اس روایت کی تحقیق سے
روایت:ساتھیوں سے ملاقات کےلئے جاتے وقت آپ ﷺ کا پانی میں دیکھ کر اپنی داڑھی اور سر کے بالوں کو سنوارنا ۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی ابو عبدالرحمن محمد بن عبیداللہ بن ابی سلیمان کوفی فزاری عَرْزَمی(المتوفی ۱۵۵ھ )کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی قطان l فرماتے ہیں: ’’سألت العرزمي الأصغر[كذا في الأصل]، فجعل لا يحفظ، فأتيته بكتاب، فجعل لا يحسن يقرأ‘‘[97]. میں نے عَرْزَمی اصغر سے کچھ سوال کیا تو اسے یاد ہی نہیں تھا، پھر میں اس کے پاس کتاب لے آیا تو وہ اسے صحیح پڑھ بھی نہیں سکتا تھا۔
امام وکیعl فرماتے ہیں: ’’ كان محمد بن عبيد الله العرزمي رجلا صالحا، قد ذهبت كتبه، فكان يحدث حفظا، فمن ذلك أتي‘‘[98]. محمد بن عبید اللہ عَرْزَمِی نیک آدمی تھا،اس کی کتب ضائع ہو گئی تھیں،چنانچہ یہ حفظ سے حدیث بیان کرتا تھا، اسی وجہ سے یہ بات پیش آئی ہے۔
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ لا يكتب حديثه‘‘[99]. اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[100]۔
امام احمد بن حنبل l ’’العلل‘‘[101] میں فرماتے ہیں: ’’ترك الناس حديثه‘‘. محدثین نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا تھا۔
حافظ عمرو بن علی فلّاسl نے محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[102]۔
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[103] اور ’’الضعفاء‘‘[104] میں لکھتے ہیں: ’’تركه ابن المبارك ويحيى‘‘. ابن مبارک l اور یحیی l نے اس کو ترک کر دیا تھا۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانیl نے محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کو ’’ساقط‘‘[105] قرار دیا ہے۔
امام مسلم l نے محمد بن عبید اللہ کو ’’الكنى‘‘[106] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے محمد بن عبیداللہ کو ’’ضعيف الحديث جدا‘‘[107] کہا ہے۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[108] میں حافظ ابو زرعہ l کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ لا يكتب حديثه، وترك قراءة حديثه علينا‘‘. اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی، (حافظ ابن ابی حاتم l مزید فرماتے ہیں کہ) ابو زرعہ l نے ہم پر اس کی حدیث کی قراءت ترک کر دی تھی۔
امام ابو داودl نے اسے ’’ ليس بشيء‘‘[109] کہا ہے۔
حافظ ابو بشر دولابی l نے ’’الكنى والأسماء‘‘[110] میں محمد بن عبید اللہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[111] میں محمد بن عبیداللہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
نیز امام نسائیl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[112].ثقہ نہیں ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
حافظ ساجیl فرماتے ہیں: ’’صدوق، منكر الحديث، أجمع أهل النقل على ترك حديثه، عنده مناكير، سمعت ابن المثنى يقول: ما سمعت يحيى ولا عبد الرحمن حدثا عنه شيئا قط‘‘[113].صدوق ہے، منکر الحدیث ہے، اہل نقل کا اس کی حدیث کے ترک پر اجماع ہے، اس کے پاس مناکیر تھیں، میں نے ابن المثنی l سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ میں نے یحیی l اور عبد الرحمن l سے کبھی بھی اس سے کچھ روایت کرتے ہوئے نہیں سنا۔
حافظ ابن حبان l ’’ المجروحين‘‘[114] میں لکھتے ہیں: ’’وكان صدوقا إلا أن كتبه ذهبت، وكان رديء الحفظ، فجعل يحدث من حفظه ويهم، فكثر المناكير في روايته، تركه ابن المبارك، ويحيى القطان، وابن مهدي، ويحيى بن معين‘‘.
صدوق تھا، مگر اس کی کتب ضائع ہو گئی تھیں، اور یہ ردی الحفظ تھا، اپنے حفظ سے حدیث بیان کرتا تھا، اور اس کو وہم ہوتا تھا، چنانچہ اس کی روایتوں میں مناکیر کثرت سے آگئیں، ابن مبارک l ، یحیی القطان l ، ابن مہدی l اور یحیی بن معین l نے اس کو ترک کر دیا تھا۔
حافظ ابن عدیl ’’ الكامل‘‘[115] میں فرماتے ہیں: ’’ولمحمد بن عبيد الله غير ما ذكرت من الحديث، وله نسخة يرويها عنه ابنه، وابن أخيه، وعامة رواياته غير محفوظة‘‘. محمد بن عبیداللہ کی میری ذکر کر دہ احادیث کے علاوہ بھی روایات ہیں، اور اس کے پاس ایک نسخہ تھا جسے اس کے بیٹے نے اور اس کے بھتیجے نے اس سے روایت کیا ہے، اور اس کی اکثر روایات غیر محفوظ ہیں ۔
حافظ ابن شاہین l نے ’’تاريخ أسماء الضعفاء‘‘[116] میں محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو احمد حاکمl فرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بالقائم‘‘[117]. اس کی حدیث لیس بالقائم ہے۔
امام حاکمl ’’المدخل‘‘[118] محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث بلا خلاف أعرفه بين أئمة أهل النقل فيه‘‘. میں اس کے بارے میں ائمہ اہل نقل کے درمیان بلا اختلاف ’’متروک الحدیث‘‘ ہونے کو جانتا ہوں۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[119] میں فرماتے ہیں: ’’ومحمد هذا متروك الحديث‘‘. یہ محمد متروک الحدیث ہے۔
حافظ علائی l ’’النقد الصحيح‘‘[120] میں ایک حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’وفي طريق الثاني: محمد بن عبيد الله العرزمي، وهو متهم، ليس بثقة‘‘. دوسری سند میں محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی ہے، اور وہ متہم، لیس بثقہ ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[121] میں لکھتے ہیں : ’’ تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا تھا۔
نیز حافظ ذہبیl ’’تاريخ الإسلام‘‘[122] میں محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان من عباد الله الصالحين، لكنه واه‘‘. اور یہ اللہ کے نیک بندوں میں سے تھا، لیکن واہی تھا۔
حافظ ابن جزریl ’’غاية النهاية‘‘[123] میں محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان رجلا صالحا، ولكن ذهبت كتبه، فكان يحدث من حفظه، فتكلم الناس فيه لذلك، فضعفوه‘‘. نیک آدمی تھا، لیکن اس کی کتب ضائع ہو گئی تھیں،چنانچہ یہ اپنے حفظ سے حدیث بیان کرتا تھا،اسی وجہ سے لوگوں نے اس کے بارے میں کلام کیا،چنانچہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’تقريب التهذيب‘‘[124] میں محمد بن عبید اللہ عَرْزَمی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراقl نے محمد بن عبید اللہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں ذکر کر کے حافظ علائی l کے قول کو نقل کیا ہے[125]۔
حوالہ جات
[97] الجرح والتعديل:ج:8/ص:۲،رقم:۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى137۲هـ .
[98] تاريخ الإسلام:9/605،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة۱۴11هـ .
[99] تاريخ يحيي بن معين رواية أبي الفضل العباس بن محمد الدوري:1/334،رقم:2245،دار القلم ـ بيروت .
[100] تاريخ يحيي بن معين رواية أبي الفضل العباس بن محمد الدوري: 1/209،رقم:1355،دار القلم ـ بيروت .
[101] العلل ومعرفة الرجال:1/313،رقم:539،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية1422هـ .
[102] الجرح والتعديل:ج:8/ص:۲،رقم:۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى137۲هـ .
[103] التاريخ الكبير:۱/۱۷۱،رقم:۵۱۳,ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[104] الضعفاء الصغير:ص:108،رقم:333,ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[105] أحوال الرجال:ص:77،رقم:51،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،فيصل آباد،باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[106] الكنى و الأسماء:ص:۵۲۳،رقم:۲۰۸۰،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04 هـ .
[107] الجرح والتعديل:ج:8/ص:۲،رقم:۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى137۲هـ .
[108] الجرح والتعديل:ج:8/ص:۲،رقم:۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى137۲هـ .
[109] إكمال تهذيب الكمال:10/26۵،رقم:4190،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى1422هـ .
[110] الكنى والأسماء:ص:۸۵۷ ،رقم:1507،ت:أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى 4121هـ .
[111] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۳،رقم:۵۴۶،ت:بوران الضناوي كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[112] إكمال تهذيب الكمال:10/264،رقم:4190،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى1422هـ .
[113] إكمال تهذيب الكمال:10/26۵،رقم:4190،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى1422هـ .
[114] المجروحين:2/246،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[115] الكامل في ضعفاءالرجال: ۷/۲۵۴،رقم۱۶۲۲،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[116] تاريخ أسماءالضعفاءوالكذابين:ص:164،رقم:544،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الطبعة الأولى ۱۴۰۹هـ .
[117] إكمال تهذيب الكمال:10/26۵،رقم:4190،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثية ـ خلف، الطبعة الأولى1422هـ .
[118] المدخل إلى الصحيح:ص:97،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[119] تذكرةالحفاظ:ص:37،رقم:68،ت:حمدي بن عبد المجيد،دارالصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[120] النقد الصحيح:ص:33،رقم:4،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1405هـ .
[121] ديوان الضعفاء:ص:۳۶۴،رقم:۳۸۶۳،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[122] تاريخ الإسلام:9/605،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة۱۴11هـ .
[123] غاية النهاية:2/171،رقم:3221،ت:أبو إبراهيم عمرو بن عبد الله،دار اللؤلؤة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1438هـ .
[124] تقريب التهذيب:ص:494،رقم:6108،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴11هـ .
[125] تنزيه الشريعة:1/109،رقم:196،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .