التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الحسن محمد بن حسن بن زَبَالہ، وھو محمد بن حسن بن ابی الحسن زَبَالی قرشی مخزومی مدنی

المتوفی قبل ۲۰۰ھ4 روایات میں تذکرہ

ابو الحسن محمد بن حسن بن زَبَالہ، وھو محمد بن حسن بن ابی الحسن زَبَالی قرشی مخزومی مدنی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو الحسن محمد بن حسن بن زَبَالہ، وھو محمد بن حسن بن ابی الحسن زَبَالی قرشی مخزومی مدنی (المتوفی قبل ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، كان يسرق الحديث‘‘[19]. یہ ثقہ نہیں ہے، یہ حدیث میں سرقہ کرتا تھا۔

حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’هذا كذاب، ليس بشيء‘‘[20]. یہ کذاب، لیس بشیء ہے۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والله! ما هو بثقة، حدث عدو الله عن مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: فتحت المدينة بالقرآن، وفتحت سائر المدن بالسيوف‘‘[21]. اللہ کی قسم! یہ ثقہ نہیں ہے، اس اللہ کے دشمن نے ’’مالک، عن ہشام بن عروہ، عن ابیہ، عن عائشہ، عن النبی ﷺ‘‘ کے طریق سے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مدینہ قرآن کے ذریعہ فتح ہوا ہے، اور باقی تمام شہر تلوار سے فتح ہوئے ہیں۔

حافظ احمد بن صالح مصری l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عن ابن زبالة مائة ألف حديث، ثم تبين لي أنه كان يضع الحديث، فتركت حديثه‘‘[22]. میں نے ابن زَبَالہ سے ایک لاکھ احادیث لکھی تھیں، پھر مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حدیث گھڑتا ہے، تو میں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[23] اور ’’الضعفاء‘‘[24] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’لم يقنع الناس بحديثه‘‘. لوگ اس شخص کی حدیث پر مطمئن نہیں۔

امام مسلم l نے ابن زَبَالہ کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے[26]۔

حافظ ابو زرعہ l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو في موضع أن يترك حديثه‘‘[27]. یہ ایک ایسے مقام پر ہے کہ اس کی حدیث کو ترک کیا جائے۔

حافظ ابو زرعہ l نے ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے[28]۔

امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ كذابا المدينة: محمد بن الحسن بن زبالة، ووهب بن وهب البَخْتَري، بلغني أنه كان يضع الحديث بالليل في السراج‘‘[29]. مدینہ کے دو کذاب ہیں: محمد بن حسن بن زَبَالہ، اور وہب بن وہب بختری، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ رات کو چراغ کی روشنی میں حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ما أشبه حديثه بحديث عمر بن أبي بكر المؤملي، والواقدي، ويعقوب الزهري، والعباس بن أبي شملة، وعبد العزيز بن عمران الزهري، وهم ضعفاء مشايخ أهل المدينة‘‘[30]. اس کی حدیث، حدیث عمر بن ابو بکر مؤملی، واقدی، یعقوب زہری، عباس بن ابی شملہ اور عبد العزیز بن عمران زہری کے کتنی ہی مشابہ ہے، اور یہ لوگ اہلِ مدینہ کے ضعیف مشایخ ہیں۔

حافظ ابو حاتم l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں مزید فرماتے ہیں: ’’واهي الحديث، (ضعيف الحديث)، ذاهب الحديث، منكر الحديث، عنده مناكير، وليس بمتروك الحديث‘‘[31]. یہ واہی الحدیث، ضعیف الحدیث، ذاہب الحدیث، منکر الحدیث ہے، اس کے پاس مناکیر ہیں، اور یہ متروک الحدیث نہیں ہے۔

امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[32] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن الحسن هذا فلين الحديث، لأنه روى أحاديث لم يتابع عليها، وقد حدث عنه أهل العلم، وهو يعرف بمحمد بن الحسن بن زَبَالة المخزومي‘‘. اور محمد بن حسن یہ لین الحدیث ہے، کیونکہ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں ہے، اور اہلِ علم کی ایک جماعت نے اس سے احادیث روایت کی ہیں، اور یہ محمد بن حسن بن زَبَالہ مخزومی سے معروف ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[33] میں ابن زَبَالہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[34]. یہ ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l فرماتے ہیں: ’’وضع حديثا على مالك، ووضع كتاب مثالب الأنساب، فجفاه أهل المدينة‘‘[35]. اس نے مالک l پر حدیث گھڑی ہے، اور کتاب ’’مثالب الانساب‘‘گھڑی ہے، سو اہلِ مدینہ نے اس سے اعراض کرلیا۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يسرق الحديث، ويروي عن الثقات ما لم يسمع منهم، من غير تدليس عنهم‘‘. یہ سرقۂ حدیث کرنے والوں میں سے ہے، اور اس نے ثقات کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جو ان سے نہیں سنی، ان سے تدلیس کے بغیر۔

حافظ ابن حبان l ہی نے ’’المجروحين‘‘[37] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l نے ’’الأسامي‘‘[38] میں ابن زَبَالہ کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام دارقطنی l نے ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[39]۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[40] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك بن أنس، والدَرَاوَرْدِي المعضلات‘‘. اس نے مالک بن انس اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے معضلات روایت کی ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[41] میں فرماتے ہیں: ’’عن مالك، والدَرَاوَرْدِي مناكير، قاله البخاري‘‘. اس نے مالک اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، یہ بات بخاری l نے کہی ہے۔

حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك مناكير، وهو ضعيف‘‘.اس نے مالک l کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، اور یہ ضعیف ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l نے ’’المحلى‘‘[43] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l ’’المحلى‘‘[44] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا أيضا من رواية محمد بن الحسن بن زَبَالة، المذكور بوضع الحديث، وهذا من وضعه بلا شك‘‘.اور یہ بھی بروایت محمد بن حسن بن زَبَالہ ہے، جو حدیث گھڑنے کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، اور بلاشبہ یہ حدیث اس کی گھڑی ہوئی ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[45] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستذكار‘‘[46] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’وهو متروك الحديث، مجمع على ترك الاحتجاج بحديثه‘‘.اور یہ متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث کے ترک پر اجماع ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ہی ’’الاستذكار‘‘[47] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’وهو حديث موضوع، منكر، لا يختلف أهل العلم في نكارته وضعفه، وأنه موضوع، وينسبون وضعه إلى محمد بن الحسن بن زبالة المدني، وحملوا عليه فيه، وتركوه‘‘.اور یہ من گھڑت، منکر حدیث ہے، اہلِ علم کا اس کی نکارت اور اس کے ضعیف ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور یہ کہ یہ من گھڑت ہے،اور محدثین محمد بن حسن بن زَبَالہ مدنی کی جانب اس کے گھڑنے کو منسوب کرتے ہیں، اور وہ اس میں اس ابن زَبَالہ پر ’’حمل‘‘کرتے ہیں، اور انہوں نے اسے ترک کردیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ابن زَبَالہ کو ایک حدیث کے تحت ’’تذكرة الحفاظ‘‘[48] میں ’’واهي الحديث‘‘ اور ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[49] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ابن زَبَالہ کو ’’الكاشف‘‘[50] میں ’’متروک‘‘، ’’تلخيص الموضوعات‘‘[51] میں ’’متهم‘‘ اور ’’ميزان‘‘میں ایک مقام پر ’’هالك‘‘[52] اور دوسرے مقام پر ’’تالف‘‘[53] کہا ہے۔

حافظ ابن کثیرl نے اپنی ’’تفسير‘‘[54] میں ایک حدیث کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ زرکشی l نے ’’إعلام الساجد‘‘[55] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف، هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’مجمع الزوائد‘‘ میں ایک مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘[56] اور دوسرے مقام پر ’’متروك‘‘[57] کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl ’’مجمع الزوائد‘‘[58]  میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’نسب إلى وضع الحديث‘‘. اسے حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’التقريب‘‘[59] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه‘‘. محدثین نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[60] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’متروک، متهم‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[61] میں ابن زَبَالہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے فرماتے ہیں: ’’قال أبو داود وغيره: كذاب‘‘. ابو داؤد l  وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔

حوالہ جات

[19] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۱3۳،رقم:799،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[20] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:۳۹۰،رقم:۴۸۶،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[21] انظر الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[22] تاريخ بغداد:۵/۳۲۷،رقم:۲۱۵۶،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[23]التاريخ الكبير:۱/۶۷،رقم:۱۵۴،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[24] الضعفاء الصغير:ص:103،رقم:314،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[25] أحوال الرجال:ص:231،رقم:233،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[26] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[27] سؤالات البرذعي:ص:۱۷۷،رقم:۲۸۶،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[28] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[29] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/31۰،رقم:۱۹58،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[30] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[31] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[32] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱/۱۳۴،رقم:۶۴،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .

[33] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۸،رقم:۵۶۱،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[34]انظر تهذيب الكمال:25/66،رقم:5148،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .

[35] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[36]  المجروحين من المحدثين:2/275،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[37]  المجروحين من المحدثين:2/20،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[38] الأسامي والكنى:۲/۳۰۳،رقم:۱۵۹۲،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[39] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[40] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۹۹،رقم:۱۷۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[41] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/80 ،رقم:219،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[42] الإرشاد فى معرفة علماء الحديث:۱/۲۲۹،رقم:۵۷،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .

[43] المحلى بالآثار:5/332،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[44] المحلى بالآثار:5/333،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[45] السنن الكبرى:۶/۱۰۷،رقم:۱۱۳۵۲،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[46] الاستذكار:۲/۴۶۴،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[47] الاستذكار:۸/2۲۲،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[48] تذكرة الحفاظ:ص:۵۱،رقم:۱۰۱،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .

[49] ذخيرة الحفاظ:۳/۱۶۲۱،رقم:۳۶۰۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[50] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۱۶۴،رقم:۴۷۹۴،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[51] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۲۱۱،رقم:۵16،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .

[52] میزان الاعتدال:4/278،رقم:9138،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[53] ميزان الاعتدال:3/625،رقم:7855،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[54] تفسير ابن كثير:5/۹2،ت:سامي بن محمد السلامة،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[55] إعلام الساجد بأحكام المساجد:ص:1۹۰،ت:أبو الوفا مصطفى المراغي،المجلس الأعلى للشؤون الإسلامية ـ القاهرة،الطبعة الرابعة۱۴1۶هـ .

[56] مجمع الزوائد:۶/1۶۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[57] مجمع الزوائد:۳/۳۰۴،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[58] مجمع الزوائد:1/۳۰۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[59] تقريب التهذيب:ص:۴۷۴،رقم:۵۸۱۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[60] لسان الميزان:۳/۴۳۰،رقم:۳۰۸۴،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .

[61] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۳،رقم:۸۳ ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو الحسن محمد بن حسن بن زَبَالہ، وھو محمد بن حسن بن ابی الحسن زَبَالی قرشی مخزومی مدنی (المتوفی قبل ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، كان يسرق الحديث‘‘[7]. یہ ثقہ نہیں ہے، یہ حدیث میں سرقہ کرتا تھا۔

حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’هذا كذاب، ليس بشيء‘‘[8]. یہ کذاب، لیس بشیء ہے۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والله! ما هو بثقة، حدث عدو الله عن مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: فتحت المدينة بالقرآن، وفتحت سائر المدن بالسيوف‘‘[9]. اللہ کی قسم! یہ ثقہ نہیں ہے، اس اللہ کے دشمن نے ’’مالک، عن ہشام بن عروہ، عن ابیہ، عن عائشہ، عن النبی ﷺ‘‘ کے طریق سے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مدینہ قرآن کے ذریعہ فتح ہوا ہے، اور باقی تمام شہر تلوار سے فتح ہوئے ہیں۔

حافظ احمد بن صالح مصری l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عن ابن زبالة مائة ألف حديث، ثم تبين لي أنه كان يضع الحديث، فتركت حديثه‘‘[10]. میں نے ابن زَبَالہ سے ایک لاکھ احادیث لکھی تھیں، پھر مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حدیث گھڑتا ہے، تو میں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[11] اور ’’الضعفاء‘‘[12] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’لم يقنع الناس بحديثه‘‘. لوگ اس شخص کی حدیث پر مطمئن نہیں۔

امام مسلم l نے ابن زَبَالہ کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے[14]۔

حافظ ابو زرعہ l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو في موضع أن يترك حديثه‘‘[15]. یہ ایک ایسے مقام پر ہے کہ اس کی حدیث کو ترک کیا جائے۔

حافظ ابو زرعہ l نے ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے[16]۔

امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ كذابا المدينة: محمد بن الحسن بن زبالة، ووهب بن وهب البَخْتَري، بلغني أنه كان يضع الحديث بالليل في السراج‘‘[17]. مدینہ کے دو کذاب ہیں: محمد بن حسن بن زَبَالہ، اور وہب بن وہب بختری، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ رات کو چراغ کی روشنی میں حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ما أشبه حديثه بحديث عمر بن أبي بكر المؤملي، والواقدي، ويعقوب الزهري، والعباس بن أبي شملة، وعبد العزيز بن عمران الزهري، وهم ضعفاء مشايخ أهل المدينة‘‘[18]. اس کی حدیث، حدیث عمر بن ابو بکر مؤملی، واقدی، یعقوب زہری، عباس بن ابی شملہ اور عبد العزیز بن عمران زہری کے کتنی ہی مشابہ ہے، اور یہ لوگ اہلِ مدینہ کے ضعیف مشایخ ہیں۔

حافظ ابو حاتم l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں مزید فرماتے ہیں: ’’واهي الحديث، (ضعيف الحديث)، ذاهب الحديث، منكر الحديث، عنده مناكير، وليس بمتروك الحديث‘‘[19]. یہ واہی الحدیث، ضعیف الحدیث، ذاہب الحدیث، منکر الحدیث ہے، اس کے پاس مناکیر ہیں، اور یہ متروک الحدیث نہیں ہے۔

امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[20] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن الحسن هذا فلين الحديث، لأنه روى أحاديث لم يتابع عليها، وقد حدث عنه أهل العلم، وهو يعرف بمحمد بن الحسن بن زَبَالة المخزومي‘‘. اور محمد بن حسن یہ لین الحدیث ہے، کیونکہ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں ہے، اور اہلِ علم کی ایک جماعت نے اس سے احادیث روایت کی ہیں، اور یہ محمد بن حسن بن زَبَالہ مخزومی سے معروف ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[21] میں ابن زَبَالہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[22]. یہ ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l فرماتے ہیں: ’’وضع حديثا على مالك، ووضع كتاب مثالب الأنساب، فجفاه أهل المدينة‘‘[23]. اس نے مالک l پر حدیث گھڑی ہے، اور کتاب ’’مثالب الانساب‘‘گھڑی ہے، سو اہلِ مدینہ نے اس سے اعراض کرلیا۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يسرق الحديث، ويروي عن الثقات ما لم يسمع منهم، من غير تدليس عنهم‘‘. یہ سرقۂ حدیث کرنے والوں میں سے ہے، اور اس نے ثقات کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جو ان سے نہیں سنی، ان سے تدلیس کے بغیر۔

حافظ ابن حبان l ہی نے ’’المجروحين‘‘[25] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l نے ’’الأسامي‘‘[26] میں ابن زَبَالہ کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام دارقطنی l نے ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[27]۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[28] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك بن أنس، والدَرَاوَرْدِي المعضلات‘‘. اس نے مالک بن انس اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے معضلات روایت کی ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’عن مالك، والدَرَاوَرْدِي مناكير، قاله البخاري‘‘. اس نے مالک اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، یہ بات بخاری l نے کہی ہے۔

حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك مناكير، وهو ضعيف‘‘.اس نے مالک l کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، اور یہ ضعیف ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l نے ’’المحلى‘‘[31] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l ’’المحلى‘‘[32] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا أيضا من رواية محمد بن الحسن بن زَبَالة، المذكور بوضع الحديث، وهذا من وضعه بلا شك‘‘.اور یہ بھی بروایت محمد بن حسن بن زَبَالہ ہے، جو حدیث گھڑنے کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، اور بلاشبہ یہ حدیث اس کی گھڑی ہوئی ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[33] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستذكار‘‘[34] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’وهو متروك الحديث، مجمع على ترك الاحتجاج بحديثه‘‘.اور یہ متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث کے ترک پر اجماع ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ہی ’’الاستذكار‘‘[35] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’وهو حديث موضوع، منكر، لا يختلف أهل العلم في نكارته وضعفه، وأنه موضوع، وينسبون وضعه إلى محمد بن الحسن بن زبالة المدني، وحملوا عليه فيه، وتركوه‘‘.اور یہ من گھڑت، منکر حدیث ہے، اہلِ علم کا اس کی نکارت اور اس کے ضعیف ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور یہ کہ یہ من گھڑت ہے،اور محدثین محمد بن حسن بن زَبَالہ مدنی کی جانب اس کے گھڑنے کو منسوب کرتے ہیں، اور وہ اس میں اس ابن زَبَالہ پر ’’حمل‘‘کرتے ہیں، اور انہوں نے اسے ترک کردیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ابن زَبَالہ کو ایک حدیث کے تحت ’’تذكرة الحفاظ‘‘[36] میں ’’واهي الحديث‘‘ اور ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[37] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ابن زَبَالہ کو ’’الكاشف‘‘[38] میں ’’متروک‘‘، ’’تلخيص الموضوعات‘‘[39] میں ’’متهم‘‘ اور ’’ميزان‘‘میں ایک مقام پر ’’هالك‘‘[40] اور دوسرے مقام پر ’’تالف‘‘[41] کہا ہے۔

حافظ ابن کثیرl نے اپنی ’’تفسير‘‘[42] میں ایک حدیث کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ زرکشی l نے ’’إعلام الساجد‘‘[43] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف، هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’مجمع الزوائد‘‘ میں ایک مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘[44] اور دوسرے مقام پر ’’متروك‘‘[45] کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl ’’مجمع الزوائد‘‘[46]  میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’نسب إلى وضع الحديث‘‘. اسے حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’التقريب‘‘[47] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه‘‘. محدثین نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[48] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’متروک، متهم‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[49] میں ابن زَبَالہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے فرماتے ہیں: ’’قال أبو داود وغيره: كذاب‘‘. ابو داؤد l  وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔

حوالہ جات

[7] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۱3۳،رقم:799،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[8] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:۳۹۰،رقم:۴۸۶،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[9] انظر الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[10] تاريخ بغداد:۵/۳۲۷،رقم:۲۱۵۶،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[11]التاريخ الكبير:۱/۶۷،رقم:۱۵۴،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[12] الضعفاء الصغير:ص:103،رقم:314،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[13] أحوال الرجال:ص:231،رقم:233،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[14] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[15] سؤالات البرذعي:ص:۱۷۷،رقم:۲۸۶،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[16] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[17] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/31۰،رقم:۱۹58،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[18] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[19] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[20] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱/۱۳۴،رقم:۶۴،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .

[21] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۸،رقم:۵۶۱،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[22]انظر تهذيب الكمال:25/66،رقم:5148،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .

[23] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[24]  المجروحين من المحدثين:2/275،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[25]  المجروحين من المحدثين:2/20،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[26] الأسامي والكنى:۲/۳۰۳،رقم:۱۵۹۲،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[27] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[28] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۹۹،رقم:۱۷۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[29] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/80 ،رقم:219،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[30] الإرشاد فى معرفة علماء الحديث:۱/۲۲۹،رقم:۵۷،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .

[31] المحلى بالآثار:5/332،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[32] المحلى بالآثار:5/333،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[33] السنن الكبرى:۶/۱۰۷،رقم:۱۱۳۵۲،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[34] الاستذكار:۲/۴۶۴،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[35] الاستذكار:۸/2۲۲،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[36] تذكرة الحفاظ:ص:۵۱،رقم:۱۰۱،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .

[37] ذخيرة الحفاظ:۳/۱۶۲۱،رقم:۳۶۰۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[38] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۱۶۴،رقم:۴۷۹۴،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[39] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۲۱۱،رقم:۵16،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .

[40] میزان الاعتدال:4/278،رقم:9138،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[41] ميزان الاعتدال:3/625،رقم:7855،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[42] تفسير ابن كثير:5/۹2،ت:سامي بن محمد السلامة،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[43] إعلام الساجد بأحكام المساجد:ص:1۹۰،ت:أبو الوفا مصطفى المراغي،المجلس الأعلى للشؤون الإسلامية ـ القاهرة،الطبعة الرابعة۱۴1۶هـ .

[44] مجمع الزوائد:۶/1۶۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[45] مجمع الزوائد:۳/۳۰۴،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[46] مجمع الزوائد:1/۳۰۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[47] تقريب التهذيب:ص:۴۷۴،رقم:۵۸۱۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[48] لسان الميزان:۳/۴۳۰،رقم:۳۰۸۴،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .

[49] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۳،رقم:۸۳ ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو الحسن محمد بن حسن بن زَبَالہ، وھو محمد بن حسن بن ابی الحسن زَبَالی قرشی مخزومی مدنی (المتوفی قبل ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، كان يسرق الحديث‘‘[97]. یہ ثقہ نہیں ہے، یہ حدیث میں سرقہ کرتا تھا۔

حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’هذا كذاب، ليس بشيء‘‘[98]. یہ کذاب، لیس بشیء ہے۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والله! ما هو بثقة، حدث عدو الله عن مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: فتحت المدينة بالقرآن، وفتحت سائر المدن بالسيوف‘‘[99]. اللہ کی قسم! یہ ثقہ نہیں ہے، اس اللہ کے دشمن نے ’’مالک، عن ہشام بن عروہ، عن ابیہ، عن عائشہ، عن النبی ﷺ‘‘ کے طریق سے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مدینہ قرآن کے ذریعہ فتح ہوا ہے، اور باقی تمام شہر تلوار سے فتح ہوئے ہیں۔

حافظ احمد بن صالح مصری l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عن ابن زبالة مائة ألف حديث، ثم تبين لي أنه كان يضع الحديث، فتركت حديثه‘‘[100]. میں نے ابن زَبَالہ سے ایک لاکھ احادیث لکھی تھیں، پھر مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حدیث گھڑتا ہے، تو میں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[101] اور ’’الضعفاء‘‘[102] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[103] میں فرماتے ہیں: ’’لم يقنع الناس بحديثه‘‘. لوگ اس شخص کی حدیث پر مطمئن نہیں۔

امام مسلم l نے ابن زَبَالہ کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے[104]۔

حافظ ابو زرعہ l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو في موضع أن يترك حديثه‘‘[105]. یہ ایک ایسے مقام پر ہے کہ اس کی حدیث کو ترک کیا جائے۔

حافظ ابو زرعہ l نے ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے[106]۔

امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ كذابا المدينة: محمد بن الحسن بن زبالة، ووهب بن وهب البَخْتَري، بلغني أنه كان يضع الحديث بالليل في السراج‘‘[107]. مدینہ کے دو کذاب ہیں: محمد بن حسن بن زَبَالہ، اور وہب بن وہب بختری، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ رات کو چراغ کی روشنی میں حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ما أشبه حديثه بحديث عمر بن أبي بكر المؤملي، والواقدي، ويعقوب الزهري، والعباس بن أبي شملة، وعبد العزيز بن عمران الزهري، وهم ضعفاء مشايخ أهل المدينة‘‘[108]. اس کی حدیث، حدیث عمر بن ابو بکر مؤملی، واقدی، یعقوب زہری، عباس بن ابی شملہ اور عبد العزیز بن عمران زہری کے کتنی ہی مشابہ ہے، اور یہ لوگ اہلِ مدینہ کے ضعیف مشایخ ہیں۔

حافظ ابو حاتم l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں مزید فرماتے ہیں: ’’واهي الحديث، (ضعيف الحديث)، ذاهب الحديث، منكر الحديث، عنده مناكير، وليس بمتروك الحديث‘‘[109]. یہ واہی الحدیث، ضعیف الحدیث، ذاہب الحدیث، منکر الحدیث ہے، اس کے پاس مناکیر ہیں، اور یہ متروک الحدیث نہیں ہے۔

امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[110] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن الحسن هذا فلين الحديث، لأنه روى أحاديث لم يتابع عليها، وقد حدث عنه أهل العلم، وهو يعرف بمحمد بن الحسن بن زَبَالة المخزومي‘‘. اور محمد بن حسن یہ لین الحدیث ہے، کیونکہ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں ہے، اور اہلِ علم کی ایک جماعت نے اس سے احادیث روایت کی ہیں، اور یہ محمد بن حسن بن زَبَالہ مخزومی سے معروف ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[111] میں ابن زَبَالہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[112]. یہ ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l فرماتے ہیں: ’’وضع حديثا على مالك، ووضع كتاب مثالب الأنساب، فجفاه أهل المدينة‘‘[113]. اس نے مالک l پر حدیث گھڑی ہے، اور کتاب ’’مثالب الانساب‘‘گھڑی ہے، سو اہلِ مدینہ نے اس سے اعراض کرلیا۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[114] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يسرق الحديث، ويروي عن الثقات ما لم يسمع منهم، من غير تدليس عنهم‘‘. یہ سرقۂ حدیث کرنے والوں میں سے ہے، اور اس نے ثقات کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جو ان سے نہیں سنی، ان سے تدلیس کے بغیر۔

حافظ ابن حبان l ہی نے ’’المجروحين‘‘[115] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l نے ’’الأسامي‘‘[116] میں ابن زَبَالہ کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام دارقطنی l نے ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[117]۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[118] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك بن أنس، والدَرَاوَرْدِي المعضلات‘‘. اس نے مالک بن انس اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے معضلات روایت کی ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[119] میں فرماتے ہیں: ’’عن مالك، والدَرَاوَرْدِي مناكير، قاله البخاري‘‘. اس نے مالک اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، یہ بات بخاری l نے کہی ہے۔

حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[120] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك مناكير، وهو ضعيف‘‘.اس نے مالک l کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، اور یہ ضعیف ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l نے ’’المحلى‘‘[121] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l ’’المحلى‘‘[122] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا أيضا من رواية محمد بن الحسن بن زَبَالة، المذكور بوضع الحديث، وهذا من وضعه بلا شك‘‘.اور یہ بھی بروایت محمد بن حسن بن زَبَالہ ہے، جو حدیث گھڑنے کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، اور بلاشبہ یہ حدیث اس کی گھڑی ہوئی ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[123] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستذكار‘‘[124] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’وهو متروك الحديث، مجمع على ترك الاحتجاج بحديثه‘‘.اور یہ متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث کے ترک پر اجماع ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ہی ’’الاستذكار‘‘[125] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’وهو حديث موضوع، منكر، لا يختلف أهل العلم في نكارته وضعفه، وأنه موضوع، وينسبون وضعه إلى محمد بن الحسن بن زبالة المدني، وحملوا عليه فيه، وتركوه‘‘.اور یہ من گھڑت، منکر حدیث ہے، اہلِ علم کا اس کی نکارت اور اس کے ضعیف ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور یہ کہ یہ من گھڑت ہے،اور محدثین محمد بن حسن بن زَبَالہ مدنی کی جانب اس کے گھڑنے کو منسوب کرتے ہیں، اور وہ اس میں اس ابن زَبَالہ پر ’’حمل‘‘کرتے ہیں، اور انہوں نے اسے ترک کردیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ابن زَبَالہ کو ایک حدیث کے تحت ’’تذكرة الحفاظ‘‘[126] میں ’’واهي الحديث‘‘ اور ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[127] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ابن زَبَالہ کو ’’الكاشف‘‘[128] میں ’’متروک‘‘، ’’تلخيص الموضوعات‘‘[129] میں ’’متهم‘‘ اور ’’ميزان‘‘میں ایک مقام پر ’’هالك‘‘[130] اور دوسرے مقام پر ’’تالف‘‘[131] کہا ہے۔

حافظ ابن کثیرl نے اپنی ’’تفسير‘‘[132] میں ایک حدیث کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ زرکشی l نے ’’إعلام الساجد‘‘[133] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف، هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’مجمع الزوائد‘‘ میں ایک مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘[134] اور دوسرے مقام پر ’’متروك‘‘[135] کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl ’’مجمع الزوائد‘‘[136]  میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’نسب إلى وضع الحديث‘‘. اسے حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’التقريب‘‘[137] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه‘‘. محدثین نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[138] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’متروک، متهم‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[139] میں ابن زَبَالہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے فرماتے ہیں: ’’قال أبو داود وغيره: كذاب‘‘. ابو داؤد l  وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔

حوالہ جات

[97] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۱3۳،رقم:799،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[98] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:۳۹۰،رقم:۴۸۶،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[99] انظر الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[100] تاريخ بغداد:۵/۳۲۷،رقم:۲۱۵۶،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[101]التاريخ الكبير:۱/۶۷،رقم:۱۵۴،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[102] الضعفاء الصغير:ص:103،رقم:314،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[103] أحوال الرجال:ص:231،رقم:233،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[104] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[105] سؤالات البرذعي:ص:۱۷۷،رقم:۲۸۶،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[106] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[107] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/31۰،رقم:۱۹58،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[108] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[109] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[110] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱/۱۳۴،رقم:۶۴،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .

[111] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۸،رقم:۵۶۱،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[112]انظر تهذيب الكمال:25/66،رقم:5148،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .

[113] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[114]  المجروحين من المحدثين:2/275،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[115]  المجروحين من المحدثين:2/20،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[116] الأسامي والكنى:۲/۳۰۳،رقم:۱۵۹۲،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[117] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[118] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۹۹،رقم:۱۷۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[119] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/80 ،رقم:219،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[120] الإرشاد فى معرفة علماء الحديث:۱/۲۲۹،رقم:۵۷،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .

[121] المحلى بالآثار:5/332،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[122] المحلى بالآثار:5/333،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[123] السنن الكبرى:۶/۱۰۷،رقم:۱۱۳۵۲،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[124] الاستذكار:۲/۴۶۴،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[125] الاستذكار:۸/2۲۲،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[126] تذكرة الحفاظ:ص:۵۱،رقم:۱۰۱،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .

[127] ذخيرة الحفاظ:۳/۱۶۲۱،رقم:۳۶۰۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[128] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۱۶۴،رقم:۴۷۹۴،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[129] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۲۱۱،رقم:۵16،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .

[130] میزان الاعتدال:4/278،رقم:9138،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[131] ميزان الاعتدال:3/625،رقم:7855،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[132] تفسير ابن كثير:5/۹2،ت:سامي بن محمد السلامة،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[133] إعلام الساجد بأحكام المساجد:ص:1۹۰،ت:أبو الوفا مصطفى المراغي،المجلس الأعلى للشؤون الإسلامية ـ القاهرة،الطبعة الرابعة۱۴1۶هـ .

[134] مجمع الزوائد:۶/1۶۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[135] مجمع الزوائد:۳/۳۰۴،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[136] مجمع الزوائد:1/۳۰۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[137] تقريب التهذيب:ص:۴۷۴،رقم:۵۸۱۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[138] لسان الميزان:۳/۴۳۰،رقم:۳۰۸۴،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .

[139] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۳،رقم:۸۳ ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو الحسن محمد بن حسن بن زَبَالہ، وھو محمد بن حسن بن ابی الحسن زَبَالی قرشی مخزومی مدنی (المتوفی قبل ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، كان يسرق الحديث ‘‘[2]. یہ ثقہ نہیں ہے، یہ حدیث میں سرقہ کرتا تھا۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’هذا كذاب، ليس بشيء‘‘[3]. یہ کذاب، لیس بشیء ہے۔

حافظ احمد بن صالح مصری l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عن ابن زبالة مائة ألف حديث، ثم تبين لي أنه كان يضع الحديث، فتركت حديثه‘‘[4]. میں نے ابن زَبَالہ سے ایک لاکھ احادیث لکھی تھیں، پھر مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حدیث گھڑتا ہے، تو میں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[5] اور ’’الضعفاء‘‘[6] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[7] میں فرماتے ہیں: ’’لم يقنع الناس بحديثه‘‘. لوگ اس شخص کی حدیث پر مطمئن نہیں۔

امام مسلم l نے ابن زَبَالہ کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے[8]۔

حافظ ابو زرعہ l ، ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو في موضع أن يترك حديثه‘‘[9]. یہ ایک ایسے مقام پر ہے کہ اس کی حدیث کو ترک کیا جائے۔

حافظ ابو زرعہ l نے ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے[10]۔

امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ كذابا المدينة: محمد بن الحسن بن زبالة، ووهب بن وهب البَخْتَري، بلغني أنه كان يضع الحديث بالليل في السراج‘‘[11]. مدینہ کے دو کذاب ہیں، محمد بن حسن بن زَبَالہ، اور وہب بن وہب بختری، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ رات کو چراغ کی روشنی میں حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ما أشبه حديثه بحديث عمر بن أبي بكر المؤملي، والواقدي، ويعقوب الزهري، والعباس بن أبي شملة، وعبد العزيز بن عمران الزهري، وهم ضعفاء مشايخ أهل المدينة‘‘[12]. اس کی حدیث، حدیث عمر بن ابو بکر مؤملی، واقدی، یعقوب زہری، عباس بن ابی شملہ اور عبد العزیز بن عمران زہری کے کتنی ہی مشابہ ہے، اور یہ لوگ اہلِ مدینہ کے ضعیف مشایخ ہیں۔

حافظ ابو حاتم l مزید فرماتے ہیں: ’’واهي الحديث، (ضعيف الحديث)، ذاهب الحديث، منكر الحديث، عنده مناكير، وليس بمتروك الحديث‘‘[13]. یہ واہی الحدیث، ضعیف الحدیث، ذاہب الحدیث، منکر الحدیث ہے، اس کے پاس مناکیر ہیں، اور یہ متروک الحدیث نہیں ہے۔

امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[14] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن الحسن المدني لين الحديث، قد روى أحاديث لم يتابع عليها، وقد حدث عنه أهل العلم واحتملوا حديثه‘‘. اور محمد بن حسن مدنی لین الحدیث ہے، کیونکہ اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں ہے، اور اہلِ علم کی ایک جماعت نے اس سے احادیث روایت کی ہیں، اور اس کی حدیث کا ’’احتمال‘‘کیا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[15] میں ابن زَبَالہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[16]. یہ ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l فرماتے ہیں: ’’وضع حديثا على مالك، ووضع كتاب مثالب الأنساب، فجفاه أهل المدينة‘‘[17]. اس نے مالک l پر حدیث گھڑی ہے، اور کتاب ’’مثالب الانساب‘‘گھڑی ہے، سو اہلِ مدینہ نے اس سے اعراض کرلیا۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[18] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يسرق الحديث، ويروي عن الثقات ما لم يسمع منهم، من غير تدليس عنهم‘‘. یہ سرقۂ حدیث کرنے والوں میں سے ہے، اور اس نے ثقات کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جو ان سے نہیں سنی، ان سے تدلیس کے بغیر۔

حافظ ابن حبان l ہی نے ’’المجروحين‘‘[19] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l نے ’’الأسامي‘‘[20] میں ابن زَبَالہ کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام دارقطنی l نے ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[21]۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك بن أنس، والدراوردي المعضلات‘‘. اس نے مالک بن انس اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے معضلات روایت کی ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’عن مالك، والدراوردي مناكير، قاله البخاري ‘‘. اس نے مالک اور دَرَاوَرْدِی کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، یہ بات بخاری l نے کہی ہے۔

حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك مناكير، وهو ضعيف‘‘.اس نے مالک کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں، اور یہ ضعیف ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l نے ’’المحلى‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری l ’’المحلى‘‘[26] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا أيضا من رواية محمد بن الحسن بن زَبَالة، المذكور بوضع الحديث، وهذا من وضعه بلا شك‘‘.اور یہ بھی بروایت محمد بن حسن بن زَبَالہ ہے، جو حدیث گھڑنے کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، اور بلاشبہ یہ حدیث اس کی گھڑی ہوئی ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[27] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستذكار‘‘[28] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’وهو متروك الحديث، مجمع على ترك الاحتجاج بحديثه‘‘.اور یہ متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث کے ترک پر اجماع ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ہی ’’الاستذكار‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں:’’وهو حديث موضوع، منكر، لا يختلف أهل العلم في نكارته وضعفه، وأنه موضوع، وينسبون وضعه إلى محمد بن الحسن بن زبالة المدني، وحملوا عليه فيه، وتركوه‘‘.اور یہ من گھڑت، منکر حدیث ہے، اہلِ علم کا اس کی نکارت اور اس کے ضعیف ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور یہ کہ یہ من گھڑت ہے،اور محدثین محمد بن حسن بن زَبَالہ مدنی کی جانب اس کے گھڑنے کو منسوب کرتے ہیں، اور وہ اس ابن زَبَالہ پر ’’حمل‘‘کرتے ہیں، اور انہوں نے اسے ترک کردیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[30] میں ایک حدیث کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ابن زَبَالہ کو ’’الكاشف‘‘[31] میں ’’متروک‘‘، ’’تلخيص الموضوعات‘‘[32] میں ’’متهم‘‘ اور ’’ميزان‘‘[33] میں ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[34] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’تالف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن کثیرl نے اپنی ’’تفسير‘‘[35] میں ایک حدیث کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ زرکشی l نے ’’إعلام الساجد‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف، هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[37]  میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[38]  میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl ’’مجمع الزوائد‘‘[39]  میں ایک روایت کے تحت ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’نسب إلى وضع الحديث‘‘. اسے حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’التقريب‘‘[40] میں ابن زَبَالہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه‘‘. محدثین نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[41] میں ایک مقام پر ابن زَبَالہ کو ’’متروک، متهم‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[42] میں ابن زَبَالہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے فرماتے ہیں: ’’قال أبو داود وغيره: كذاب‘‘. ابو داؤد l  وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔

حوالہ جات

[2] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۱3۳،رقم:799،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[3] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:۳۹۰،رقم:۴۸۶،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[4] تاريخ بغداد:۵/۳۲۷،رقم:۲۱۵۶،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[5]التاريخ الكبير:۱/۶۷،رقم:۱۵۴،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[6] الضعفاء الصغير:ص:103،رقم:314،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[7] أحوال الرجال:ص:231،رقم:233،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[8] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[9] سؤالات البرذعي:ص:۱۷۷،رقم:۲۸۶،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[10] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[11] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/31۰،رقم:۱۹۸۵،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[12] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[13] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[14] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱/۱۳۴،رقم:۶۴،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .

[15] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۸،رقم:۵۶۱،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[16]انظر تهذيب الكمال:25/66،رقم:5148،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .

[17] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[18]  المجروحين من المحدثين:2/275،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[19]  المجروحين من المحدثين:2/20،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[20] الأسامي والكنى:۲/۳۰۳،رقم:۱۵۹۲،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[21] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .

[22] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۹۹،رقم:۱۷۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[23] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/80 ،رقم:219،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[24] الإرشاد فى معرفة علماء الحديث:۱/۲۲۹،رقم:۵۷،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .

[25] المحلى بالآثار:5/332،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[26] المحلى بالآثار:5/333،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[27] السنن الكبرى:۶/۱۰۷،رقم:۱۱۳۵۲،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[28] الاستذكار:۲/۴۶۴،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[29] الاستذكار:۸/2۲۲،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .

[30] ذخيرة الحفاظ:۳/۱۶۲۱،رقم:۳۶۰۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[31] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۱۶۴،رقم:۴۷۹۴،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[32] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۲۱۱،رقم:۵۲۱،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .

[33] میزان الاعتدال:4/278،رقم:9138،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[34] ميزان الاعتدال:3/625،رقم:7855،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[35] تفسير ابن كثير:۲/۹۵،ت:سامي بن محمد السلامة،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[36] إعلام الساجد بأحكام المساجد:ص:1۹۰،ت:أبو الوفا مصطفى المراغي،المجلس الأعلى للشؤون الإسلامية ـ القاهرة،الطبعة الرابعة۱۴1۶هـ .

[37] مجمع الزوائد:۶/1۶۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[38] مجمع الزوائد:۳/۳۰۴،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[39] مجمع الزوائد:1/۳۰۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[40] تقريب التهذيب:ص:۴۷۴،رقم:۵۸۱۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[41] لسان الميزان:۳/۴۳۰،رقم:۳۰۸۴،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .

[42] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۳،رقم:۸۳ ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ