کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
تفصیل
”۔۔۔اس کی وجہ ایک باریک بات ہے، وہ یہ کہ کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے گو وہ کتاب ظاہراً کیسی ہی ہو، حتی کہ ایک بزرگ کسی کے مکان پر گئے تھے، پوچھا کہ یہاں بڑی ظلمت محسوس ہوتی ہے کیا بات ہے؟ صاحب خانہ نے کہا کہ یہاں ظلمت کی کوئی وجہ نہیں، یہاں قرآن شریف کی تفسیر رکھی ہے، پوچھا کونسی تفسیر ہے؟ کہا کہ ”تفسیر کشّاف“ ہے، کہا کہ یہ اسی تفسیر کی ظلمت ہے،کیونکہ یہ ایک معتزلی کی تصنیف ہے، دیکھئے ! مصنف کی قلبی ظلمات اس کتاب میں موجود تھیں، اسی طرح مصنف کے قلبی انوار بھی اس کی تصنیف میں موجود ہوتے ہیں۔
پرانے عام لوگوں کے قلوب میں اتنی ظلمات نہ تھیں جتنی آج کل کے قلوب میں ہیں، اس واسطے ان کی نامناسب تصنیف میں بھی اتنی برائی نہیں جتنی آج کل کی تصانیف میں ہیں، بلکہ ایسے لوگوں کی تصانیف جو اہل دل تھے مطلق ظلمت نہیں رکھتیں، گو ان میں کیسا ہی نا مناسب مضمون ہو، دیکھئے! ”یوسف زلیخا“ جامیl کی کیسی کتاب ہے،بعض جگہ اس میں ظاہراً حسن و عشق کے مضامین ہیں، خصوصاً زلیخا کا سرا پا لکھنے میں تو ذرا بھی کوتا ہی نہیں کی گئی، مگر آپ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ اس کو پڑھ کر کسی پر برا اثر پڑا ہو، ” یوسف زلیخا“ پرانے مکتبوں میں داخل درس تھی، اور اب تک بھی ہے، مگر اس کے پڑھنے والوں میں سے کسی پر بھی بے حیائی کا اثر نہیں پڑا، اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ تصنیف ایک اہل دل کی ہے جن کا قلب نہایت سلیم تھا، ان کی سلامت قلب ان کے کلام کے اندر موجود ہے۔
خوب یاد رکھئے کہ جب کوئی کتاب دیکھنا ہو تو اول اس کے مصنف کے حالات معلوم کر لیجئے، جس مذاق کا وہ ہوگا وہ مذاق اس کتاب سے دیکھنے والے میں ضرور متعدی ہوگا، یہ بڑے کام کی بات ہے، آج کل کے ناول نویس خود اخلاق ذمیمہ سے بھر ے ہو ئے ہیں، ان کی کتابیں خواہ کسی پیر ایہ میں ہوں ان کے اخلاق کو کتاب کے دیکھنے والوں میں ضرور پہنچا دیتی ہیں، یہ راز ہے اس کا کہ ناول لکھے جاتے ہیں تہذیب اور اخلاق کے لئے، اور ہوتی ہے تخریب ِاخلاق“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت :مصنف کی قلبی ظلمت کا تصنیف پر اثر ، ۲۶/۳۲۲، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔
جھوٹے فضائل میں فطری ظلمت ہے، نیز موضوع روایتیں زبان کے بدترین گناہوں میں سےہیں۔
من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔