التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی بن مسکین قاضی انصاری مدنی

المتوفی ۲۰۷ھایک روایت میں تذکرہ

ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی بن مسکین قاضی انصاری مدنی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی بن مسکین قاضی انصاری مدنی (المتوفی ۲۰۷ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

 حافظ ابن سعدl ’’الطبقات‘‘[34] میں محمد بن موسی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكانت له رواية وعلم، وبصر بالفتوى والفقه‘‘. ان کو روایت وعلم، نیز فتوی وفقہ میں بصیرت حاصل تھی۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[35] اور ’’التاريخ الصغير‘‘[36] میں ابو غَزِیَّہ کے بارے میں  فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس مناکیر ہیں۔

امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[37] میں اسحاق بن سعید کے ترجمہ میں محمد بن موسی بن مسکین کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو زرعہ l نے ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[38]۔

حافظ ابو حاتم l نے ابو غَزِیَّہ کو ’’ضعيف الحديث‘‘  کہا ہے[39]۔

علامہ وکیع ابو بکر محمد بن خلف l ’’أخبار القضاة‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’وكان أبو غَزِيَّة محمد بن موسى من أهل العلم‘‘.ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی اہل علم میں سے تھے۔

علامہ وکیع ابو بکر محمد بن خلف l ہی ’’أخبار القضاة‘‘[41] میں چند سطروں کے بعد فرماتے ہیں: ’’وحديثه مستقيم‘‘. اور اس کی حدیث مستقیم ہے۔

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[42] میں ابو غَزِیَّہ کے ترجمہ میں امام بخاری l  کا کلام، پھر ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’ولا يتابع عليه إلا من طريق فيها ضعف‘‘. اور ان کی متابعت صرف ایسے طریق میں ہوئی ہے جس میں ضعف ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[43] میں فرماتے ہیں: ’’كان ممن يسرق الحديث، ويحدث به، ويروي عن الثقات أشياء موضوعات، حتى إذا سمعها المبتدئ في الصناعة، سبق إلى قلبه أنه كان المتعمد لها‘‘. یہ حدیث میں سرقہ کرکے اسے بیان کرتا تھا، اور ثقات کے انتساب سے من گھڑت چیزیں روایت کرتا تھا، حتی کہ صناعت کا مبتدی بھی ان کو سن لے تو اس کے دل میں یہ آجائے کہ یہ جان بوجھ کر اسے لاتا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[44] میں حافظ ابن حبان l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[45] میں ابو غَزِیَّہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وقد وقع في رواياته أشياء أنكرت عليه‘‘. اور اس کی روایات میں ایسی چیزیں ہیں جن کو منکر قرار دیا گیا ہے۔

امام دارقطنی l ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا كذب على مالك، والحمل فيه على أبي غَزِيَّة، والمتهم بوضعه هو، أو من حدث به عنه‘‘[46]. اور یہ مالک l پر جھوٹ ہے، اور اس میں ’’حمل‘‘ابو غَزِیَّہ پر ہے، اور وہ اس کے گھڑنے میں متہم ہے، یا جس نے اس سے اسے بیان کیا ہے ۔

حافظ ابو عبد اللہ حاکم l  نے ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی کو ’’ثقة، مامون‘‘ کہا ہے[47]۔

حافظ ابو عبد اللہ حاکم l نے ’’المستدرك‘‘[48] میں ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی کی ایک حدیث تخریج کرکے اسے ’’صحیح‘‘کہا ہے، تاہم حافظ ذہبی l ’’تلخیص المستدرك‘‘[49]میں اس کے تحت فرماتے ہیں: ’’بل واه‘‘ .  بلکہ یہ واہی ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[50] میں ایک روایت کے تحت ابو غَزِیَّہ کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستغناء‘‘[51] میں ابو غَزِیَّہ کے بارے میں کہتے ہیں: ’’ليس هو عندهم بالقوي‘‘. یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔

حافظ جوزقانی l نے’’الأباطيل‘‘[52]میں ایک روایت کے تحت محمد بن موسی کو ’’ ثقة‘‘ کہا ہے۔

علامہ عبد الحق اشبیلی l نے ’’الأحكام الوسطى‘‘[53] میں ایک روایت کے تحت ابو غَزِیَّہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘[54] میں ایک روایت کے تحت ابو غَزِیَّہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l’’تنزيه الشريعة‘‘[55] میں ابو غَزِیَّہ محمد بن موسی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن حبان: كان يسرق الحديث، ويروي عن الثقات الموضوعات، وقال الحافظ ابن حجر: اتهمه الدار قطني بالوضع‘‘.یہ حدیث میں سرقہ کرتا تھا، اور ثقات کے انتساب سے من گھڑت چیزیں روایت کرتا تھا، اور حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں: دارقطنی l نے اس کو حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[34] الطبقات الكبرى:5/505،رقم:4171،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .

[35] التاريخ الكبير:۱/۲۳۹،رقم:۷۵۳،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية 1429هـ .

[36] التاریخ الصغير:2/۲۸۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[37] التاريخ الكبير:۱/۳۶۵،رقم:۱۲۴۹،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية 1429هـ .

[38] سؤالات البرذعي:ص:۱۷۵،رقم:۲۷۹،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[39] الجرح التعديل:8/۸۳،رقم:۳۴۷،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .

[40] أخبار القضاة:1/257،عالم الكتب ـ بيروت .

[41] أخبار القضاة:1/25۸،عالم الكتب ـ بيروت .

[42] الضعفاء الكبير:4/۱۳۸،رقم:۱۶۹۹،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة  الأولى 1404هـ .

[43] المجروحين:2/289،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[44] تذكرة الحفاظ:ص:2۸۸،رقم:7۱۷،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .

[45] الكامل في ضعفاءالرجال:۷/۵۱۶،رقم:۱۷۴۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[46] لسان الميزان:۵/۴۷۹،رقم:۵۳۰۰،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[47] سؤلات مسعود بن علي السجزي مع أسئلة البغداديين عن أحوال الرواة:ص:220،رقم:282،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴08هـ .

[48] المستدرك على الصحيحين:2/256،رقم:2921،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .

[49] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۲/۲۳۵،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت  .

[50] السنن الكبرى للبيهقي:۵/۴۸،رقم:۸۹۴۳،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .

[51] كتاب الاستغناء في معرفة المشهورين من حملة العلم بالكنى:2/880،رقم:1039،ت:عبد الله مرحول السوالمة،دار ابن تيمية ـ الرياض، الطبعة الأولى1405هـ .

[52] الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير:2/۲۴۷،رقم:۶۴۴،ت:عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائى،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى1403هـ .

[53] الأحكام الوسطى من حديث النبي صلى الله عليه وسلم:4/95،ت:حمدي عبد المجيد السلفي وصبحي  السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة 1416هـ .

[54] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۹/۴۴،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[55] تنزيه الشريعة:۱/۱۱۴،رقم:۲۸۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ