1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
تفصیل
’’سوال: 1 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ حضرت بلال r کو رسول اللہﷺ نے بعوض حضرت امام حسنین q کے خریدکیا، برضامندی ان کے والدین q کے، یہ قصہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو زید پر کیا حکمِ شرعی نافذ ہوگا؟ اور بلال ایک ہی تھے، یا کئی، عمرو اس کو باطل کہتا ہے؟
’’سوال: 2 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ ابو ہریرہ r کا نکاح ہوا اور ان کی زوجہ نے کھانا پکا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجنے کو کہا، ابوہریرہ r کا نکاح ہوا یا نہیں، اور ابوہریرہ r ایک ہی شخص تھے، یا چند صحابیوں کا نام تھا؟
’’سوال: 3 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ شبِ معراج رسول اللہ ﷺ نے ایک حور کا نور پھیلا ہوا دیکھ کر اس کو سجدہ کیا نورِخدا سمجھ کر، حور نے کہا یا ندا ہوئی کہ یا رسول اللہ ﷺ!آپ کو دھوکہ ہوا، میں حورہوں، یہ قصہ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح نہیں تو ایسا عقیدہ رکھنے والا کون ہے؟ عمرو کہتا ہے یہ افتراء ہے اور خلافِ قرآن ہے۔
’’سوال: 4 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ میں تم کو بروزِ شبِ برات حلوا پکانے کو منع نہیں کرتا، اگرچہ ثابت نہیں، مگر میں تم کو ایک طریقہ سنت کا بتاتا ہوں، وہ یہ ہے کہ تم چاول، دہی، شہد، شب برات کو پکاؤ، مُردوں کی روح کو ثواب پہنچاؤ، باہم تقسیم کرو، رسول اللہ ﷺ نے شبِ برات کو پکوایا ہے، اے مفتی صاحبو! اس کی کچھ اصلیت ہے، یا نہیں، عمرو کہتا ہے کہ یہ لااصل ہے ؟
’’سوال: 5 زید نے وعظ میں بیان کیا کہ شبِ برات میں تین غسل کرنے چاہئیں، ایک اول شب میں، ایک آدھی رات کو، ایک اخیر رات کو، اے مفتی صاحبو! اس کی بھی کچھ اصلیت ہے، یا نہیں، عمرو کہتا ہے کہ یہ لااصل ہے ؟
’’سوال: 6 عمرو نے لوگوں سے پوچھا کہ شب برات کو حلوا یا چاول یا دہی یا شہد پکانا کیسا ہے؟ عمر ونے کہا خصوصیتِ ایام محض باطل ہے، مُردوں کو ثواب جب چاہو پہنچاؤ، کسی دن اور کسی طعام کو خاص مت کرو ۔ ۔۔۔
جوابِ ذیل از جناب برکت مآب زبدۃ العارفین عمدۃ المحدثین حضرت مولانا مولوی رشید احمد صاحب مد فیوضہم گنگوہی وعلمائے دیوبند۔
جواب: رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والا مستحق وعظ گوئی نہیں، بلال r اور بھی ایک صحابی کا نام تھا، پروہ حر الاصل[یعنی شروع سے آزاد تھے،غلام نہ] تھے، ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، یہ نکاح کے کھانے کا آپ [ﷺ] کی خدمت میں پہنچنا لا اصل ہے، ابوہریرہ r اور کسی صحابی کا نام نہیں، شبِ معراج نورِ حور کو، آنحضرت ﷺ کا سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأى). [جھوٹ نہیں کہا رسول(اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا]صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے، شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں، ان مسائل میں قولِ عمرو صحیح ہے اور قولِ زید باطل۔ واللہ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : ایک جاہل واعظ کی بیان کی ہوئی سات بے اصل باتوں کی حقیقت، ص: ۵۶۸ -۵۷۳،دار الکتاب لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’حضرات حسنین q کااپنی خوش خط آپ ﷺ کو،پھر ابوبکر r کو، بالآخر اللہ کو دکھانا [معاذاللہ]‘‘،یہ محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں،اس کا واعظ فاسق ہے اس کا وعظ سننا حرام ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
’’ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں‘‘، یہ کہیں ثابت نہیں ہے،یہ روایات واہیہ ہیں، اس پر ہرگز عقیدہ نہیں رکھنا چاہیئے۔
’’آپ ﷺ نے فرمایا: آدم e نے بحق محمدﷺ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا‘‘، یہ روایت من گھڑت ہے۔