روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔
تفصیل
تحقیق کے لحاظ سے زیر بحث روایت کے دو اجزاء ہیں:
1 ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں‘‘۔
2 ’’علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔
حوالہ جات
[1] مسند أحمد:۱۱/۲۳۵،رقم:۶۶۵۵،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
[2] الترغيب والترهيب من الحديث الشريف:2/322،رقم:2،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[3] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:10/۱48،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[4] الجليس الصالح الكافي والأنيس الناصح الشافي:ص:584،ت:عبد الكريم سامي الجندي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۶هـ .
[5] حلية الاولياء:۱/۷۹،دار الفكر،الطبعة۱۴۱۶هـ .
[6] جزء فيه من الفوائد الغرائب الحسان:ص:32،رقم:16،ت:حسام محمد بوقريص،دار إيلاف الدولية ـ الكويت،الطبعة الأولى۱998ء .
[7] الفقيه والمتفقة:1/182،رقم:176،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن يوسف العزازي،دار ابن الجوزي ـ الرياض، الطبعة الأولى1417هـ .
[8] تاريخ مدينة السلام:۷/۴۰۹،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[9] كتاب الأمالي:1/۸۸،رقم:332،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[10] تاريخ دمشق:۵۰/۲۵۲،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1418هـ .
[11] التدوين في أخبارقزوين:۳/۲۰۹،ت:عزيز الله العطاردي،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۴۰4هـ .
[12] تهذيب الكمال:2۴/۲۲۰،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[13] تذكرة الحفاظ:۱/14،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱8هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت:’’ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے فقیروں اور مسکینوں کا اکرام کیا؟ آج تم جنت میں اس طرح داخل ہوجاؤکہ نہ تم پر کسی قسم کا خوف ہےنہ تم مغموم ہوگے، اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بیمار، فقیروں اور غریبوں کی عیادت کی؟ آج وہ نور کے منبروں پر بیٹھیں گے، اور اللہ عز وجل سے باتیں کریں گے، اور دوسرے لوگ حساب کی سختی میں مبتلا ہوں گے‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے تو اللہ تعالی اس کو چالیس علماء کا ثواب عطاء کریں گے، چالیس درجہ بلند کریں گے، اور چالیس حوروں سے اس کا نکاح کرائیں گے‘‘۔