نبیﷺکا حضرت فاطمہ R کے عقدِ نکاح میں چھوہاروں کے لٹانے کی روایت من گھڑت ہے۔
تفصیل
’’۔۔۔اور سنت جان کر لُوٹنا اور لُٹانا [یعنی چھوہارے] بدعت ہے، اور روایت لُٹانے آنحضرت ﷺ کی، عقدِنکاح حضرت فاطمہ R میں، اگرچہ بعض کتبِ سیر مانند ’’مواہب‘‘ و’’مدارج‘‘ و’’روضۃ الاحباب‘‘ میں منقول ہے، لیکن موضوع ہے، ’’فوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة‘‘ میں مرقوم ہے:
{أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوج إمرأة من نسائه فنشروا على رأسه تمر عجوة. رواه الخطيب عن عائشة رضي الله عنها مرفوعا، وفي إسناده سعيد بن سلام كذاب، والحديث باطل». [یعنی نبی ﷺ کا اپنی ازواج میں سے کسی ایک سے نکاح ہوا،جس میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کے سرہانے عجوہ کھجور لُٹائی۔اسے خطیبl نے عائشہ R سے موفوعاً تخریج کیا ہے،اور اس روایت کی سند میں سعید بن سلام کذاب راوی ہے،نیز یہ حدیث باطل ہے]۔
اور ’’ میزان اعتدال‘‘ میں مسطور ہے :
{محمد بن دينار العرفي عن هيثم [كذا في الأصل، والصحيح العِرْقِي عن هشيم] أتى بحديث كذب، ولايدری من هو}. [یعنی محمد بن دینار عِرْقِی نے ہُشَیْم سے ایک جھوٹی حدیث نقل کی ہے،نہ معلوم یہ کون ہے]۔
اور ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان الميزان‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ وہ حدیث جھوٹی ہے، کہ جس میں انتہابِ[لُٹانا] چھواروں کا ذکر ہے، عقد نکاح حضرت فاطمہ R میں، اور مانند اسی کے ذکر کیا ہےسیوطی l نے ’’لآلئ المصنوعة في الأحادیث الموضوعة‘‘ میں،اور عراقی [اصل میں اسی طرح ہے،صحیح ابن عراق l ہے]نے ’’تنزيه الشریعة‘‘ میں، اور ذہبی l نے ’’تمحیض‘‘ میں[اصل میں اسی طرح ہے،صحیح تلخیص ہے]، اور سوا اس کے اور احادیث سے جو کھجوروں کے لٹانے پر بعض دلیل لائے ہیں، وہ سب موضوع ہیں اور قابل احتجاج کے نہیں، اس حدیث کو کہ: {تزوج (رسول الله) صلى الله عليه وسلم إمرأة من نسائه فنثروا على رأسها تمر عجوة}. [یعنی رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج میں سے کسی ایک سے نکاح ہوا،جس میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کی زوجہ R کے سرہانے عجوہ کھجور لٹائی]۔
ابن طاہر پٹنی l نے اپنے ’’ تذکرہ‘‘ میں اور شوکانی l نے اپنی کتاب ’’موضوعات ‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے، اور اس کے اسناد میں سعید بن سلام کذاب ہے اور ’’تنزیہ الشریعۃ ‘‘ میں (سعید بن سلام کے متعلق ) مذکور ہے :
{قال أحمد وابن معين: كذاب. وقال البخاري: يذكر بوضع الحديث}. [یعنی اس سعید کو احمد l و ابن معین l نے کذاب کہا ہے،اور بخاری l فرماتے ہیں کہ اس کا ذکر حدیث گھڑنے میں کیا جاتا ہے]۔
اور حدیث: {لم أنهكم عن نهبة الولاء [ کذا في الأصل والصحیح: الولائم]} بھی موضوع ہے، اس کے اسناد میں بشربن ابراہیم ہے کہ روایت کرتا ہے موضوعات کو، ایسا ہی ذکر کیا ابن طاہر پٹنیl اور شوکانی l نے اور ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ میں مرقوم ہے:
{قال ابن حبان وغيره: كان يضع الحديث}. [یعنی اس بشر کے بارے میں ابن حبان l وغیرہ کا کہنا ہےکہ یہ حدیث گھڑتا تھا] واللہ تعالیٰ اعلم!
انتہاب [لُٹانا] بلاشبہ باعثِ فساد ہے، اگر یوں ہی تقسیم کرے بغیر اعتقادِ سنیت تو شیوع اور قرینہ اباحت میں ہے‘‘[1]۔
ملتی جلتی احادیث
’’آپ ﷺ نے فرمایا: آدم e نے بحق محمدﷺ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا‘‘، یہ روایت من گھڑت ہے۔
’’حضرت فاطمہ R کا حضرت علی r کے غصہ اور ناگواری کی شکایت فرمانا اورآپﷺ کا ان سے یہ فرمانا کہ اگر علی r نے تمہیں اس غصہ کی حالت میں طلاق دیدی، تو مشکل پڑجائے گی‘‘، یہ کھلا جھوٹ اور ناپاک الزام ہے۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’حضرات حسنین q کااپنی خوش خط آپ ﷺ کو،پھر ابوبکر r کو، بالآخر اللہ کو دکھانا [معاذاللہ]‘‘،یہ محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں،اس کا واعظ فاسق ہے اس کا وعظ سننا حرام ہے۔