التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)

روایت:’’حضرت فاطمہ R کا روزے کی حالت میں آدھی روٹی کھانا، اور آدھی روٹی آپ ﷺ کےلئے دوپٹے میں باندھ لینا، اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ نے کچھ نہ کھایا ہو، پھر خود اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کو وہی آدھی روٹی کھلائی، اور پھر حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے‘‘۔

تفصیل

’’ایک مرتبہ حضرت علی r کے گھر میں سب نے روزہ رکھا، حضرت فاطمہ R کے دو چھوٹے بچوں نے بھی روزہ رکھا، مغرب کا وقت ہونے والا تھا، سب مصلا بچھا کر رو رو کر دعا مانگ رہے تھے، حضرت فاطمہ R نے دعا ختم کرکے چار روٹیاں بنائیں، اس سے زیادہ اناج گھر میں نہیں تھا، پہلی روٹی اپنے شوہر علی r کے سامنے رکھ دی، دوسری روٹی اپنے بڑے بیٹے حسنr کے سامنے رکھ دی، تیسری روٹی اپنے چھوٹے بیٹے حسین r کے سامنے رکھ دی، اور چوتھی روٹی اپنے سامنے رکھ لی۔

مسجد نبوی میں اذان ہونے لگی، سب نے روٹی سے روزہ کھولا، مگر حضرت فاطمہ R نے آدھی روٹی کھائی اور آدھی روٹی دوپٹے سےباندھنے لگیں، حضرت علی r نے دیکھا تو کہا: اے فاطمہ! تمہیں بھوک نہیں لگی؟ ایک ہی تو روٹی ہے اس میں سے بھی آدھی روٹی دوپٹے میں باندھ رہی ہو؟ فاطمہ R نے کہا: اے علی! ہو سکتا ہے کہ میرے بابا جان کو افطاری میں کچھ نہ ملا ہو، وہ بیٹی کیسے کھائے گی جس کے باپ نے کچھ نہ کھایا ہو؟

فاطمہ R دوپٹے میں روٹی باندھ کر چل پڑیں، ادھر ہمارے نبی ﷺ مغرب کی نماز پڑھ کر تشریف لارہے تھے، حضرت فاطمہ R کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر آپ ﷺ نے پوچھا: اےفاطمہ! تم اس وقت دروازے پر کیسے آئی ہو؟ فاطمہ R نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اندر تو چلیں، حضرت فاطمہ R کی آنکھوں میں آنسوں تھے، کہنے لگیں: جب افطار کی روٹی کھائی تو مجھے آپ کی یاد آگئی کہ شاید آپ نے کچھ نہ کھایا ہو، اس لئے آدھی روٹی دوپٹے سے باندھ کر لے آئی ہوں، روٹی دیکھ کر نبی ﷺکی آنکھوں میں آنسوں آگئے، پھر فرمایا: اے فاطمہ! اچھا کیا کہ روٹی لے آئی، ورنہ چوتھی رات بھی تیرے بابا کی اسی حالت میں نکل جاتی، دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رونے لگے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے روٹی مانگی، فاطمہ R نے کہا: بابا جان! آج میں خود اپنے ہاتھوں سے روٹی کھلاؤں گی، پھر اپنے ہاتھ سے کھلانے لگیں، جب روٹی ختم ہوگئی تو حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا:  اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے۔

حوالہ جات

[1]  الطبقات الكبرى:1/306،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .

[2] التاریخ الکبیر:1/130،رقم:381،ت:مصطفى عبد القادرعطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429 هـ .

[3] الضعفاء الكبير:۳/۳۲۴،رقم:۱۳42،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة 1404هـ .

[4] الجوع:ص:۳۶،رقم:۱۵ت:محمد خير رمضان يوسف،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الثانية1421 هـ .

[5] المعجم الكبير:۱/۲۵۸،رقم:۷۵۰،ت:حميدي عبد المجيد السلفي،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة .

[6] فضائل فاطمة الزهراء:ص:۱۳۷،رقم:2۰۱،ت:علي رضا بن عبد الله بن علي رضا،دار الفرقان ـ القاهرة، الطبعة الأولى1429هـ .

[7] تاريخ دمشق:۴/1۲۲،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1418هـ .

[8] الأحاديث المختارة:۷/1۶۶،رقم:۲۵۹۶،ت:عبد الملك بن عبد الله بن دهيش،دار خضر ـ بيروت، الطبعة الثالثة1420هـ .

ملتی جلتی احادیث