روایت: ’’×تخلقوا بأخلاق الله÷ (اللہ کے اخلاق اپناؤ)‘‘،صوفیانہ کلام ہے،حدیث کی کسی کتاب میں نظر سے نہیں گذرا۔
تفصیل
’’سوال: ×تخلقوا بأخلاق الله÷ [اللہ کے اخلاق اپناؤ] کیا حدیث ہے؟
جواب: ×تخلقوا بأخلاق الله÷ [اللہ کے اخلاق اپناؤ] صوفیانہ کلام ہے، حدیث کی کسی کتاب میں نظر سے نہیں گذرا‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ : تخلقوا باخلاق الله کیا حدیث ہے،۲/۴۵۸۔
حافظ ابن قیم l’’مدارج السالكين‘‘(۳/ ۱۸۰)میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت باطل ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’جس میں یہ چار خوبیاں ہوں اس کا ایمان کامل ہے، اگرچہ وہ سراپا خطاؤں میں (ڈوبا) ہو: سچائی،شکر،حیا، اور اچھے اخلاق‘‘َ۔ یہ حدیث بھی اب تک نہیں ملی۔
روایت: ’’زمین سے اگنے والی ہر سبز گھاس میں ایک حکمت موجود ہے‘‘، یہ حدیث نہیں ہے۔
روایت: ’’ہر چیز کا کوئی دفینہ ہوتا ہے، اور تقوٰی کا دفینہ عارفین کے دل ہیں‘‘، یہ متن صاحب رسالت ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ اہل تصوف کا کلام ہے
روایت: ’’مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،لیکن علامہ سخاوی l وغیرہ کا خیال ہے کہ اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ’’نماز مؤمن کی معراج ہے‘‘،یہ حدیث نہیں ہے، کسی کا مقولہ ہے۔