روایت: ’’رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قبیلہ بنو الحارث کے پاس گئے، وہ لوگ بخار میں مبتلا تھے، حضور ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہے؟ کہنے لگے: حضور ہم لوگ بخار میں مبتلا ہیں، حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس تو صُعَیب موجود ہے، (یہ مدینہ کی ایک خاص جگہ کا نام ہے جو وادی بطحان میں ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم صُعَیب کو کیا کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کی مٹی لے کر پانی میں ڈال کر اس پر یہ پڑھ کر لعاب ڈالو: ’’بسم الله، تراب أرضنا بريق بعضنا شفاء لمريضنا بإذن ربنا‘‘، ان حضرات نے اس کا استعمال کیا، اللہ کے فضل سے بخار جاتا رہا‘‘۔
حکم: شدید ضعیف ہے، بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] الدرة الثمينة في أخبار المدينة:ص:۱۱۵،رقم:۳۱،ت:صلاح الدين بن عباس شكر،المملكة العربية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1427هـ .
[2] التعريف بما أنست الهجرة من معالم دار الهجرة:ص:137،ت:سليمان الرحيلي،دارة الملك عبد العزيز ـ الرياض،الطبعة1426هـ .
[3] الدرة الثمينة في أخبار المدينة:ص:۱۱۷،رقم:۳۱،ت:صلاح الدين بن عباس شكر،المملكة العربية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1427هـ .
[4] خلاصة الوفاء بأخبار دار المصطفى صلى الله عليه وسلم:1/173،ت:محمد الأمين محمد محمود أحمد الجكيني،مكتبة حبيب محمود أحمد ـ المدينة المنورة،الطبعة1417هـ .
[5] شرح العلامة الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية:12/258،ت:محمد عبد العزيز الخالدي، دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1417هـ .
[6] سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد:10/330،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۱۴هـ. .
[7] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۱3۳،رقم:799،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[8] سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين:ص:۳۹۰،رقم:۴۸۶،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .
[9] انظر الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[10] تاريخ بغداد:۵/۳۲۷،رقم:۲۱۵۶،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[11]التاريخ الكبير:۱/۶۷،رقم:۱۵۴،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[12] الضعفاء الصغير:ص:103،رقم:314،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[13] أحوال الرجال:ص:231،رقم:233،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[14] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[15] سؤالات البرذعي:ص:۱۷۷،رقم:۲۸۶،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[16] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[17] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/31۰،رقم:۱۹58،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[18] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[19] الجرح والتعديل:7/2۲۸،رقم:۱۲۵۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[20] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱/۱۳۴،رقم:۶۴،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .
[21] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۸،رقم:۵۶۱،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[22]انظر تهذيب الكمال:25/66،رقم:5148،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .
[23] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[24] المجروحين من المحدثين:2/275،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[25] المجروحين من المحدثين:2/20،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[26] الأسامي والكنى:۲/۳۰۳،رقم:۱۵۹۲،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[27] انظر تهذيب التهذيب:9/117،رقم:160،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[28] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۹۹،رقم:۱۷۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[29] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/80 ،رقم:219،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[30] الإرشاد فى معرفة علماء الحديث:۱/۲۲۹،رقم:۵۷،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .
[31] المحلى بالآثار:5/332،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .
[32] المحلى بالآثار:5/333،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .
[33] السنن الكبرى:۶/۱۰۷،رقم:۱۱۳۵۲،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
[34] الاستذكار:۲/۴۶۴،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .
[35] الاستذكار:۸/2۲۲،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1423هـ .
[36] تذكرة الحفاظ:ص:۵۱،رقم:۱۰۱،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .
[37] ذخيرة الحفاظ:۳/۱۶۲۱،رقم:۳۶۰۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .
[38] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۱۶۴،رقم:۴۷۹۴،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .
[39] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۲۱۱،رقم:۵16،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .
[40] میزان الاعتدال:4/278،رقم:9138،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[41] ميزان الاعتدال:3/625،رقم:7855،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[42] تفسير ابن كثير:5/۹2،ت:سامي بن محمد السلامة،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .
[43] إعلام الساجد بأحكام المساجد:ص:1۹۰،ت:أبو الوفا مصطفى المراغي،المجلس الأعلى للشؤون الإسلامية ـ القاهرة،الطبعة الرابعة۱۴1۶هـ .
[44] مجمع الزوائد:۶/1۶۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[45] مجمع الزوائد:۳/۳۰۴،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[46] مجمع الزوائد:1/۳۰۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[47] تقريب التهذيب:ص:۴۷۴،رقم:۵۸۱۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[48] لسان الميزان:۳/۴۳۰،رقم:۳۰۸۴،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .
[49] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۳،رقم:۸۳ ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[50] صحيح مسلم:4/1724،رقم:2194،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1412هـ .
[51] المنهاج شرح صحيح مسلم:14/184،المطبعة المصرية ـ الأزهر،الطبعة الأولى1347هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’والله! إن تربتها ميمونة‘‘. اللہ کی قسم! بے شک اس کی مٹی میمونہ ہے‘‘، بعض مقام پر یہ الفاظ ہیں: ’’والله! إن تربتها مؤمنة‘‘. اللہ کی قسم! اس کی مٹی مؤمنہ ہے‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’غبار المدينة شفاء من الجذام‘‘. مدینہ کا غبار کوڑھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
روایت:’’حضرت فاطمہ R کا روزے کی حالت میں آدھی روٹی کھانا، اور آدھی روٹی آپ ﷺ کےلئے دوپٹے میں باندھ لینا، اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ نے کچھ نہ کھایا ہو، پھر خود اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کو وہی آدھی روٹی کھلائی، اور پھر حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے‘‘۔