روایت: ایک گناہگار کی زبان سے کروٹ بدلنے کے دوران ’’یا رب‘‘ کا لفظ نکلنا، اور اس پر اللہ تعالی کا اس کی بخشش فرمانا۔
تفصیل
’’حدیث پاک میں آیا ہے کہ ایک بندہ بڑا گنہگار تھا، اس کا نامۂ اعمال گناہوں سے سیاہ ہوچکا تھا، ایک مرتبہ اس نے نیند کے دوران کروٹ بدلی اور اس کی زبان سے ’’یارب‘‘ کا لفظ نکلا، اس کے بعد اس کو پھر نیند آگئی، اس کے نامۂ اعمال میں صرف ’’یارب‘‘ کا لفظ لکھا ہوا تھا، اللہ تعالی نے فرشتوں سے پوچھا: اے میرے فرشتو! تم نے اس کے نامۂ اعمال میں ’’یارب‘‘ کیوں لکھا ہے؟ فرشتوں نے کہا: اے اللہ! اس نے صرف یہی لفظ پکارا تھا اور پھر سوگیا تھا، اس لئے ہم نے صرف یہی لکھ دیا، اللہ تعالی نے فرمایا: اے میرے فرشتوں! میں علام الغیوب ہوں، مجھے پتہ تھا کہ یہ مجھ سے کیا مانگتا ہے، اصل میں اس نے یارب اس لئے کہا تھا کہ یہ مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہتا تھا، اس وقت اس پر نیند غالب آگئی، جس کی وجہ سے یہ سو گیا تھا، میں نے اس کے دل کے ارادے پر اس کے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے‘‘۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ تعالی کا رات کے وقت فرشتوں کی ایک جماعت کو حکم دینا کہ فلاں ناپسند بندہ کو تھپکی دے کر سلائے رکھو، فلاں محبوب بندہ کوپَر مار کر تہجد کےلئے بیدار کردو، اور فلاں فلاں مقرب بندہ کو کروٹ دے دو، وہ چاہیں عبادت کریں یا سوتے رہیں، میں ان سے راضی ہوں‘‘۔
روایت: ’’ایک صحابی r رسول کا آپ ﷺ کی خدمت میں آکر اپنے اونٹ کے بارے میں شکایت کرنا کہ وہ مجھے پوری رات سونے نہیں دیتا، اور اونٹ کا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ کہنا میں ان کو اس وجہ سے سونے نہیں دیتا کہ مجھے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں ان کی نماز فوت نہ ہوجائے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی عالم کو سہارا دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر قدم کے بدلہ میں ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں، اور اگر کوئی آدمی محبت وعقیدت کی وجہ سے کسی عالم کے ماتھے یا سر پر بوسہ دیتا ہے تو اللہ رب العزت ہر بال کے بدلہ میں اس کو نیکی عطا فرماتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا دریا کے کنارے پر عصر کی نماز کے بعد اپنی امت کےلئے رو رو کر مغفرت کی دعا مانگنا، اور ایک چڑیا کا اپنی چونچ میں چند دانے ریت کے لے جا کر دریا میں ڈالنا، پھر آپ ﷺ کے پوچھنے پر جبرائیل e کا آپ ﷺ کو بتانا کہ جس طرح چڑیا کے ریت کے چند دانوں سے دریا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے گناہ اللہ تعالی کی رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے والد یا اپنی والدہ یا اپنی پھوپھی یا اپنی خالہ یا اپنے رشتہ داروں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی تو اسے ایک مقبول حج کا ثواب ملے گا، اور جس نے اپنے والدین کی قبر کی زیارت کی یہاں تک کہ وہ وفات پا گیا تو فرشتے اس کی قبر کی زیارت کریں گے‘‘۔