روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔
باب: اخلاص و اصلاحِ قلب
اخلاص، ریاکاری، دل کی صفائی، غور و فکر اور محاسبۂ نفس۔
گروپ: اخلاق و آداب
17 روایات
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’كل ما شغلك عن الله فهو معبودك‘‘. ہر وہ چیز جو تجھے اللہ سے غافل کردے وہی تیرا معبود ہے‘‘۔
روایت: ’’ایک مرتبہ ایک صحابی r نے نبی e سے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! لوگوں کے دلوں میں جو مخلوق کی محبت آجاتی ہے اس کی پہچان کیا ہے؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سهر الليالي وإرسال اللآلئ‘‘. انسان راتوں کو جاگتا ہے اور موتی بہاتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ جل شانہ شبہات کے ہجوم میں گہری نظر کو محبوب رکھتا ہے، اور شہوتوں کے نزول کے وقت عقل کامل کو محبوب رکھتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’يا أبا ذر! جدد السفينة، فإن البحر عميق، وخفف الحمل، فإن السفر بعيد، واحمل الزاد، فإن العقبة طويلة، وأخلص العمل، فإن الناقد بصير‘‘. اے ابو ذر! کشتی بنا سنوار لو، کیونکہ سمند بہت گہرا ہے، اوربوجھ ہلکا رکھو، کیونکہ سفر بہت دور ہے، اور توشہ لو، کیونکہ گھاٹی لمبی ہے، اور عمل کو خالص رکھو، کیونکہ پرکھنے والا خوب نظر رکھنے والا ہے‘‘۔
روایت: ’’حسنات الأبرار سیئات المقربین‘‘. نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے گنا ہ ہوتے ہیں۔
روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
اپنے نفس کامحاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے
روایت: ۱-’’میرےآسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندے کا دل، مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘۔ ۲-’’دل رب کا گھر ہے‘‘۔
روایت: ’’فِکْرَةُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّیْنَ سَنَة‘‘. ایک گھڑی کا غور وفکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے۔