اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’اللہ تعالی نے آسمان وزمین کی تخلیق کے دن سے ایک فرشتہ تخلیق کررکھا ہے، اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ آواز کھینچ کر ’’لاالہ الا اللہ‘‘کہے، اس کی آواز اور سانس نہ ٹوٹے، اور وہ اس کی تکمیل نہ کرے، جب وہ اسے مکمل کرلے تو اسرافیل e کو حکم دیا جائےگا کہ صور پھونک دے، اور قیامت قائم ہوجائےگی‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو سلیمان داؤد بن سلیمان جرجانی غازی عطار مولی قریش [34] کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ أبو سليمان الجرجاني كذاب، يشتري الكتب‘‘[35] . ابو سلیمان جرجانی جھوٹا ہے، کتابیں خریدتا تھا۔
مراد یہ ہے کہ کتابیں خرید کر ان سے لوگوں کو احادیث بیان کرتا تھا۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو مجهول‘‘[36]. وہ مجہول ہے۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[37] میں حافظ یحیی بن معین l اور حافظ ابو حاتم l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
امام ابو احمد حاکم l فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘[38] . محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[39] میں فرماتے ہیں: ’’عن علي بن موسى الرضا وغيره،كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب، له نسخة موضوعة على الرضا، رواها علي بن محمد بن مهرويه القزويني الصدوق عنه‘‘.
علی بن موسی الرضا وغیرہ سے روایت کرتا ہے، یحیی بن معین l نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور ابو حاتم l نے اسے نہیں پہچانا، بہر حال وہ جھوٹا شیخ ہے، اس کے پاس ایک ایسا نسخہ ہے جو علی الرضا پر گھڑا ہوا ہے، اس نسخہ کو علی بن محمد بن مہرویہ قزوینی صدوق نے ان سے روایت کیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[40] میں حافظ ذہبی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
نیز حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[41] اور ’’ذيل دیوان‘‘[42] میں داؤد بن سلیمان کے بارے میں ’’ لا شيء‘‘ اور ’’المقتنى‘‘[43] میں ’’واه‘‘کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[44] میں داؤد بن سلیمان جرجانی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن معين: كذاب، له نسخة موضوعة على ابن أبي موسى الرضى‘‘. ابن معین l کا کہنا ہے کہ یہ کذاب ہے، اس کے پاس علی بن موسی الرضا پر گھڑا ہوا نسخہ ہے۔
حوالہ جات
[34] زیر بحث سند میں موجود داؤد بن سلیمان کی تعیین کےلئے درج ذیل کتب کی اسانید دیکھئے:
[35] تاريخ بغداد:9/337،رقم:4418،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[36] الجرح والتعديل:3/413،رقم:1891،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱3۷۱هـ .
[37] الضعفاء والمتروكين:1/263،رقم:1145،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[38] الأسامي والكنى:4/71،رقم:3002،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[39] ميزان الاعتدال:۲/8 ،رقم:2608،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[40] لسان الميزان:3/397،رقم:3025،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[41] المغني في الضعفاء:۱/۳۳۰،رقم:۱۹۹۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[42] ذيل ديوان:ص:32،رقم:134،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مکتبة النهضةالحديثة ـ مکة المکرمة .
[43] المقتنى في سرد الكنى:1/۲۹۰،رقم:۲۸۵۶،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[44] تنزيه الشريعة:1/58،رقم:7،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .