روایت:’’حضرت فاطمہ R کا روزے کی حالت میں آدھی روٹی کھانا، اور آدھی روٹی آپ ﷺ کےلئے دوپٹے میں باندھ لینا، اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ نے کچھ نہ کھایا ہو، پھر خود اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کو وہی آدھی روٹی کھلائی، اور پھر حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے‘‘۔
باب: اہلِ بیت
حضرت فاطمہ، حسنین کریمین اور اہلِ بیتِ نبوی کے فضائل و واقعات۔
گروپ: صحابہ و اہلِ بیت
11 روایات
روایت: ’’خُذُ وا شَطْرَ دِینِکم عن الحُمَیرَاء‘‘. تم اپنا نصف دین حمیراء (حضرت عائشہ R) سے حاصل کرو۔
روایت: حضرات اہل بیت کا مسکین،یتیم اور قیدی پر اِیثاراور تین دن بھوکا رہنا۔
’’مصنف عبد الرزاق‘‘ میں مذکور حضرت فاطمہ R کے نکاح کا قصہ، من گھڑت ہے،اور ’’صحیح ابن حبان‘‘ میں مذکور اسی جیسا واقعہ بھی نکارت پر مبنی ہے۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
’’حضرات حسنین q کااپنی خوش خط آپ ﷺ کو،پھر ابوبکر r کو، بالآخر اللہ کو دکھانا [معاذاللہ]‘‘،یہ محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں،اس کا واعظ فاسق ہے اس کا وعظ سننا حرام ہے۔
’’حضرت فاطمہ R کا حضرت علی r کے غصہ اور ناگواری کی شکایت فرمانا اورآپﷺ کا ان سے یہ فرمانا کہ اگر علی r نے تمہیں اس غصہ کی حالت میں طلاق دیدی، تو مشکل پڑجائے گی‘‘، یہ کھلا جھوٹ اور ناپاک الزام ہے۔
’’شِمْر قاتل امام حسین r بڑا حافظ قرآن تھا۔۔۔‘‘، یہ ڈھکو سلا جہال واعظین کا ہے۔
روایت: آپ ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے پوچھنے پر فرمانا کہمیری تم سے محبت ایسی ہے جیسے رسی کی گرہ۔
نبیﷺکا حضرت فاطمہ R کے عقدِ نکاح میں چھوہاروں کے لٹانے کی روایت من گھڑت ہے۔