’’شِمْر قاتل امام حسین r بڑا حافظ قرآن تھا۔۔۔‘‘، یہ ڈھکو سلا جہال واعظین کا ہے۔
تفصیل
’’سوال: وعظ میں سنا ہے کہ شِمْر قاتلِ امام حسین r بڑا حافظ قرآن تھا، بروقت قتل کرنے امام ہمام کے، نوسیپارہ ذرا دیر میں پڑھ لئے تھے، یہ سچ ہے یا غلط ہے؟
جواب: یہ قصہ ڈھکو سلا، جہال واعظین کا ہے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : کیا شمر حافظ قرآن تھا، ص: ۲۴۲، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
’’حضرت معاویہ r نے حضرت امام حسین r سے اقرار نامہ لکھا تھا کہ تا زندگی یزید کو ولی عہد نہ کروں گا‘‘، یہ بات واہی ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
’’حضرت عائشہ R امامِ ثالث (حضرت عثمان r )کو نَعْثَل[بے وقوف بڈھا] کہتی تھیں اور لعنت کرتی تھیں‘‘، معاذ اللہ یہ روافض کا محض طوفانِ بہتان ہے، اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یہ بات نہیں۔
’’حضرت علی r کی اجازت کے بغیر کوئی صراط پر سے نہ گزرے گا، نیز قبرمیں سب سے حضرت علی r کی امامت کا سوال کیا جائےگا‘‘، یہ روافض کی روایات ہیں۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔