التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو المعلی ویقال ابو سلیمان فرات بن سائب جزری

المتوفی مابین ۱۵۰ – ۱۶۰ھایک روایت میں تذکرہ

ابو المعلی ویقال ابو سلیمان فرات بن سائب جزری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو المعلی ویقال ابو سلیمان فرات بن سائب جزری (المتوفی مابین ۱۵۰ – ۱۶۰ھ[11]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معینlنے فرات بن سائب کو ’’ ليس بشيء‘‘[12] کہا ہے۔

امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں : ’’الفرات بن السائب قريب من محمد بن زياد الطحان في ميمون، يتهم بما يتهم ذاك‘‘[13].فرات بن سائب، میمون سے نقل کرنے میں محمد بن زیاد طحان کے قریب قریب ہے، یہ فرات ان چیزوں میں متہم ہے جن چیزوں میں محمد بن زیاد متہم ہے۔

علامہ سبط ابن العجمی l ’’الكشف الخثيث‘‘[14]میں امام احمد بن حنبل l کے قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ’’فمراد أحمد، والله أعلم بقوله: يتهم بما يتهم به ذاك، أي: بالوضع‘‘.احمد l کی مراد یہ ہے کہ یہ فرات محمد بن زیاد کی طرح حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

امام بخاریl ’’ التاريخ الكبير‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’ تركوه، منكر الحديث‘‘. محدثین نے اسے ترک کر دیا تھا،یہ منکر الحدیث ہے۔

نیز امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[16] میں فرماتے ہیں:  ’’سكتوا عنه‘‘.

حافظ ابو نعیمlنے’’المسند المستخرج‘‘ [17]میں اور حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[18] میں امام بخاری l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l نے ’’أحوال الرجال‘‘[19] میں اسے ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام مسلم l  ’’الكنى‘‘[20] میں فرماتے ہیں:  ’’متروك الحديث‘‘.

حافظ ابو زرعہ lنے فرات کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[21]۔

حافظ یعقوب بن سفیان فسویlنے’’المعرفة‘‘[22]میں فرات بن سائب کو ’’متروك مهجور‘‘قرار دیا ہے۔

اما م نسائی l نے فرات کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[23]۔

حافظ ساجی l فرماتے ہیں: ’’ تركوه‘‘[24]. محدثین نے اسے ترک کر دیا تھا۔

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l نے ’’قبول الأخبار‘‘[25] میں فرات بن سائب کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو حاتمlنے فرات بن سائب کو’’ضعيف الحديث، منكر الحديث‘‘  کہا ہے[26]۔

حافظ ابن حبانl ’’الثقات‘‘[27]میں فرات بن سلمان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وليس هذا بفرات بن السائب الجزري، ذاك واه، ضعيف‘‘. اور یہ فرات بن سلمان ہے فرات بن سائب نہیں ہے، فرات بن سائب جزری ’’واہی، ضعیف‘‘ ہے۔

حافظ ابن حبانl’’المجروحین‘‘[28]میں فرماتے ہیں:’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات، ويأتي بالمعضلات عن الثقات، لا يجوز الاحتجاج به، ولا الرواية عنه، ولا كتابة حديثه إلا على سبيل الاختبار‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتے ہیں، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے معضل روایات لاتے ہیں، اس سے نہ تو احتجاج جائز ہے اور نہ ہی اس سے روایت لینا جائز ہے، اور نہ ہی اس کی حدیث کی کتابت جائز ہے تا ہم اختبار کے طور پر ایسا کرسکتے ہیں۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[29]میں فرماتے ہیں: ’’ولفرات بن السائب غير ما ذكرت من الحديث، خاصة أحاديثه عن ميمون بن مهران مناكير‘‘. فرات بن سائب کی اس کے علاوہ بھی احادیث ہیں، خصوصاً ان کی میمون بن مہران سے منقول احادیث منکر ہیں۔

حافظ ابو احمد حاکم lنے فرات کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[30]۔

حافظ دار قطنی lنے فرات کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[31]۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشا پوریl ’’المدخل‘‘[32] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن ميمون بن مهران أحاديث موضوعة‘‘.فرات بن سائب نے میمون بن مہران کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کی ہیں۔

امام بیہقی l ’’السنن الكبرى‘‘[33] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفرات بن السائب تركوه‘‘. فرات بن سائب کو محدثین نے ترک کر دیا تھا۔

حافظ ذہبی l ’’تلخيص المستدرك‘‘[34] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔

حافظ ابن حجر l نے فرات کو ’’واه‘‘ کہا ہے[35]۔

حوالہ جات

[11] امام بخاریl نے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں فرات بن سائب  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال ۱۵۰ ھ اور ۱۶۰ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:۲/۱۰۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ).

[12] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/325،رقم:5080،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[13] الضعفاء الكبير:3/458،رقم:1514،ت:عبدالمعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[14] الكشف الحثيث:208،رقم:587،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضةالعربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[15] التاريخ الكبير:7/20،رقم:9921،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[16] التاريخ الصغير:2/۱۳۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[17] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷۷،رقم:۱۹۲،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[18] المغني في الضعفاء:2/99،رقم:4892،ت:نورالدين عتر،إحياءالتراث الإسلامي ـ قطر .

[19] أحوال الرجال:ص:3۰۶،رقم:3۲۸،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[20] الكنى والأسماء:2/801 ،رقم:3248،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقرى،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1404هـ .

[21] الجرح و التعديل:7/80،رقم:455،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[22] المعرفة والتاريخ:3/141،ت:أكرم ضياءالعمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1410هـ

[23] الضعفاء والمتروكين:ص:196،رقم:512،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية- بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .

[24] انظر لسان الميزان:۶/۳۲۴،رقم:۶۰۲۰،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[25] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/308،رقم:705،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[26] الجرح و التعديل:7/80،رقم:455،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[27] الثقات:۷/۳۲۲،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة۱۳۹۳هـ .

[28] المجروحين:2/207،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[29] الكامل:7/136،رقم:1570،ت:عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت.

[30] الأسامي والكنى:۴/۷۲،رقم:۳۰۰۴،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ . 

[31]  سنن الدار قطني:2/433،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .

[32] المدخل إلى الصحيح:ص:186،رقم:157،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالةـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[33] السنن الكبرى للبيهقي:۲/۵۶۵،رقم:۴۰۹۰،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .

[34] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۳/۳۱۰،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت  .

[35] تعجيل المنفعة:2/111،رقم:848،ت:إكرم الله إمدادالحق،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1416هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ