التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو محمدسلم بن سالم بلخی خراسانی زاہد

المتوفی ۱۹۴ھایک روایت میں تذکرہ

ابو محمدسلم بن سالم بلخی خراسانی زاہد کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو محمدسلم بن سالم بلخی خراسانی زاہد (المتوفی ۱۹۴ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ نعیم بن حمادl فرماتے ہیں: ’’سمعت ابن المبارك: وذكر عنده حديث لسلم بن سالم، فقال: هذا من عقارب سلم‘‘[45]. ایک دن عبد اللہ بن مبارکl کے سامنے سلم بن سالم بلخی سے مروی  ایک حدیث کا تذکرہ ہوا، تومیں نے عبد اللہ بن مبارکl کو فرماتے ہوئے سنا: یہ سلم کے بچھوؤں میں سے ہے۔

حافظ عبد الله بن احمد بن حنبلl’’العلل‘‘[46]  میں فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي يقول: سلم بن سالم يعني البلخي ليس بذاك في الحديث، كأنه ضعفه‘‘. میں نے اپنے والد کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے  سلم بن سالم  کو حدیث میں’’لیس بذاک‘‘ کہا ، گویا کہ انہوں نے اس کو ضعیف کہا ہے۔

حافظ ابن سعد ’’الطبقات‘‘[47]  میں فرماتے ہیں: ’’وكان مرجئا، ضعيفا في الحديث، ولكنه كان صارما، يأمر بالمعروف، وينهى عن المنكر‘‘. سلم بن سالم مرجیء تھا، حدیث میں ضعیف تھا، لیکن بہادر تھا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا تھا۔

حافظ یحیی بن معین l نے سلم بن سالم بلخی کو ’’ ليس بشيء‘‘[48] کہا ہے۔

حافظ ابو اسحاق جوزجانیl  نے ’’أحوال الرجال‘‘[49] میں سلم بن سالم کو’’غیر ثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ برذعیl فرماتے ہیں: ’’سلم بن سالم كيف هو؟ قال: أخبرني بعض الخراسانيين، قال: سمعت ابن المبارك يقول: اتق حيات سلم بن سالم، لا تلسعك‘‘[50] .میں نے ابو زرعہl  سے سلم بن سالم کے بارے میں پوچھاکہ اس کا کیا حال ہے؟ فرماتے ہیں: مجھے بعض خراسانیوں نے بتایا کہ میں نے عبد اللہ بن مبارکl کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: سلم بن سالم کے سانپوں سے بچو، تمہیں ڈس نہ لیں۔

حافظ عبد الرحمن بن ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’سمعت أبا زرعة يقول: ما أعلم أني حدثت عن سلم بن سالم إلا أظنه مرة، قلت: كيف كان في الحديث؟ قال: لا يكتب حديثه، كان مرجئا وكان لا ـ  وأومأ بيده إلى فيه ـ يعني لا يصدق.‘‘[51] .میں نے ابو زرعہl کو یہ فرماتے ہوئے سنا : مجھے نہیں معلوم کہ میں نے سلم بن سالم سے روایت کی ہو سوائے ایک مرتبہ کے ، میں نے عرض کیا وہ حدیث میں کیسا تھا؟ فرمایا: اس کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا،وہ مرجئی تھا، اور وہ ’’لا‘‘ تھا، یہ کہہ کر ابو زرعہ l نے اپنے منہ کی جانب اشارہ کیا، یعنی وہ سچ نہیں بولتا تھا۔

حافظ ابن ابی حاتمl فرماتے ہیں: ’’سمعت أبی یقول: سلم بن سالم ضعيف الحديث، وترك حديثه، ولم يقرأه علينا‘‘[52] . میں نے اپنے والدکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ سلم بن سالم ضعیف الحدیث ہے،اور انہوں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا، اور ہم پر اس کی حدیث کو نہیں پڑھا۔

امام نسائیl نے  ’’الضعفاء‘‘[53] میں سلم بن سالم کو’’ضعیف‘‘کہا ہے۔

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l نے ’’قبول الأخبار‘‘[54] میں سلم بن سالم بلخی کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[55] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، يقلب الأخبار [قلبا]، وكان مرجئا شديد الإرجاء داعية إليها، كان ابن المبارك يكذبه‘‘.سلم بن سالم منکر الحدیث ہے، روایات میں قلب کرتا تھا، اور سخت مرجیء تھا، ارجاء کی طرف دعوت تھا، ابن مبارکl اس کو جھوٹا کہتے تھے۔

حافظ ابن عدیl ’’ الکامل‘‘[56] میں فرماتے ہیں:’’ولسلم بن سالم أحاديث إفرادات وغرائب، وأنكر ما رأيت له ما ذكرته من هذه الأحاديث، وبعضها لعل البلاء فيه من غيره، وأرجو أنه لا بأس به، ويحتمل حديثه‘‘. اورسلم بن سالم کی افراد وغرائب ہیں،اوران میں  زیادہ منکر روایات جو میں نے دیکھی تھیں وہ  میں نے ذکر کردیں،اور ان میں سے بعض میں بلاء شاید اس کے علاوہ کی طرف سے ہو،اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ لا بأس بہ ہے، اور اس کی حدیث کا تحمل کیا جائے گا۔

امام ابو عبد الله حاكمl’’المدخل‘‘[57]  میں فرماتے ہیں: ’’ كذبه عبد الله بن المبارك، وله عن ابن جريج وعبيد الله بن عمر وسفيان الثوري أحاديث موضوعة، كان يحج ويكتب عنه في الطريق، وقد روى عنه جماعة من الأئمة، لعلهم لم يقفوا على حاله إلا بعد الكتابة عنه‘‘. سلم بن سالم بلخی کو عبد اللہ بن مبارکl  نے جھوٹا کہا ہے،اور اس کی  ابن جریج، عبید اللہ بن عمراور سفیان ثوری کے انتساب سے من گھڑت احادیث ہیں، یہ حج کرتاتھا اور راستہ میں اس سے احادیث لکھی جاتی تھیں،اور اس سے  ائمہ کی ایک جماعت نے روایت کی ہے، شاید کہ ان کو اس کے حال کی واقفیت اس کی احادیث لکھنے کے بعد ہی ہوئی۔

حافظ خلیلی’’الإرشاد‘‘[58] میں فرماتے ہیں: ’’ أجمعوا على ضعفه، رأيت في أصل عبد الرحمن بن أبي حاتم الرازي من حديث الحسن بن عرفة، حديثين للحسن عن سلم بن سالم، قال عبد الرحمن: اضربوا عليهما، فإني لا أروي حديث سلم بن سالم، وقال ابن شقيق: ذكرت لابن المبارك حديثا لسلم، فقال: هذا من عقاربه، وروي من حديث ثابت عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرؤية، وهو من حديث ثابت، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن صهيب، سكت عنه الشيوخ كلهم إلا من كان من ضعفاء بلخ، ولم يكن من صنعته هذا الشأن‘‘.

 سلم بن سالم بلخی کے ضعف پر محدثین کا اجماع ہے، میں نے عبد الرحمن بن ابی حاتم رازی کی اصل میں حسن بن عرفہ کی دو حدیثیں حسن  عن سلم بن سالم کے طریق سے دیکھیں، عبدالرحمن نے فرمایا: ان دونوں کو ترک کردو،کیوں میں سلم بن سالم کی حدیث کو روایت نہیں کرتا،ابن شقیق فرماتے ہیں:میں نے ابن مبارکl کے لئے سلم کی ایک حدیث ذکر کی، انہوں نے فرمایا:یہ سلم کے بچھوؤں میں سے ہے،اور سلم نے ثابت عن انس r کے طریق سے رؤیہ میں ایک حدیث روایت کی،اور وہ ثابت، عن عبد الرحمن بن ابی لیلی، عن صہیب r کے طریق سے تھی،ان کے بارے میں تمام مشائخ نے سکوت فرمایا ہے،سوائے ضعفائے بلخ کے،اور یہ کام اس کی صناعت میں سے نہیں ہے۔

امام بیہقیl ’’شعب الإيمان‘‘[59] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’سلم بن سالم البلخي غير قوي‘‘.سلم بن سالم حدیث میں قوی نہیں ہے۔

حافظ محمد بن طاہر مقدسیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[60] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وسلم هذا منكر الحديث، وكان ابن المبارك يكذبه‘‘. سلم بن سالم منکر الحدیث ہے، ابن مبارکl  اس کو کذاب کہتے تھے۔

حافظ ابن جوزی l ’’المنتظم‘‘[61] میں فرماتے ہیں: ’’وقد اتفق المحدثون على تضعيف رواياته‘‘.محدثین اس کی روایات کے ضعف پر متفق ہیں۔

حافظ ذہبیl’’تاريخ الإسلام‘‘[62] میں سلم بن سالم کی ایک منکر روایت نقل کرنے بعد فرماتے ہیں: ’’ انفرد به سلم بن سالم البلخي، وهو ضعيف باتفاق‘‘. سلم بن سالم اس کو نقل کرنے میں متفرد ہے، اور وہ بالاتفاق ضعیف ہے۔

حافظ ابن كثیرl ’’ البداية‘‘[63] میں فرماتے ہیں: ’’وكان عابدا زاهدا، مكث أربعين سنة لم يفرش له فراش، وصامها كلها إلا يومي العيد، ولم يرفع رأسه إلى السماء، وكان داعية الإرجاء، ضعيف الحديث، إلا أنه كان رأسا في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر‘‘. یہ عابد زاہد تھا، چالیس سال اس حال میں رہاکہ اس کا بستر نہیں بچھایا گیا، عیدین کے علاوہ سال بھر روزہ دار رہتا، اور آسمان کی جانب سر نہیں اٹھاتا تھا، اور یہ  ارجاء کی طرف بہت زیادہ دعوت دیتا تھا، ضعیف الحدیث تھا، مگر وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں سردار تھا۔

حافظ ہیثمیl’’مجمع الزوائد‘‘[64] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه سلم بن سالم، ضعفه جمهور الأئمة أحمد، وابن المبارك، ومن بعدهم، وقال ابن عدي: أرجو أنه لا بأس به‘‘.اس میں سلم بن سالم ہے، جسے جمہور ائمہ: احمدl اور ابن مبارکl نے ضعیف کہا ہے،اور ابن عدیl فرماتے ہیں:میں امید کرتا ہوں کہ یہ لاباس بہ ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’نتائج الافکار‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت سلم بن سالم کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔

حافظ سیوطیl نے ’’الزيادات‘‘[66] میں ایک روایت کے تحت سلم بن سالم کو ’’ کذاب‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[67] میں سلم بن سالم بلخی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’رماه أبو زرعة بالكذب، وقال ابن المبارك: اتق حيات سلم لا تلسعك‘‘. اسے ابو زرعہl  نے جھوٹ میں متہم قرار دیا  ہے، ابن مبارکl فرماتے ہیں: سلم کے سانپوں سے بچو، تمہیں ڈس نہ لیں۔

حوالہ جات

[45] الجرح والتعديل:4/267،رقم:1149،دائرة المعارف العثمانية ـ الهند،الطعبة الأولى1372هـ .

[46] العلل ومعرفة الرجال:3/322،رقم:5434،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ ا لرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .

[47] الطبقات الكبرى:7/264،رقم:3650،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .

[48] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۲/۲۷۳،رقم:۴۷۵۶،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[49] أحوال الرجال:ص:352،رقم:3۹۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، الطبعة الأولى1411هـ .

[50] سؤالات البرذعي:ص:2۴9،رقم:442،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري، الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطعبة الأولى1430هـ .

[51] الجرح والتعديل:4/267،رقم:1149،دائرة المعارف العثمانية ـ الهند،الطعبة الأولى1372هـ .

[52] الجرح والتعديل:4/267،رقم:1149،دائرة المعارف العثمانية ـ الهند،الطعبة الأولى1372هـ .

[53] الضعفاء والمتروكين:ص:183،رقم:235،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[54] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/۲۴۵،رقم:۴۶۱،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[55] المجروحين:1/344،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[56] الکامل في ضعفاء الرجال:4/349،رقم:779،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[57] المدخل إلى الصحيح:ص:145،رقم:75،ت:ربيع بن عمير هادي المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[58] الإرشاد:3/931،رقم:855،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1409هـ .

[59] شعب الإيمان:7/131،رقم:4773،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1423هـ .

[60] تذكرة الحفاظ:ص:127،رقم:296،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .

[61] المنتظم في تاريخ الملوك والأمم:10/9،رقم:1063،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱415هـ .

[62] تاریخ الإسلام:13/539،رقم:508،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .

[63] البداية والنهاية:10/225،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الثامنة1410هـ .

[64] مجمع الزوائد:7/۲۰۴، ت:حسام الدين القدسي،دار الکتاب العربي ـ بيروت.

[65] نتائج الأفكار:2/67،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[66] الزيادات على الموضوعات:ص:144،رقم:160،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1431هـ .

[67] تنزيه الشريعة:1/64،رقم:32،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ