التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

ہاروت وماروت وزہرہ کا قصہ،نُقَّاد محدثین نے اسے من گھڑت کہا ہے۔

تفصیل

”انہی میں سے ہاروت وماروت وزہرہ کا قصہ بھی ہے جس کو آج کل بھی بہت لوگ صحیح سمجھتے ہیں، کیونکہ بعض مفسرین نے یہ غضب کیا ہے کہ اس  قصہ  کو  تفسیروں  میں  ٹھونس  دیا  ہے، مگر  محدثین  نُقَّاد نے  اس  کو  موضوع کہا   ہے[1]۔

وہ قصہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک زمانہ میں بنی آدم کے اندر معاصی کی کثرت ہوئی تو فرشتوں نے طعن کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو خلیفۃ اللہ بنائے گئے ہیں کہ گناہ کرکے خداتعالیٰ کو ناراض کرتے ہیں، اور ہم خدا کی نافرمانی کبھی نہیں کرتے،تو ہمیشہ اس کی اطاعت ہی کرتے ہیں [كذا في الاصل]، خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ انسا ن میں جو شہوت کا مادہ رکھا گیا ہے اگر وہ تمہارے اندر پیدا کردیا جائے تو تم بھی گناہ کرنے لگو گے، فرشتوں نے کہا ہم ہر گز گناہ نہ کریں گے،بلکہ اس وقت بھی ہم اطاعت ہی کریں گے۔

 حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو منتخب کرو جو سب سے زیادہ عبادت گزار ہوں، چنانچہ ہاروت وماروت کو منتخب کیا گیا، خدا تعالیٰ نے ان دونوں میں شہوت کا مادہ رکھ دیا اور زمین پر ان کو اتارا، اور حکم دیا کہ انسانوں کے مقدمات کا فیصلہ کیا کرو، اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا،  نہ شراب پینا اور نہ زنا کرنا، نہ کسی آدمی کو ناحق قتل کرنا،چنانچہ وہ دن بھر مقدمات کا فیصلہ کر تے اور شام کو اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر چلے جاتے، اسی طرح  ایک  زمانہ  گزر  گیا ۔

ایک دن ان کے پاس ایک عورت کا مقدمہ آیا جو کہ نہایت ہی حسین وجمیل تھی، یہ دونوں اس پر فریفتہ ہو گئے اور اس کے موافق فیصلہ کر دیا، پھر اس سے اپنی خواہش ظاہر کی، اس نے کہا ایک شرط سے میں راضی ہو سکتی ہوں : یا تم شراب پیو، یا میرے شوہر کو قتل کرو، یا اس بت کو سجدہ کرو جو تمہارے سامنے ہے،یا مجھ کو وہ اسم اعظم بتلا دو جس سے تم آسمان پر جاتے ہو، اول تو انہوں نے انکار کیا، مگر پھر نہ رہا گیا تو انہوں نے شراب پینے کو منظور کیا  اور یہ سمجھا کہ یہ سب سے سہل گناہ ہے، اس سے توبہ کرلیں گے،چنانچہ شراب پی کر اس سے زنا کیا اور اسی مدہوشی کی حالت میں شوہر کو بھی قتل کردیا، اور بت کو سجدہ بھی کیا، اور بے خبری کی حالت میں اس عورت کو اسم اعظم بھی بتلادیا، وہ عورت تو اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر چلی گئی، خدا تعالیٰ نے اسے ستارہ کی  صورت  میں  مسخ   کردیا، چنانچہ  زہرہ  ستارہ  وہی  ہے۔

 یہ دونوں فرشتے جب مستی سے  ہوش  میں آئے تو بڑے پریشان ہوئے، شام کو آسمان پر جانے لگے تو ان کو روک دیا گیا، اور ان سے کہا گیا کہ یا تو دنیا کا عذاب اختیار کرو یا آخرت کا، انہوں نے دنیا کے عذاب کو آسان سمجھ کر اختیار کیا، چنانچہ وہ دونوں بابل کے کنویں میں اوندھے منہ لٹکے ہوئے ہیں، جہاں ان کو عذاب ہو رہا ہے، اور یہ دونوں فرشتے سحر بھی تعلیم  کرتے  تھے  جس  کی  تعلیم  کا  ان  کو  حکم  ہوا  تھا، یہ  سحر  انہی  سے  منقول  چلا  آتا  ہے۔

اس قصہ کو سن کر وہ شخص جس کو حدیث سے ذرا بھی مس ہے، فوراً  موضوع کہے گا،اس کا طرز بتلا رہا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث نہیں ہوسکتی، یقیناً اسرائیلیات میں سے ہے، دوسرے شرعی حیثیت سے اس میں  بہت  سے  اشکالات  ہیں :

ایک اشکال تو یہی ہے کہ فرشتے خدا تعالی کے سامنے اس طرح گفتگو نہیں کر سکتے کہ حق تعالیٰ تو یہ فرمائیں کہ اگر تم میں شہوت پیدا کردی جائے تو تم بھی انسانوں کی طرح گناہ کرنے لگو گے، اور وہ خدا تعالیٰ کی بات کو رد کردیں کہ نہیں ہم اس حال میں بھی گناہ نہیں کر سکتے، فرشتے ہرگز خدا  تعالی ٰ  کی  بات  کو  رد  نہیں  کر سکتے ۔

 دوسرا اشکال یہ ہے کہ جس زنا کی وجہ سے یہ فرشتے معذب ہوئے وہ عورت کیوں نہ معذب ہوئی، وہ اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر کیوں چلی گئی، اور ایسی مقرب کیوں کر ہو گئی؟

اور بہت سے اشکالات ہیں جن کے بیان کی اس وقت گنجائش نہیں، مگر بعض مفسرین نے تفاسیر میں اس واقعہ کو لکھ دیا ہے، اس لئے بہت لوگ اسے صحیح سمجھتے ہیں، اسی لئے ہر کتاب دیکھنے کے قابل نہیں ہوتی، کسی عالم کو تجویز کرو، اس کتاب کو دکھلا کر، جب وہ کہہ دے کہ یہ دیکھنے کے قابل ہے اس کے بعد مطالعہ کرنا چاہیے، اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ جن کتابوں میں یہ قصہ مذکور ہے  وہ معتبر کتابیں نہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ ہر معتبر کتاب کا ہر جز و معتبر نہیں ہوتا، یہ ممکن ہے کہ ایک کتاب معتبر ہو لیکن اس میں کوئی بات غیر معتبر بھی ہو، ایک دو مضمون کے غیر معتبر ہونے سے ساری کتاب کو غیر معتبر نہیں کہہ سکتے،لیکن اس کا امتیاز عالم محقق ہی کر سکتا ہے کہ اس کتاب میں کون سی بات غیرمعتبر ہے، غرض یہ قصہ محض غیرمعتبر  ہے ۔۔۔“[2]۔

حوالہ جات

[1] حافظ ابن کثیر ؒاپنی ”تفسير“(۱/۳۴۲)میں اس کو رد کیاہے،امام قرطبی ؒ اپنی ”تفسير“ (۲/۲۸۵) میں اس واقعہ کی عدمِ صحت کی طرف گئے ہیں،نیز امام رازی ؒ،قاضی عیاض ؒ،علامہ شہاب عراقی  ؒ،علامہ آ ٓلوسی ؒ نے بھی اس واقعہ کو رد کیا ہے،دیکھئے :”روح المعانی“(۱/۳۴۱)۔البتہ محدثین میں سے بعض اس طرف بھی گئے ہیں کہ اس واقعہ کو بالکل ’’بے اصل‘‘ کہنا درست نہیں ہے،دیکھئے:فتح الباری:کتاب الطب،باب السحر، ۱۰/۲۲۵،دار المعرفہ،بیروت ۔

[2] خطبات حکیم الامت : ہارو ت ومارو ت ، ۲/۱۴۰، ۱۴۱،ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔