التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: اخلاص و اصلاحِ قلب

اخلاص، ریاکاری، دل کی صفائی، غور و فکر اور محاسبۂ نفس۔

گروپ: اخلاق و آداب

17 روایات

  1. روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔

  2. روایت: ’’ایک مرتبہ ایک صحابی r نے نبی e سے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! لوگوں کے دلوں میں جو مخلوق کی محبت آجاتی ہے اس کی پہچان کیا ہے؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سهر الليالي وإرسال اللآلئ‘‘. انسان راتوں کو جاگتا ہے اور موتی بہاتا ہے‘‘۔

  3. روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’يا أبا ذر! جدد السفينة، فإن البحر عميق، وخفف الحمل، فإن السفر بعيد، واحمل الزاد، فإن العقبة طويلة، وأخلص العمل، فإن الناقد بصير‘‘. اے ابو ذر! کشتی بنا سنوار لو، کیونکہ سمند بہت گہرا ہے، اوربوجھ ہلکا رکھو، کیونکہ سفر بہت دور ہے، اور توشہ لو، کیونکہ گھاٹی لمبی ہے، اور عمل کو خالص رکھو، کیونکہ پرکھنے والا خوب نظر رکھنے والا ہے‘‘۔

  4. روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔