التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

احمد بن عبد اللہ بن خالدبن موسى بن مرداس بن نہیک تیمی عبسی ابو علی شیبانی ہروی جویباری

المتوفى247ھایک روایت میں تذکرہ

احمد بن عبد اللہ بن خالدبن موسى بن مرداس بن نہیک تیمی عبسی ابو علی شیبانی ہروی جویباری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی احمد بن عبد اللہ بن خالدبن موسى بن مرداس بن نہیک تیمی عبسی ابو علی شیبانی ہروی جویباری (المتوفى247ھ) کے بارے میں  ائمہ کا کلام 

امام نسائیl نے جویباری کو ’’ کذاب، ليس بثقة‘‘  کہاہے[68] ۔

حافظ ابو اسحاق جوزجانیl ’’أحوال الرجال‘‘[69] میں فرماتے ہیں: ’’ کان یضع الحدیث، ما أدري حسب إيمانه‘‘.حدیث گھڑتا تھا، میں اس کے ایمان کا  حال نہیں جانتا ۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[70] میں فرماتے ہیں: ’’دجال من الدجاجلة، كذاب، يروي عن ابن عيينة ووكيع وأبي ضمرة وغيرهم من ثقات أصحاب الحديث، ويضع عليهم ما لم يحدثوا، وقد روى عن هؤلاء الأئمة ألوف حديث ما حدثوا بشيء منها، كان يضعها عليهم، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل الجرح فيه، ولو أن أحداث أصحاب الرأي بهذه الناحية خفي عليهم شأنه لم أذكره في هذا الكتاب، لشهرته عند أصحاب الحديث قاطبة بالوضع على الثقات ما لم يحدثوا‘‘.

دجالوں میں سے ایک دجال ہے ، کذاب ہے ، ابن عیینہ ، وکیع، ابو ضمرہ اور ان کے علاوہ ثقات  اصحاب حدیث سے روایت کرتا ہے، اور ان پر ایسی احادیث گھڑتا ہے جو انہوں نے بیان نہیں کیں، اور جویباری نے ان ائمہ سے ہزاروں ایسی احادیث نقل کی ہیں،جن میں سے ایک بھی انہوں نے روایت نہیں کی،یہ ان پر ان احادیث کو گھڑتا تھا، اس کا ذکر کتب میں بغیر جرح کے حلال نہیں،اور اگر اس طرف کے نئے اصحاب الرای پر اس کی شان مخفی نہ ہوتی،تو میں اس کا ذکر اس کتاب میں نہ کرتا،کیوں کہ یہ تمام اہل حدیث کے نزدیک ثقات پر ایسی احادیث گھڑنے میں مشہور ہےجو انہوں نے روایت ہی نہیں کیں۔  

حافظ ابن حبانl ہی ’’المجروحین‘‘[71] میں اسحاق بن نجیح ملطی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وقد تعلق به أحمد بن عبد الله الجويباري، (فكان يروي عنه ما وضعه إسحاق، ويضع عليه ما لم يضع أيضا)‘‘. اور جویباری اسحاق بن نجیح کے متعلقین میں سے تھا،  اور اسحاق کی من گھڑت روایات نقل کرتا تھا، اور اسحاق پر وہ روایات بھی گھڑتا تھا جو اسحاق نے نہیں گھڑیں۔

حافظ ابن حبانl محمد بن تمیم کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وإنما كان السبب في تركهم إياهما، أنهما كانا يضعان الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم وضعا‘‘[72] .اور ہمارے شیوخ کی ان دونوں کو ترک کرنے کی وجہ صرف یہی ہے کہ محمد بن کرام اور جویباری رسول اللہ ﷺ پر خوب حدیث گھڑتے تھے۔

حافظ ابن حبانl ايك دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ولعلهما قد وضعا على النبي صلى الله عليه وسلم والصحابة والتابعين مائة ألف حديث‘‘[73]. اور شايد محمد بن تميم اور جويباری نے نبی ﷺ، صحابہ p ، اور تابعین پر ایک لاکھ حدیثیں گھڑی ہیں۔

حافظ ابن حبانl کا مذكوره قول تلاش بسیا ر کے باوجود’’صحیح ابن حبان‘‘، ’’مجروحین‘‘، ’’ثقات‘‘ اور ’’روضۃ العقلاء‘‘ میں نہیں مل سکا۔

حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[74] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن جرير والفضل بن موسى وغيرهما بأحاديث وضعها عليهم، وكان يضع الحديث لابن كرام على ما يريده، وكان ابن كرام يضعها في كتبه عنه، ويسميه أحمد بن عبد الله الشيباني‘‘.جویباری نے جریر ، فضل بن موسی او ر ان دونوں کے علاوہ  سے ایسی احادیث نقل کی ہیں جو جویباری ہی  نے ان پر گھڑی ہیں، اور جویباری، ابن کرام کے لئے اس کی چاہت کے مطابق حدیث گھڑتا تھا،اور ابن کرام یہ روایات جویباری سے نقل کرکے  اپنی کتب میں لکھتا تھا، اور اس کا نام احمد بن عبد اللہ شیبانی ذکر کرتا تھا۔

حافظ ابن عدیl ہی’’الکامل‘‘[75] میں جویباری کی چند روایات نقل کرکے فرماتےہیں: ’’ولأحمد بن عبد الله الهروي مما وضعه أحاديث كثيرة لم أخرجها ها هنا‘‘. احمد بن عبد اللہ ہروی کی بہت سی من گھڑت احادیث ایسی ہیں جن کو میں نے یہاں تخریج نہیں کیاہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکمl ’’ المدخل‘‘[76] میں لکھتے ہیں: ’’ كذاب، خبيث، قد وضع على رسول الله صلى الله عليه وسلم أحاديث كثيرة في فضائل الأعمال وغيرها، لا تحل كتبة حديثه ولا روايته بوجه‘‘. کذاب، خبیث ہے، فضائل اعمال اور اس کے علاوہ میں حضورﷺ پر بہت ساری احادیث گھڑی ہیں، اس کی حدیث کو لکھنا اور روایت کرنا کسی صورت حلال نہیں ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاكمl ہی ايك دوسرے مقام پر میں فرماتے ہیں: ’’ومنهم جماعة وضعوا الحديث حسبة كما زعموا، يدعون الناس إلى فضائل الأعمال مثل أبى عصمة نوع بن أبي مريم المروزي، ومحمد بن عكاشة الكرماني، وأحمد بن عبد الله الجوبارى، ومحمد بن القاسم الطايكاني، ومأمون بن عبد الله الهروي وغيرهم‘‘[77] .

اور ایک جماعت ان میں وہ ہے جس نے احادیث ثواب کی امید سے گھڑی ہیں،جیساکہ ان کا گمان ہے،لوگوں کو اعمال کے فضائل کی طرف دعوت دیتے تھے،جیسے ابو عصمہ نوح بن ابی مریم مروزی،محمد بن عکاشہ کرمانی،احمد بن عبد اللہ جوباری، محمد بن قاسم طایکانی اور مامون بن عبد اللہ ہروی وغیرہ۔

امام دارقطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[78] میں جویباری کو ’’ کذاب‘‘ کہا ہے۔

امام دارقطنیl نے ایک دوسرے مقام پر جویباری کو ’’متروك‘‘[79] قرار دیا ہے۔

امام دارقطنیl ایک مقام پر جویباری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، دجال، خبيث، وضاع للحديث، لا يكتب حديثه، ولا يذكر‘‘[80]. جھوٹا، دجال، خبیث ہے، حدیث گھڑنے والا ہے، اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے، اور نہ ہی اس کا ذکر کیا جائے۔

امام بیہقیl’’شعب الإيمان‘‘[81] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’أحمد بن عبد الله الشيباني هو الجويباري، وهو ممن يضع الحديث‘‘.احمد بن عبد اللہ شیبانی وہ جویباری ہے، اور یہ ان لوگوں میں سے ہے،جوحدیث گھڑتے ہیں۔

امام بیہقیl ’’حديث الجويباري‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’وأما أحمد بن عبد الله الجويباري [الهروي] ، فإني أعرفه حق المعرفة بوضع الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقد وضع عليه أكثر من ألف حديث‘‘. رہی بات احمد بن عبد اللہ جویباری ہروی کی، تو  میں اس کو رسول اللہ ﷺ پر حدیث  گھڑنے میں بخوبی پہچانتا ہوں، اس نے آپﷺ پر ایک ہزار سے زائد احادیث گھڑی ہیں۔

حافظ ابو سعید نقاشl فرماتے ہیں: ’’ لا نعرف أحدا أكثر وضعا منه‘‘[83] . ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جو جویباری سے زیادہ حدیث گھڑتا ہو۔

حافظ خلیلیl ’’الإرشاد‘‘[84] میں فرماتے ہیں:’’ كذاب، يروي عن الأئمة أحاديث موضوعة، عن مالك، والثوري، وابن جريج، وغيرهم، وكان يضع لأبي عبد الله محمد بن كرام الزاهد الهروي أحاديث مصنوعة، وكان ابن كرام يسمعها منه، وكان مغفلا‘‘. کذاب ہے، ائمہ ميں سے مالکl ، ثوری، ابن جریج اور ان کے علاوہ کے انتساب سے من گھڑت احادیث نقل کرتا ہے، اور جویباری، ابو عبد اللہ محمد بن کرام زاہدہروی کےلئے احادیث گھڑتا  تھا، اور ابن کرام ان کو سنتا تھا اور وہ غافل شخص تھا۔

حافظ ابو حاتم سہل بن سریl فرماتے ہیں: ’’ قد وضع أحمد بن عبد الله الجويباري، ومحمد بن عكاشة الكرماني، ومحمد بن تميم الفاريابي على رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثر من عشرة آلاف حديث‘‘[85] . احمد بن عبد اللہ جویباری، محمد بن عکاشہ کرمانی اور محمد بن تمیم فاریابی نے رسول اللہ ﷺ پر دس ہزار سے زائد احادیث گھڑی ہیں۔

حافظ ابو نعيم اصبہانیl ’’ المسند المستخرج‘‘[86] میں فرماتے ہیں: ’’أحمد بن عبد الله بن خالد الجوباري الهروي الواضع على رسول الله صلى الله عليه وسلم غير حديث، ساقط، متروك‘‘.احمد بن عبد الله بن خالد جوباری ہروی  نے رسول اللہ ﷺ پر کئی حدیثیں گھڑی ہیں،یہ  ساقط، متروک ہے۔

حافظ خطیب بغدادیl ’’تاريخ بغداد‘‘[87] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وكان الجوباري يضع الحديث‘‘.جوباری حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ محمد بن طاہر مقدسیl نے ’’ذخیرة الحفاظ‘‘[88] میں ایک روایت کے تحت جويباری کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ محمد بن طاہر مقدسیl ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وأحمد هذا دجال من الدجاجلة، يضع الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى الثقات من الأئمة‘‘[89] .اور احمدیہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے، رسول اللہ ﷺ اور ائمہ میں سے ثقات پر حدیث گھڑتا ہے۔ 

حافظ جوزقانیl ’’ الأباطيل‘‘[90] میں فرماتے ہیں: ’’وأحمد بن عبد الله الجويباري، والمأمون بن أحمد السلمي كان يكذبان ويضعان الأحاديث‘‘. احمدبن عبد الله جويباری اور مامون بن احمد سلمی جھوٹ بولتے تھے اور احادیث گھڑتے تھے۔

حافظ جوزقانیl ہی ’’الأباطيل‘‘[91] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأحمد بن عبد الله هذا كان خبيثا، دجالا من الدجاجلة، كذابا، يروي عن ابن عيينة، ووكيع، وأبي ضمرة، وغيرهم من ثقات أصحاب الحديث، ويضع عليهم ما لم يحدثوا، وقد روى عن هؤلاء الأئمة ألوف حديث ما حدثوا بشيء منها، كان يضعها عليهم، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل الجرح فيه‘‘. احمدبن عبد الله یہ خبیث ہے، دجالوں میں سے ایک دجال ہے، جھوٹا ہے، ابن عیینہ، وکیع، ابو ضمرہ اور ان کے علاوہ ثقہ اصحاب حدیث سے روایت کرتا ہے، اور ان پر ایسی حدیثیں گھڑتا ہے جو انہوں نے اسے بیان نہیں کی ہوتیں، اور یہ ان ائمہ کے انتساب سے ایسی ہزاروں حدیثیں روایت کرتا ہے جو انہوں نے بیان نہیں کی ہوتیں، یہ ان ائمہ پر حدیثیں گھڑتا تھا، اس کا ذکر کرنا کتب میں حلال نہیں ہے سوائے اس پر جرح کے۔

حافظ سمعانیl’’الأنساب‘‘[92] میں فرماتے ہیں: ’’ كان دجالا، كذابا، أفاكا، لا يحتج بحديثه‘‘. جوباری دجال، کذاب، افاک تھا، اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

حافظ سمعانیl ہی ’’الأنساب‘‘[93] میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ الكذاب، الخبيث، الوضاع‘‘. یہ کذاب، خبیث اور حدیث گھڑنے والا ہے۔

حافظ ابن جوزیl’’التحقيق‘‘[94] میں فرماتے ہیں: ’’وكان كذابا، يضع الحديث، أجمع أهل النقل على ذلك‘‘.احمد بن عبد اللہ ہروی جویباری کذاب تھا، حدیث گھڑتا تھا، اہل نقل کا اس بات پر اجماع ہے۔

حافظ ابن جوزیl کے کلام پر حافظ ابن عبدالہادی حنبلیl نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[95]  میں اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن جوزیl نے ’’الموضوعات‘‘[96] میں ایک روایت کے تحت جویباری کو’’ کذاب، وضاع‘‘  کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’المیزان‘‘[97] میں فرماتے ہیں: ’’الجوباري ممن يضرب المثل بكذبه‘‘. جوباری ان لوگوں میں سے ہے جن کا جھوٹ ضرب المثل ہے۔

حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[98] میں جویباری کو’’ کذاب، جبل‘‘ کہاہے۔

نیز حافظ ذہبیl ’’ديوان الضعفاء‘‘[99] میں فرماتے ہیں:’’دجال، مغير، وضع حديثا كثيرا‘‘. دجال ہے، مغیر ہے، اس نے بہت زیادہ حدیثیں گھڑی ہیں۔

حافظ ابن کثیرl’’ البداية‘‘[100] میں احمد بن عبد اللہ جویباری اور محمد بن تمیم فاریابی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكانا كذابين وضاعين‘‘.یہ دونوں کذاب ، وضاع تھے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl نے جويباری کو’’ أحد الکذابين‘‘کہا ہے[101] ۔

علامہ ابن عرقl نے ’’تنزيه الشريعه‘‘[102] میں احمد بن عبد اللہ جویباری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’دجال، وضع حدیثا کثیرا‘‘. جویباری دجال ہے، اس نے بہت سی  احادیث گھڑی ہیں۔

حوالہ جات

[68] الضعفاء والمتروكين:ص:59،رقم:69،ت:بوران الضناوي،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1405هـ .

[69] أحوال الرجال:ص:349،رقم:385،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد،الطبعة الأولى1411هـ .

[70]  المجروحين:۱/۱۴۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[71] المجروحين:۱/۱۳۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[72] المجروحين:۲/۳۰۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[73] انظر تاریخ الإسلام:۶/190،رقم:۴۹۲،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .

[74] الكامل في ضعفاء الرجال:1/291،رقم:17،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[75] الكامل في ضعفاء الرجال:1/293،رقم:17،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[76] المدخل إلى الصحيح:ص:120،رقم:15،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[77] المدخل إلى کتاب الإكليل:ص:53،ت:فؤاد عبد المنعم أحمد،دار الدعوة ـ الإسكندرية.

[78] الضعفاء والمتروكون:ص:114،رقم:37،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .

[79] سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:16،رقم:33،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور، الطبعة الأولى1404هـ .

[80] سؤالات السلمي للدارقطني:ص:126،رقم:60،ت:فريق من الباحثين،ط:مكتبة الملك فهد ـ الرياض،الطبعة الأولى1427هـ .

[81] شعب الإيمان:13/53،رقم:9941،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1423هـ .

[82]  حدیث الجویباري في مسائل عبد الله بن سلام:تحت مجموعة أجزاء حديثية:2/215،رقم:4،ت:أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان، دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[83] لسان الميزان:1/496،رقم:566،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[84] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:3/875،رقم:793ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .

[85] تاريخ مدينة دمشق:۵۴/۲۳۴،رقم:6758،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .

[86] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۶۰،رقم:۲۹،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[87] تاريخ بغداد:4/63،رقم:1698،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية1425هـ .

[88] ذخيرة الحفاظ:1/416،رقم:543،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى1416هـ .

[89] تذكرة الحفاظ:ص:157،رقم:369،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .

[90] الأباطيل والمناكير:۱/۱۹۸،رقم:۱۸۶،ت:عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي،إدارة البحوث الإسلامية ـ  بنارس،الطبعة الأولى1403هـ .

[91] الأباطيل والمناكير:۱/۱۸،رقم:۱۵،ت:عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي،إدارة البحوث الإسلامية ـ  بنارس،الطبعة الأولى1403هـ .

[92] الأنساب:3/375،رقم:970،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1397هـ .

[93] الأنساب:3/۴۲۴،رقم:۱۰۰۶،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1397هـ .

[94] التحقيق فی أحاديث الخلاف:2/219،ت:مسعد عبد الحميد محمد السعدني،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .

[95] تنقیح التحقیق:4/187،ت:سامي بن محمد وعبد العزيز بن ناصر،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى 1428هـ .

[96] کتاب الموضوعات:1/220،رقم:ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1386هـ .

[97] ميزان الاعتدال:۱/۱۰۷،رقم:۴۲۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت.

[98] المغني في الضعفاء:1/72،رقم:322ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر.

[99] ديوان الضعفاء:ص:۶،رقم:۵۸،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة،الطبعة 1387هـ .

[100] البداية والنهاية:14/516،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجرـ مصر،الطبعة الأولى1419هـ .

[101] لسان المیزان:7/421،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[102] تنزيه الشريعة1/28،رقم:129،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ . 

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ