اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ مروان بن سالم غفاری شامی جزری قَرْقَسَانی (المتوفی ما بین ۱۶۱ھ – ۱۷۰ھ [35])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نے مروان بن سالم کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[36]۔
امام احمد بن حنبل l نے مروان بن سالم کو ’’ليس هو بثقة‘‘ کہا ہے[37]۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[38]، ’’التاريخ الصغير‘‘[39] اور ’’الضعفاء‘‘[40] میں مروان بن سالم کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[41] میں فرماتے ہیں: ’’سألت أبي عن مروان بن سالم، فقال: منكر الحديث جدا، ضعيف الحديث، ليس له حديث قائم، قلت يترك حديثه؟ قال: لا، بل يكتب حديثه‘‘. میں نے اپنے والد سے مروان بن سالم کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: منکر الحدیث جداً ہے، ضعیف الحدیث ہے، اس کی حدیث لیس قائم ہے، میں نے کہا: اس کی حدیث کو ترک کردیا جائے گا؟ فرمایا: نہیں، بلکہ اس کی حدیث لکھی جائے گی۔
حافظ یعقوب بن سفیان فسوی l’’المعرفة والتاريخ‘‘[42] میں مروان بن سالم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، لا يحتج بروايته، ولا يكتب أهل العلم حديثه إلا للمعرفة‘‘. یہ منکر الحدیث ہے، اس کی روایت سے احتجاج نہیں کیا جائے گا، اور اہلِ علم اس کی حدیث صرف معرفت کےلئے لکھتے ہیں۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[43] میں مروان بن سالم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l فرماتے ہیں: ’’ كذاب، يضع الحديث‘‘[44]. کذاب ہے، حدیث گھڑتا ہے۔
حافظ ابو عروبہ حسین بن محمد حَرَّانی l ، مروان بن سالم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث‘‘[45]. حدیث گھڑتا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[46] میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه‘‘[47] میں حافظ ابو عروبہ حَرَّانی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[48] میں مروان بن سالم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أحاديثه مناكير، لا يتابع عليها إلا من طريق يقاربه‘‘. اس کی احادیث مناکیر ہیں، ان میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی مگر ایسے طریق سے جو اس کے مقارب ہو۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[49] میں مروان بن سالم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي المناكير عن المشاهير، ويأتي عن الثقات ما ليس من حديث الأثبات، فلما كثر ذلك في روايته بطل الاحتجاج بأخباره‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو مشاہیر کے انتساب سے مناکیر روایت کرتے ہیں، اور ثقات کے انتساب سے ایسی احادیث لاتے ہیں جو اثبات کی احادیث میں سے نہیں ہوتیں، جب یہ اس کی روایتوں میں کثرت سے ہونے لگا تو اس کی خبروں سے احتجاج باطل ہوگیا۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[50] میں حافظ ابن حبان l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[51] میں مروان بن سالم کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولمروان بن سالم غير ما ذكرت من الحديث، وعامة حديثه مما لا يتابعه الثقات عليه‘‘. اور مروان بن سالم کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی اکثر احادیث میں ثقات اس کی متابعت نہیں کرتے۔
حافظ ابو الفتح ازدی l نے مروان بن سالم کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[52]۔
امام دارقطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[53] میں مروان بن سالم کو ’’ضعفاء ومتروکین‘‘ روایوں میں شمار کیا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے ’’المسند المستخرج‘‘[54] میں مروان بن سالم کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام بیہقی l ’’دلائل النبوة‘‘[55] میں مروان بن سالم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا في الحديث‘‘. اور یہ حدیث میں ضعیف تھا۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[56] میں ایک روایت کے تحت مروان بن سالم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تلخيص الموضوعات‘‘[57] میں ایک روایت کے تحت مروان بن سالم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’تاريخ الإسلام‘‘[58] میں ایک روایت کے تحت مروان کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیر l نے ’’البداية‘‘[59] میں ایک روایت کے تحت مروان بن سالم کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن ملقن l ’’البدر المنير‘‘[60] میں ایک روایت کے تحت مروان بن سالم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فيه مروان بن سالم الغفاري، وليس بثقة بل هو ضعيف، وليس بمروان بن سالم المكي‘‘. اس میں مروان بن سالم غفاری ہے، اور یہ لیس بثقہ ہے، بلکہ ضعیف ہے، اور یہ مروان بن سالم مکی نہیں ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[61] میں ایک روایت کے تحت مروان بن سالم کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[62] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، رماه الساجي وغيره بالوضع‘‘. متروک ہے، ساجی l وغیرہ نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
حوالہ جات
[35] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں مروان بن سالم کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال1۶۱ھ سے 1۷0ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/۱۴۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ) .
[36] معرفة الرجال برواية ابن محرز:1/55،رقم:49،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[37] كتاب العلل ومعرفة الرجال:3/210،رقم:4909،ت:وصي الله بن محمدعباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .
[38] التاريخ الكبير:7/250،رقم:10940،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[39] التاريخ الصغير:2/۱49،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[40] الضعفاء الصغير:ص:113،رقم:253،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[41] الجرح والتعديل:8/275،رقم:1255،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[42] المعرفة والتاريخ:۳/۴۲،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[43] الضعفاء والمتروكين:ص:236،رقم:558،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[44] إكمال تهذيب الكمال:11/133،رقم:4491،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[45] تهذيب الكمال في أسماء الرجال:27/394،رقم:5873،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴05هـ .
[46] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:2۵۵،رقم:۷۶۱،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[47] تنزيه الشريعة:1/117،رقم:322،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[48] الضعفاء الكبير:۴/۲۰۴رقم:۱۷۸۷،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[49] المجروحين من المحدثين:3/13،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[50] تذكرة الحفاظ:ص:۱۴۳،رقم:۳۳۷،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[51] الكامل في ضعفاء الرجال:8/121،رقم:1870،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[52] انظرالعلل المتناهية:2/72،رقم:924،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة ترجمان السنة ـ لاهور،الطبعة الأولى 1399هـ .
[53] الضعفاء والمتركون:ص:۳۷۲،رقم:۵۲۹،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[54] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/82،رقم:239،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[55] دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة:۶/۴۹۶،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثالثة1429هـ .
[56] ذخيرةالحفاظ:ص:۳۷۷،رقم:۴۴۹،ت:عبد الرحمن الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة۱۴۱۶هـ .
[57] تلخيص كتاب الموضوعات: ص:39،رقم:71 ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[58] تاريخ الإسلام:۳/۲۹۴،رقم:۲۱۸،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[59] البداية والنهاية:9/262،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر،الطبعة الأولى141۸هـ .
[60] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:9/264،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[61] مجمع الزوائد:۴/۳۰،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[62] تقريب التهذيب:ص:526،رقم:6570،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .