التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)

روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] تنبیه الغافلین:ص:۴۸۱،رقم:۷۵۰،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421 هـ .

[2] سنن ابن ماجه:2/1413،رقم:4228،ت:محمد فؤاد عبد الباقي,دار إحياء الكتب العربية ـ حلب .

[3] حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’النکت الظراف‘‘ میں اس روایت کے تحت فرماتے ہیں:

’’قلت: هو عند ت في الحديث الذي أوله: ثلاث أقسم عليهن، وهو قبل هذا سواء، قوله: رواه شعبة، عن الأعمش... إلى آخره، قلت: المحفوظ عن شعبة ما رواه غندر وأبو زيد الهروي عنه، عن الأعمش، سمعت سالما، عن أبي كبشة، فالقائل سمعت هو الأعمش، لا سالم، ولم يسمع سالم من أبي كبشة، وقد أخرجه أبو عوانة في صحيحه، من طريق جرير، عن منصور، عن سالم قال: حدثت عن أبي كبشة‘‘. (النكت الظراف على الأطراف تحت تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف:9/274،رقم:12146،ت:عبدالصمد شرف الدین،المکتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰3 هـ) .

ملتی جلتی احادیث