التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے۔

تفصیل

’’سوال: {من عرف نفسه فقد عرف ربه}. حدیث ہے یا نہیں؟

جواب: حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے، فقط،  والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند : {من عرف نفسه فقد عرف ربه} حدیث ہے یا نہیں؟۱۸/۱۵۴ مکتبہ حقانیہ ملتان۔

حافظ صغانی l اور حافظ ابن تیمیہ l   نے بھی اسےموضوعات میں شمار  کیا ہے،دیکھئے:موضوعات الصغانی (ص:۳۵)، المصنوع (ص:۱۸۹)۔ نیزحافظ سخاویlنے  ’’المقاصد الحسنہ‘‘ (ص۶۵۷) میں، حافظ سیوطیl نے  ’’الدررالمنتثرة‘‘ (ص:۱۸۵)میں،علامہ زرکشیl نے ’’اللآلئ المنثورة‘‘ (ص:۸۶) میں، ملاعلی قاریl نے ’’الاسرار المرفوعہ‘‘ (ص:۲۳۷) میں، علامہ محمد بن محمد درویشl  نے  ’’اسنى المطالب‘‘ (رقم:۱۴۳۵) میں،علامہ احمدبن عبدالکریم غزیl  نے  ’’الجد الحثيث‘‘ (رقم:۲۳۲) میں، علامہ محمدامیر مالکیl  نے  ’’النخبۃ البہيۃ‘‘ (ص:۱۲۱) میں،اورعلامہ محمدبن خلیل طرابلسیl  نے   ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (رقم:۵۹۴)میں حافظ ابن تیمیہl کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔