اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی زید بن سعید واسطی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ذہبی l ’’معجم الشيوخ‘‘[63] میں ایک روایت کو منکر قرار دے کر فرماتے ہیں: ’’تفرد به زيد بن سعيد هذا، وسائر رواته ثقات أعلام، فالآفة زيد هذا، ولم أجد أحدا ذكره بجرح ولا تعديل‘‘. اس میں یہ زید بن سعید متفرد ہے، اور بقیہ تمام روات ثقات اعلام ہیں، سو اس میں آفت یہی زید ہے، اور میں نے کسی کی اس کے بارے میں جرح اور تعدیل نہیں دیکھی۔
حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[64] میں زید بن سعید کے بارے میں فرماتے ہیں:’’عن أبي إسحاق الفزاري بخبر باطل‘‘. اس نے ابو اسحاق فزاری کے انتساب سے ایک باطل خبر روایت کی ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان الميزان‘‘[65] میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[66] میں حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات
[63] معجم الشيوخ:2/156،ت:محمد الحبيب الهيلة،مكتبة الصديق ـ المملكة العربية السعودية،الطبعة الأولى ۱۴08هـ .
[64] ميزان الاعتدال:۲/۱۰۳،رقم:۳۰۰۹،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[65] لسان الميزان:۳/۵۵۵،رقم:۳۳۰۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[66] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۶۲،رقم:۲۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .