کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
تفصیل
”اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ [دعائے گنج العرش ] قرآن و حدیث میں آئی، افتراء علی الشرع ہے، اور محض جہالت اور بدعت ہے، ہاں! وہ دعا فی نفسہ ٹھیک ہے، لیکن جو دعائیں قرآن و حدیث میں آئی ہیں وہ اس سے بدرجہا افضل ہیں، اور عجیب بات ہے کہ قرآن و حدیث کی تو کسی دعا کی یہ فضیلت نہیں آئی کہ اس کے پاس رکھنے سے نہ تلوار اثر کر ے گی نہ آگ، تو اس دعا کی یہ فضیلت کہاں سے آگئی؟ یہ اسناد اور فضائل اس دعا کے تاجروں نے ترا شے ہیں، تاکہ ان کو دیکھ کر ہر شخص کو رغبت ہو، اور تجارت خوب چلے، تو اسناد اور فضائل کا تو بالکل جھوٹ اور ان اسناد کا پڑھنا اور عقیدہ رکھنا سب ناجائز، اور نفس ”دعائے گنج العرش “ بلحاظ مضمون کے جائز ہے، لیکن چونکہ اس کے پڑھنے والوں کے خیالات اس کی نسبت بہت بڑھے ہوئے ہیں، اور وہی فضائل ذہن میں جمے ہو ئے ہیں جو اس کے ساتھ لکھے ہو ئے ہیں۔
اس واسطے سداً للباب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ نفس دعا کا پڑھنا بھی چھوڑدیں، اس کی جگہ قرآن و حدیث کی دعا ئیں اس قدر موجود ہیں کہ تمام دن پڑھے جائیے، اور ایسی دعائیں ہیں کہ ان کی فضیلت کو کوئی دعا بھی نہیں پہنچ سکتی، الفاظ کی بندش ہی کی نسبت میں کہتا ہوں کہ پڑھنے سے خود معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کی تصنیف ہے اور یہ کس کی تصنیف ہے، ”گنج العرش“ کسی معمولی عربی دان کی تصنیف ہے، ان [یعنی آپ ﷺ] کی شان یہ ہے: {أنا فصیح العرب والعجم}. (میں عرب ا ورعجم والوں سے زیادہ فصیح ہوں ) اور ان کو حضور ﷺ کی تصنیف کہنا بھی مجازاً ہے [كذا في الأصل]، ور نہ در حقیقت وہ الہامی اور من عند اللہ ہیں، (وما ينطق عن الهوى) (اپنی خواہش نفسانی سے آپ گو یا نہیں ہوتے) کا مصداق ہیں، پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ کوئی دعا بھی ان دعاؤں کے برا بر ہو سکتی ہے؟“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : شریعت پر افتراء ، ۲۶/۳۲۱ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
محفل میلاد میں، روحِ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کا اعتقاد، جناب سرور ﷺ پر افتراء محض ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔