالی کا ارشاد ہے کہ گناہ گار بندوں کا رونا مجھے زیادہ محبوب ہے تسبیح پڑھنے والوں کی سبحان اللہ سے۔
نوجوان کی توبہ پر مشرق سے مغرب تک عذاب کا دور ہونا