کتاب ’’نور نامہ‘‘ مجموعۂ موضوعات ہے۔
تفصیل
”ازاں جملہ ایک کتاب ”نور نامہ“ہے جو مجموعۂ موضوعات ہے، مگر ایسا رائج ہوا ہے [كذا في الأصل] کہ سب لوگ خصوصاً عورتیں اس کو بہت شوق سے پڑھتی ہیں، اور لکھنے والوں نے بھی غضب ہی کیا ہے کہ بجائے منع کر نے کے اس کے فضائل لکھ دیے ہیں کہ جو کوئی اس کو جمعرات کو پڑھے تو اس پر آتشِ دوزخ حرام ہو جاوے، اہل علم جمعرات کی قید ہی سے پرکھ جاتے ہیں کہ یہ فضیلت ایجاد شدہ ہے، بنائی ہوئی بات کہیں چُھپتی ہے ؟! کسی بات میں اتنا مبالغہ اس کے بے اصل ہونے کی دلیل ہوتی ہے، ایسی ہی کتابوں نے اسلام کو بدنام کر دیا، ہر گز اس کا پڑھنا جائز نہیں“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : ایجاد بندہ ، ۲۶/۳۲۰ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
کتاب ”وفات نامہ “ میں بھی بعض روایتیں بالکل غلط ہیں۔
کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔
من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔
کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔