اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’غبار المدينة شفاء من الجذام‘‘. مدینہ کا غبار کوڑھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو ثابت عبد العزیز بن عمران بن عبد العزیز اعرج المعروف ابن ابی ثابت زہری مدنی (المتوفی ۱۹۷ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ابن أبي ثابت الأعرج صاحب نسب، لم يكن من أصحاب الحديث‘‘[8]. ابن ابی ثابت اعرج صاحبِ نسب ہے، اصحابِ حدیث میں سے نہیں ہے۔
حافظ یحیی بن معین l ، عبد العزیز بن عمران کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، وإنما كان صاحب شعر‘‘[9]. یہ ثقہ نہیں ہے، یہ صرف شاعر تھا۔
حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’ابن أبي ثابت الأعرج المديني قد رأيته هاهنا ببغداد، كان يشتم الناس، ويطعن في أحسابهم، ليس حديثه بشيء‘‘[10]. ابن ابی ثابت اعرج مدینی کو میں نے یہاں بغداد میں دیکھا ہے، وہ لوگوں کو بُرا بھلا کہتا تھا، اور ان کے حسب میں طعن کرتا تھا، اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔
امام احمد بن حنبل l ’’العلل‘‘[11] میں عبد العزیز بن عمران کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ما كتبت عنه شيئا‘‘. میں نے اس سے کچھ نہیں لکھا۔
علامہ احمد بن حسن سَکُونی فرماتے ہیں کہ میں نے حافظ محمد بن یحیی ذہلی نیشاپوری l کو فرماتے سنا: ’’علي بدنة إن حدثت عن عبد العزيز بن عمران حديثا، ورأيته يضعفه جدا‘‘[12]. اگر میں نے عبد العزیز بن عمران کے حوالہ سے کوئی حدیث بیان کی تو میرے ذمہ بدنہ ہے(وہ گائے یا اونٹ جس کی قربانی مکہ میں حج کے موقع پر کی جائے)، اور میں نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے عبد العزیز بن عمران کو شدید ضعیف قرار دیا۔
امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[13] اور ’’الضعفاء‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه، منكر الحديث‘‘. اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی، یہ منکر الحدیث ہے۔
نیز امام بخاریl نے ’’التاريخ الصغير‘‘[15] میں عمران بن عبد العزیز کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابو زید عمر بن شَبَّہ نُمیْری l ’’تاريخ المدينة‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’وكان عبد العزيز كثير الغلط في حديثه، لأنه أحرق كتبه، فإنما كان يحدث بحفظه‘‘. عبد العزیز اپنی حدیث میں بہت غلطی کرتا تھا، کیونکہ اس کی کتابیں جل گئیں تو یہ اپنی حفظ ہی سے بیان کرتا تھا[17]۔
امام ترمذی l اپنی ’’سنن‘‘[18] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعبد العزيز بن عمران ضعيف في الحديث‘‘. عبد العزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[19] میں عبد العزیز بن عمران کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ لا يكتب حديثه‘‘[20]. اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’ كان في كتابنا عن أبي زرعة أحاديث لمحمد بن إسماعيل الجعفري، عن عبد العزيز بن عمران، فامتنع أبو زرعة من قراءته، وترك الرواية عنه‘‘. ہماری کتاب میں ابو زرعہ l کی محمد بن اسماعیل جعفری عن عبد العزیز بن عمران کے طریق سے احادیث تھیں، سو ابو زرعہ l ان کی قراءت سے رک گئے، اور اس سے روایت کو ترک کردیا۔
حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[22] میں حافظ ابو حاتم l کے حوالہ سے نقل فرماتے ہیں: ’’[متروك الحديث]، ضعيف الحديث، منكر الحديث جدا، قلت: يكتب حديثه قال: على الاعتبار‘‘. یہ متروک الحدیث، ضعیف الحدیث، منکر الحدیث جداً ہے، (حافظ ابن ابی حاتمl فرماتے ہیں) میں نے کہا: اس کی حدیث لکھی جائے گی، آپ نے فرمایا: ’’اعتبار‘‘ کے طور پر۔
حافظ ابو حاتم l نے ایک مقام پر ایک حدیث کو باطل کہہ کر عبد العزیز کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[23]۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[24] میں عبد العزیز بن عمران کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ممن يروي المناكير عن المشاهير، فلما أكثر مما لا يشبه حديث الأثبات لم يستحق الدخول في جملة الثقات، فكان الغالب عليه الشعر والأدب، دون العلم‘‘. ان لوگوں میں سے ہے جو مشاہیر سے مناکیر روایت کرتے ہیں، جب ان احادیث کی کثرت ہوگئی جو اثبات کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، تو یہ جملہ ثقات میں شمولیت کا مستحق نہ رہا، اس پر شعر وادب کا غلبہ تھا، نہ کہ علم کا۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[25] میں عبد العزیز بن عمران کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وقد حدث عنه جماعة من الثقات أحاديث غير محفوظة‘‘. اور اس سے ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے غیر محفوظ احادیث بیان کی ہیں۔
حافظ ابو احمد حاكمl نے ’’الأسامي‘‘[26] میں عبد العزیز کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ دارقطنی l نے عبد العزیز بن عمران کو ’’الضعفاء‘‘[27] میں ذکر کیا ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ذا سرو، ومروءة، وبر، وإفضال‘‘. یہ سخاوت، مروت اور خیر وعنایت والا تھا۔
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[29]، اور ’’المغني‘‘[30] میں عبد العزیز بن عمران کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کیا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے عبد العزیز بن عمران کو ’’مجمع الزوائد‘‘میں ایک مقام پر ’’ضعيف‘‘[31] اور دوسرے مقام پر ’’متروك‘‘[32] کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[33] میں عبد العزیز بن عمران کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، احترقت كتبه، فحدث من حفظه، فاشتد غلطه، وكان عارفا بالأنساب‘‘. یہ متروک ہے، اس کی کتابیں جل گئی تھیں، سو یہ اپنے حفظ سے حدیث بیان کرتا تھا، چنانچہ اس کی غلطی شدید ہوگئی، اور یہ انساب کی معرفت رکھتا تھا۔
حوالہ جات
[8] انظرتاريخ بغداد:12/201،رقم:5556،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[9] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:169،رقم:607،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .
[10] انظرتاريخ بغداد:12/202،رقم:5556،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[11] كتاب العلل ومعرفة الرجال:3/297،رقم:5321،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض، الطبعة الثانية1422هـ .
[12] انظرتاريخ بغداد:12/202،رقم:5556،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[13] التاريخ الكبير:5/309،رقم:7656،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[14] الضعفاء الصغير:ص:۷۸،رقم:۲۲۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[15] التاریخ الصغير:2/۲۳۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[16] كتاب تاريخ المدينة:1/123،ت:فهيم محمد شلتوت،طبع على نفقة السيد حبيب محمود أحمد .
[17] حافظ ابن حجر عسقلانی l نے یہ عبارت ان الفاظ سے نقل کی ہے: ’’ كان كثير الغلط في حديثه، لأنه احترقت كتبه، فكان يحدث من حفظه‘‘. (تهذيب التهذيب: 6/351،رقم:671،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى 1325هـ) .
[18] سنن الترمذي:2/212،رقم:870،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأول 1996ء .
[19] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۱،رقم:۳۹۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[20] انظرتهذيب الكمال:18/181،رقم:3465،ت:بشارعواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .
[21] الجرح والتعديل:۵/۳۹۱،رقم:۱۸۱۷،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[22] الجرح والتعديل:۵/۳۹۱،رقم:۱۸۱۷،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[23] كتاب العلل:4/417،رقم:1530،ت:سعد بن عبد الله الحميد، وخالد بن عبد الرحمن الجريسي،مكتبة الفهد الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴27هـ .
[24] المجروحين:۲/۱۳۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[25] الكامل في ضعفاء الرجال:6/500،رقم:1423،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[26] الأسامي والكنى:2/105،رقم:1139،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[27] الضعفاء والمتركون:ص:2۸۱،رقم:۳۴۹،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[28] تاريخ بغداد:12/200،رقم:5556،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[29] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:1/657،رقم:2405،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[30] المغني في الضعفاء:1/۶32،رقم:3747،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[31] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۳/۳۰۲،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[32] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۴/۲۵۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[33] تقريب التهذيب:ص:358،رقم:4114،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .