{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے۔
تفصیل
’’سوال: {من عرف نفسه فقد عرف ربه}. حدیث ہے یا نہیں؟
جواب: حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے، فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند : {من عرف نفسه فقد عرف ربه} حدیث ہے یا نہیں؟۱۸/۱۵۴ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
حافظ صغانی l اور حافظ ابن تیمیہ l نے بھی اسےموضوعات میں شمار کیا ہے،دیکھئے:موضوعات الصغانی (ص:۳۵)، المصنوع (ص:۱۸۹)۔ نیزحافظ سخاویlنے ’’المقاصد الحسنہ‘‘ (ص۶۵۷) میں، حافظ سیوطیl نے ’’الدررالمنتثرة‘‘ (ص:۱۸۵)میں،علامہ زرکشیl نے ’’اللآلئ المنثورة‘‘ (ص:۸۶) میں، ملاعلی قاریl نے ’’الاسرار المرفوعہ‘‘ (ص:۲۳۷) میں، علامہ محمد بن محمد درویشl نے ’’اسنى المطالب‘‘ (رقم:۱۴۳۵) میں،علامہ احمدبن عبدالکریم غزیl نے ’’الجد الحثيث‘‘ (رقم:۲۳۲) میں، علامہ محمدامیر مالکیl نے ’’النخبۃ البہيۃ‘‘ (ص:۱۲۱) میں،اورعلامہ محمدبن خلیل طرابلسیl نے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (رقم:۵۹۴)میں حافظ ابن تیمیہl کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔
{عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. اللہ کے اولیاء کے تذکروں میں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘، یہ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے۔
{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
’’غدیر کے دن حضرت علی r کے بارے میں آپﷺ کے ارشاد {من کنت مولاه فعلي مولاه} پر ایک منافق کی ناگواری اور آسمان سے اس پر پتھر کا برسنا‘‘، پتھر گرنے کا قصہ واہی موضوع ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔