حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب
102 احادیث ملیں
کتاب ’’نور نامہ‘‘ مجموعۂ موضوعات ہے۔
کتاب ”شرح محمدی “ میں موجود دفعِ وبا کے اس عمل کی کوئی اصل نہیں ہے۔
کتاب ”وفات نامہ “ میں بھی بعض روایتیں بالکل غلط ہیں۔
کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔
کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
ہاروت وماروت وزہرہ کا قصہ،نُقَّاد محدثین نے اسے من گھڑت کہا ہے۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
یہ کہنا کہ حضرت حمزہ r پندرہ شعبان کو فوت ہوئے ہیں، درست نہیں، بلکہ آپ r شوال میں فوت ہوئے ہیں۔