کتاب ”شرح محمدی “ میں موجود دفعِ وبا کے اس عمل کی کوئی اصل نہیں ہے۔
تفصیل
سوال (۵۷۲) ۔۔۔ کتاب ”شرح محمدی “ میں جو کتاب فقہ کی اردو میں منظوم ہے اس میں ایسا طریقہ لکھا ہے، اگر یہ جائز ہے، اور رائے عالی مناسب معلوم ہوتا ہے اس کو بھی پورے طور سے حامل عريضہ کو بتلا دیویں، خادموں پر احسان بے اندازہ ہو گا : نقل از کتاب ”شرح محمدی “ اشعار:
حق وبا سے اس کو رکھتا ہے بچا جو کرے ترتیب ایسی بر ملا
شہر کے چاروں طرف گائیں حلال وہ کرے دل سے نیاز ذوالجلال
صاف کر پھر اس کی بھونے بوٹیاں کھاویں تکہ یک یک اس کا مومناں
بعد اس کے لیویں پھر قرآن کو جمع ہو کر مومناں پاکیزہ خو
نیچے سے اس کے وہ نکلیں سات بار منہ طرف کعبہ کی رکھیں آشکار
پھر پڑھے بعد اس کے دو رکعت نماز اور اذاں دیں سات با عجز ونیاز
کہتے ہیں دیویں اذاں سب سات روز سات بار ہر روز اے گِیتی فروز
ہے یہ تاثیرِ اذاں اے مومناں اس سے ہوتے ہیں گریزاں جنبیاں۔
الجواب: ”۔۔۔ جو عمل آپ نے ”شرح محمدی “ سےنقل کیا، اس کی کوئی اصل نہیں ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1]امدا د الفتاویٰ : مسائل شتی ٰ، حکم اعمال مستعملہ برائے دفع وبا ، ۴/۵۵۴ ، مکتبہ دارالعلوم، کراچی ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
امام ابو یوسف l اور امام محمد l کے ما بین نفرت پر مشتمل یہ مضامین شنیعہ من گھڑت معلوم ہوتے ہیں۔
روایت: ”بدھ کے روز کتاب شروع کر نے کا اہتمام۔۔۔“،اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔
کتاب”گل بکاولی “، ”بد ر منیر “، ”قصہ حاتم طائی “، یہ بے اصل کتابیں ہیں۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔