اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’غبار المدينة شفاء من الجذام‘‘. مدینہ کا غبار کوڑھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی قاسم بن عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم قرشی عدوی عُمری مدنی (المتوفی ما بین ۱۵۱– ۱۶۰ھ [59]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ سعید بن ابی مریم جُمَحی l نے قاسم عمری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[60]۔
حافظ یحیی بن معین l نے قاسم بن عبد اللہ عمری کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[61]۔
حافظ یحیی بن معین l ہی نے ایک اور موقع پر قاسم بن عبد اللہ عمری کو ’’كذاب، خبيث‘‘ کہا ہے[62]۔
حافظ علی بن مدینیl فرماتےہیں:’’ذاك ضعيف عندنا، ليس بشيء‘‘[63]. یہ ہمارے نزدیک ضعیف ہے، لیس بشیء ہے۔
امام احمد بن حنبل l ’’العلل‘‘[64] میں قاسم بن عبد اللہ عمری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو عندي كان يكذب‘‘. یہ میرے نزدیک جھوٹ بولتا تھا۔
امام احمد بن حنبل l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’ كذاب، كان يضع الحديث، ترك الناس حديثه‘‘[65]. یہ جھوٹا تھا، حدیث گھڑتا تھا، لوگوں نے اس کی حدیث ترک کردی تھی۔
امام احمد بن حنبل l نے ایک دوسرے مقام پر قاسم بن عبد اللہ عمری کو ’’أف أف! ليس بشيء‘‘ کہا ہے[66]۔
امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[67] میں فرماتے ہیں: ’’سكتوا عنه، مدني، قال أحمد: كان يكذب‘‘. محدثین نے اس سے سکوت کیا ہے، یہ مدنی ہے، احمد l فرماتے ہیں: یہ جھوٹ بولتا تھا۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘[68] میں امام احمد بن حنبل l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[69] میں فرماتے ہیں: ’’القاسم وعبد الرحمن العمريان منكرا الحديث جدا، وكانا شريفين‘‘. قاسم عمری اور عبد الرحمن عمری دونوں منکر الحدیث جداً ہیں، اور دونوں شریف تھے۔
حافظ ابو زرعہ l ، قاسم عمری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، لا يساوي شيئا، متروك الحديث، منكر الحديث‘‘[70]. یہ ضعیف ہے، کسی چیز کے برابر نہیں، متروک الحدیث، منکر الحدیث ہے۔
حافظ ابو الحسن عِجلی l نے قاسم عمری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[71]۔
حافظ ابو الفتح ازدی l نے قاسم عمری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[72]۔
امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ما كتبت له حديثا قط، ولا هممت به‘‘[73]. میں نے کبھی اس سے حدیث نہیں لکھی، اور نہ ہی اس کا ارادہ کیا ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے قاسم بن عبد اللہ عمری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[74]۔
حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوی l نے قاسم بن عبد اللہ عمری کو ’’متروك، مهجور‘‘ کہا ہے[75]۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[76] میں قاسم بن عبد اللہ عمری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[77] میں قاسم عمری کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ كان رديء الحفظ، كثير الوهم، ممن يقلب الأسانيد حتى يأتي بالشيء الذي يشبه المعمول، كان أحمد بن حنبل يرميه بالكذب‘‘. یہ ردئ الحفظ ہے، اسے کثرت سے وہم ہوتا ہے، ان لوگوں میں سے ہے جو اسانید میں قلب کرتے ہیں، حتی کہ یہ ایسی چیز لے آتا ہے جو بنائی ہوئی چیز کے مشابہ ہوتی ہے، احمد بن حنبل l نے اسے جھوٹ میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[78] میں قاسم عمری کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وللقاسم غير ما ذكرت من الحديث، وعامة رواياته مما لا يتابع عليه‘‘. قاسم کی میری ذکرکردہ احادیث کے علاوہ احادیث بھی ہیں، اور اس کی اکثر روایات میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
امام دار قطنی l نے ’’سنن‘‘[79] میں ایک حدیث کے تحت قاسم عمری کو ’’ضعيف‘‘ کہاہے۔
امام دار قطنی l نے ایک مقام پر قاسم عمری کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[80]۔
حافظ مغلطای l ’’شرح ابن ماجة‘‘[81] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وروى الحافظ أبو الحسن الدارقطني في سننه من حديث القاسم بن عبد الله العمري، المتهم بالوضع عند أحمد وغيره ...‘‘. ’’حافظ ابو الحسن دار قطنی l نے اپنی ’’سنن‘‘میں قاسم بن عبد اللہ عمری کی حدیث روایت کی ہے، جو کہ احمد l وغیرہ کے نزدیک متہم بالوضع ہے۔۔۔‘‘۔
حافظ ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’معرفة‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’وأوهى أسانيد العمريين: محمد بن القاسم بن عبد الله بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر، عن أبيه، عن جده، فإن محمدا، والقاسم، وعبد الله لم يحتج بهم‘‘. عمریین کی سب سے واہی اسناد ’’محمد بن قاسم بن عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر، عن ابیہ، عن جدہ‘‘ ہے، کیونکہ محمد، قاسم، اور عبد اللہ غیر محتج ہیں۔
امام حاکم l ’’المدخل‘‘[83] میں قاسم عمری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن عمه، وعبد الله بن دينار المناكير‘‘. اس نے اپنے چچا اور عبد اللہ بن دینار کے انتساب سے مناکیر روایت کی ہیں۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[84] میں قاسم عمری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، قاله علي بن المديني ويحيى بن معين‘‘ . یہ لیس بشیء ہے، علی بن مدینی l اور یحیی بن معین l نے یہ بات فرمائی ہے۔
امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[85] میں ایک روایت کے تحت قاسم عمری کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[86] میں ایک روایت کے تحت قاسم عمری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو الحسن بن قطان l ’’بيان الوهم‘‘[87] میں ایک حدیث کے تحت قاسم عمری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متهم بوضع الأحاديث‘‘. یہ احادیث گھڑنے میں متہم ہے۔
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[88] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کیا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ایک روایت کے تحت قاسم عمری کو ’’المهذب‘‘[89] میں ’’واه‘‘ اور ’’تلخيص‘‘[90] میں ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرl نے ’’البداية‘‘[91] میں ایک روایت کے تحت قاسم عمری کو ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[92] میں قاسم عمری کو متہم بالوضع راویوں کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أحمد: ليس بشيء، كان يكذب، ويضع الحديث‘‘. احمد l فرماتے ہیں کہ لیس بشیء ہے، جھوٹ بولتا تھا، اور حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[93] میں قاسم عمری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، رماه أحمد بالكذب‘‘. یہ متروک ہے، احمد l نے اسے جھوٹ میں متہم قرار دیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه‘‘[94] میں قاسم عمری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أحمد: كان يكذب، ويضع‘‘. احمد l فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولتا تھا، اور حدیث گھڑتا تھا۔
حوالہ جات
[59] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير ’’میں قاسم بن عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم قرشی عدوی عُمری مدنی کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۵۱ اور 1۶۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔(التاريخ الصغير:2/۱۰۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).
[60] الضعفاء الكبير:۳/۴۷۴،رقم:۱۵۲۹،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .
[61] تاريخ يحيي بن معين برواية الدوري:1/۱۱۸،رقم:۶۸۶،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[62] انظرالمجروحين:۲/212،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[63] سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة لعلي بن المديني في الجرح والتعديل:ص:113،رقم:128،ت: موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1404هـ .
[64] كتاب العلل ومعرفة الرجال:3/۱۸۶،رقم:۴۸۰۳،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض، الطبعة الثانية1422هـ .
[65] انظر الجرح والتعديل:7/111،رقم:643،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[66] انظر الكامل في ضعفاءالرجال:7/150،رقم:۱577،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[67] التاريخ الكبير:۷/۵۲،رقم:۱۰۰۶۸،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[68] التاریخ الأوسط:2/۱۳۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[69] أحوال الرجال:ص:۲۲6،رقم:۲۲8،229،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[70] الجرح والتعديل:۷/۱۱۲،رقم:۶۴۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[71] انظرتهذيب التهذيب: 8/321،رقم:578،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[72] انظرتهذيب التهذيب: 8/321،رقم:578،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[73] انظرتهذيب الكمال:23/378،رقم:4798،ت:بشارعواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .
[74] الجرح والتعديل:۷/۱۱۲،رقم:۶۴۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[75] انظرتهذيب التهذيب: 8/321،رقم:578،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[76] الضعفاء والمتروكين:ص:۲00،رقم:5۲۱،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[77] المجروحين:۲/۲۱۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[78] الكامل في ضعفاءالرجال:۷/151،رقم:۱577،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[79] سنن الدار قطني:1/71،رقم:123،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[80] انظر الأحكام الوسطى:۳/۳۴۱،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة ۱۴16هـ .
[81] شرح سنن ابن ماجة:2/544،ت:كامل عويضة،مكتبة نزار مصطفى الباز ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى 1419هـ .
[82] كتاب معرفة علوم الحديث:ص:57،ت:السيد معظم حسين،المكتبة العلمية ـ المدينة المنورة،الطبعة الثالثة 1397هـ .
[83] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۸۶،رقم:۱۵۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[84] المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم:1/78،رقم:195،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[85] السنن الكبرى للبيهقي:۱۰/۱۸۱،رقم:۲۰۲۸۲،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثالثة1424هـ .
[86] ذخيرة الحفاظ:ص:۸۳۰ ،رقم:۱۶۳۲،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[87] بيان الوهم والايهام الواقعين في كتاب الأحكام:2/89،رقم:61،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .
[88] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۱۲۸،رقم:۴۵۱۵،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[89] المهذب في اختصار السنن الكبير:8/4094،رقم:15654،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى1422هـ .
[90] تلخيص كتاب الموضوعات: ص:۱۶۹،رقم:۳۷۳ ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[91] البدايةوالنهاية:۲/۲۵۸،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر للطباعة والنشر،الطبعة الأولى 1417هـ .
[92] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:2۱۰،رقم:۵۹۲،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[93] تقريب التهذيب:ص:۴۵۰،رقم:۵۴۶۸،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
[94] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/۹۷،رقم:۵،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .