التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔

تفصیل

”میرا اعتراض صرف ناولوں پر ہی نہیں ہے جو کتابیں بھی اس قسم کی ہوں سب کو الگ کر دینا چاہیے، جیسے: ”گل بکاولی “، ”بد رمنیر “،  ”قصہ حاتم طائی“ وغیرہ وغیرہ، یہ سب جلا دینے کے قابل ہیں، تعجب ہے کہ اچھے اچھے عقلمند ان کتابوں سے اپنی اولاد کو نہیں روکتے، بلکہ خود بھی دیکھتے ہیں اور بار بار پڑھتے ہیں، بوڑھے بوڑھے آدمی اس خبط میں مبتلا ہیں، اسی طرح جو کتابیں بے اصل ہیں گو دین کی صورت میں ہوں ان کو مت پڑھو، ان کے پڑھنے سے سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کیا حاصل ہے؟! اسی جنس سے، ”معراج نامہ“ہے، عورتیں ”معراج نامہ“  بہت پڑھتی ہیں، اور ”معراج نامہ “  بکتے بھی بہت ہیں [كذا في الأصل]، علی ہذا آج کل مولد شریف کے رسالے بہت تصنیف ہو رہے ہیں، ظاہراً یہ کتابیں خیر ہی خیر ہیں،اسی وجہ سے لوگ ان پر بہت گر ویدہ ہیں، اور منع کرنا بھی ظاہراً سوء ادب معلوم ہوتا ہے، اور ظاہر بین  اور نا واقف اور جاہل لوگ منع کر نے والوں کے مخالف بھی ہو جاتے ہیں، اور ان کو بے ادب اور گستاخ سمجھتے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مانعین گستاخ نہیں، ان کے اس ممانعت کا سبب گستاخی اور بے ادبی نہیں، بلکہ اس کا اصلی سبب شان تحقیق اور ادب ہے، وہ اس کو پسند نہیں کرتے کہ غیر واقعی مضامین اللہ اور رسول کی طرف سے منسوب کئے جائیں، کیونکہ اللہ اور رسول ﷺ نے خود  ہی  اس  کو  منع  فرمایا  ہے “[1]۔

حوالہ جات

[1] خطبات حکیم الامت :اپنی اولاد کو غیر مستند کتب کے مطالعہ سے روکیے ، ۲۶/۳۲۳، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔