التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)

روایت: ’’خُذُ وا شَطْرَ دِینِکم عن الحُمَیرَاء‘‘. تم اپنا نصف دین حمیراء (حضرت عائشہ R) سے حاصل کرو۔

حکم: بے سند وبے اصل ہے، بیان نہیں کرسکتے۔

تفصیل

اعزاز وامتیاز ہر قوم کا قابلِ قدر سرمایہ ہوتا ہے،البتہ بعض خوبیاں قومی شناخت بن جاتی ہیں، جس پر قوم کا ہر فرد فخر محسوس کرتاہے، امّت محمدیہ ـ زادها اﷲ شرفاً بنَبِیِّها ـ ایسی ہی گراں قد ر شرافتوں سے آراستہ ہے،جس نے اقوام عالم میں اسے شاہانہ مقام بخشا ہے، انہیں مناقب میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ ملت کا ہر فرد ایک مستحکم واسطے،یعنی ’’اسناد‘‘ کے ذریعے اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات سے جڑا ہوا ہے،ملا علی قاری l اس نعمت عظمی کی اہمیت ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں:

’’أصل الإسناد خَصِیصَةٌ فاضلةٌ مِنْ خَصَائص هذه الأمّة،وسنةٌ بالغةٌ مِنْ السُّنَن المؤکَّدة، بل مِنْ فُرُوضِ الکِفَایَة‘‘[1]. اس امت کی ایک بڑی شرافت والی خصوصیت، اس کا اسنادی اسا س سے مُتَّصف ہونا ہے،جو مؤکدہ سنتوں میں ایک بڑی سنت ہے،بلکہ اس کا جاننا فرضِ کفایہ ہے۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ شریعتِ اسلامی کا تحریف وتصحیف سے محفوظ رہنا، اسی ’’اسناد‘‘ کے مبارک نتائج ہیں،امام ابو عبد اﷲ حاکم نَیسَابُورِی l فرماتے ہیں:

’’فلولا الإسناد وطَلَبُ هذه الطائفِة له،وکثرةُ مُوَاظَبَتِهم علی حِفْظِه، لَدَرَسَ مَنَارُ الإسلامِ، وتَمَکّن أهل الإلْحَادِ والبِدع منه، بِوَضْع الأحادیث، وقَلْبِ الأسانید؛ فإنّ الأخبار إذا تَعَرّتْ عن وجود الإسناد فیها کانت بُتْراً‘‘[2].

’’اگر اسناد نہ ہوتی اوریہ جماعت اسناد کی تلاش اور اسکی حفاظت میں خاص اشتغال نہ رکھتی،تو اسلام کے نشانات تک مٹ جاتے، ملحدین اوراہل بدعت من گھڑت حدیثوں اورانکی سندوں میں ہیر پھیر کرکے اسلام پر قابض ہوجاتے؛ کیونکہ حدیثیں سندوں سے خالی ہو کر، ناقص رہ جاتی ہیں‘‘۔

ذیل میں اسی فریضے کے پیشِ نظر ایک ایسی روایت پیش کی جائی گی، جو محدثین رحمہم اللہ تعالی کے نزدیک کسی سند سے ثابت نہیں ہے؛ اس لئے اس کا بیان کرنا بھی درست نہیں ہے (تفصیل آگے آئے گی)، اس کے باوجود یہ روایت زبان زَد عام ہے۔

حوالہ جات

[1]  شرح شرح نخبة الفكر:العلو المطلق:617،قديمي كتب خانه ـ کراچی .

[2] معرفة علوم الحديث: ذكر أول نوع،ص:6،ت:السيد معظم حسين،دارالكتب العلمية ـ   بيروت،الطبعة الثانية۱۳۱۹هـ .

[3] النهاية في غريب الأثر:2/158،ح م ر،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1422هـ .

شیخ عبد الفتاح ابو غدہ l ’’المصنوع‘‘ کی مذکورہ روایت کے تحت لفظ ’’حُمیراء‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’الحُمَيْرَاء تصغير حَمْرَاء بمعنى بَيْضَاء اللون مُشْرَب بَيَاضِها بحمره والعرب تُسَمِّي الرجلَ الأبيض: أحمر، والمرأةَ: حَمْرَاء، وكانت عائشة رضي الله عنها كذالك، وهي المقصودة بالحُمَيْرَاء هنا (المصنوع:98،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ  ایم ـ  سعید کمپنی کراچی) .

[4] تحفة الطالب:170،رقم:54، عبد الغني بن حميد،دار حراء ـ المكة المكرمة،الطبعة الأولى1406هـ .

 

[5] المقاصد الحسنة:232،رقم:430،ت:عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱427هـ .

[6] الدرر المنتثرة:138،رقم:209،ت:محمدعبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰8هـ .

[7] المصنوع:98،رقم:121،ت:الشيخ عبد الفتاح أبوغدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی ـ کراچی .

[8] الفوائد المجموعة:ذكر عائشة،399،رقم:۱3۹،ت:عبدالرحمن بن يحيى،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة1416 هـ .

[9] أسنى المطالب:1/131،رقم:600،دارالكتب العلمية ـ بيروت .

[10] الجد الحثيث:91،رقم:141،ت:فواز أحمد زمرلي،دار ابن حزم .

[11] تذكرة الموضوعات: ما ورد في مناقب الصحابة: ص:100،كتب خانه مجيديه ملتان ـ باکستان .

[12] المصنوع:18،ت:الشيخ عبد الفتاح أبوغدة،ایچ ـ ایم ـ سعید کمپنی ـ کراچی .