التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

زبیر بن عبد اللہ بن ابی خالد ابن رُہَیْمہ مدینی قرشی اموی

ایک روایت میں تذکرہ

زبیر بن عبد اللہ بن ابی خالد ابن رُہَیْمہ مدینی قرشی اموی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی زبیر بن عبد اللہ بن ابی خالد ابن رُہَیْمہ مدینی قرشی اموی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l ، زبیر بن عبد اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يكتب حديثه‘‘[7]. اس کی حدیث لکھی جائے گی۔

امام احمد بن حنبلl ’’العلل‘‘[8] میں فرماتے ہیں: ’’الزبير بن عبد الله، عن جعفر بن مصعب، لا نعرفهما‘‘. زبیر بن عبد اللہ، جعفر بن مصعب سے روایت کرتا ہے، ہمیں ان دونوں کی معرفت نہیں ہے۔

امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[9] میں زبیر بن عبد اللہ کا ترجمہ قائم کرکے سکوت کیا ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے زبیر بن عبد اللہ کو ’’صالح الحديث‘‘ کہا ہے[10]۔

حافظ ابن حبانl نے زبیر بن عبد اللہ کو ’’الثقات‘‘[11] میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن عدی l نے ’’الكامل‘‘[12] میں زبیر بن عبد اللہ مدینی مولی عثمان کے ترجمہ میں تین احادیث تخریج کی ہیں، ان میں ایک زیرِ بحث روایت بھی ہے، پھر فرماتے ہیں: ’’وأحاديث زبير هذا منكرة المتن والإسناد، لا تروى إلا من هذا الوجه‘‘. اس زبیر کی احادیث کا متن واسناد منکر ہے، یہ صرف اسی طریق سے منقول ہیں۔

حافظ ذہبیl نے زبیر بن عبد اللہ کو ’’ميزان‘‘[13] میں ’’ليس بذاك‘‘، ’’ديوان‘‘[14] میں ’’لا يترك‘‘ اور ’’المغني‘‘[15] میں ’’ليس بحجة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[16] میں زبیر بن عبد اللہ کو ’’مقبول‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[7] انظرالكامل في ضعفاءالرجال:4/193،رقم:721،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[8]  العلل ومعرفة الرجال:ص:206،رقم:378،ت:وصي الله بن محمد عباس،الدار السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى 1408هـ .

[9] التاريخ الكبير:۳/۳۴۵،رقم:۴۲۷۴،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[10] الجرح التعديل:۳/۵۸۲،رقم:۲۶۴۲،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .

[11] كتاب الثقات:۶/۳۳۲،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد،الطبعة الأولى۱۳۹۳هـ .

[12] الكامل في ضعفاءالرجال:4/194،رقم:721،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[13] ميزان الاعتدال في نقد الرجال:2/68،رقم:2840،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[14] ديوان الضعفاء:ص:143،رقم:1455،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[15] المغني في الضعفاء:1/۳۶۳،رقم:۲۱۷۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[16] تقريب التهذيب:ص:۲۱۴،رقم:۱۹۹۷،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ