التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)

روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔

تفصیل

تحقیق کے لحاظ سے زیر بحث روایت کے دو اجزاء ہیں:

1 ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں‘‘۔

2 ’’علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔

حوالہ جات

[1]  مسند أحمد:۱۱/۲۳۵،رقم:۶۶۵۵،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .

[2] الترغيب والترهيب من الحديث الشريف:2/322،رقم:2،ت:إبراهيم شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .

[3] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:10/۱48،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[4] الجليس الصالح الكافي والأنيس الناصح الشافي:ص:584،ت:عبد الكريم سامي الجندي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۶هـ .

[5] حلية الاولياء:۱/۷۹،دار الفكر،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[6] جزء فيه من الفوائد الغرائب الحسان:ص:32،رقم:16،ت:حسام محمد بوقريص،دار إيلاف الدولية ـ الكويت،الطبعة الأولى۱998ء .

[7] الفقيه والمتفقة:1/182،رقم:176،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن يوسف العزازي،دار ابن الجوزي ـ الرياض، الطبعة الأولى1417هـ .

[8] تاريخ مدينة السلام:۷/۴۰۹،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[9] كتاب الأمالي:1/۸۸،رقم:332،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[10] تاريخ دمشق:۵۰/۲۵۲،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1418هـ .

[11]  التدوين في أخبارقزوين:۳/۲۰۹،ت:عزيز الله العطاردي،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۴۰4هـ .

[12]  تهذيب الكمال:2۴/۲۲۰،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[13] تذكرة الحفاظ:۱/14،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱8هـ .

ملتی جلتی احادیث