روایت: ’’حضرت اویس قرنیl کا آپﷺ کی موافقت میں اپنے دانت توڑنا‘‘، نیز اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی زبان زدِ عوام ہے کہ ’’دانت نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کے لئے کیلے کا درخت اگایا‘‘ ۔
حکم: ملا علی قاری lفرماتے ہیں: ’’جان لو! لوگوں کی زبانوں پر جو مشہور ہے کہ اویس l نے جب یہ سنا کہ غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کے دانت ٹوٹ گئے ہیں تو انہوں نے غم کی شدت کی وجہ سے اپنے سارے دانت توڑدئیے، کیونکہ انہیں کسی معتمد ذریعہ سے معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ آپﷺ کا کون سا دانت شہید ہوا ہے، سو علماء کے ہاں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، ساتھ ساتھ یہ بھی کہ یہ شریعت غراء کے بالکل خلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صحابہp میں سے کسی ایک نے بھی ایسا نہیں کیا، اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ یہ عبث کا م ہے، ایسا کام صرف بے وقوف ہی کرسکتا ہے‘‘، نیز ملا علی قاری lکے کلام سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ کیلے کی حکایت بھی علماء کے نزدیک ’’بےاصل ‘‘ہے، الحاصل اسے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
ملتی جلتی احادیث
روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔
روایت: ’’اللہ عز وجل نے یوشع بن نون eکی طرف وحی بھیجی: میں آپ کی قوم میں سے چالیس ہزار پسندیدہ اور ساٹھ ہزار شریر لوگوں کو ہلاک کرنے والا ہوں، یوشع بن نون e نے عرض کیا: اے رب! شریر لوگ تو سمجھ میں آتے ہیں، پسندیدہ لوگوں کی کیا وجہ ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے، اور وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، پینا کرتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: رجب کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، اور اس کے دن چھٹے آسمان کے دروازوں پر لکھے ہوئے ہیں، جو کوئی پرہیزگاری کے ساتھ روزہ رکھتا ہے، تو وہ دروازہ اس کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک بستی والوں کو عذاب دیا گیا جس میں دس ہزار لوگ تھے، جن کا عمل انبیاءE کا عمل تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ اللہ تعالی کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے تھے، اور نیکی کا حکم نہیں کرتےتھے اور نہ ہی برائی سے روکتے تھے‘‘۔