التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عمرو ایوب بن مدرک دمشقی شامی حنفی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو عمرو ایوب بن مدرک دمشقی شامی حنفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عمرو ایوب بن مدرک دمشقی شامی حنفی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[14] میں فرماتے ہیں:’’عن مكحول مرسل، سمع منه علي بن حجر‘‘. مکحول سے مرسل روایات بیان کرتا ہے، اس سے علی بن حجر نے سماعت کی ہے۔

حافظ یحیی بن معین l  ایوب بن مدرک کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كذاب، كان ها هنا، يمامي، قد رأيته، وكتبت عنه، ليس بشيء‘‘[15]. یہ جھوٹا ہے، یہ یہیں تھا، یمامی ہے، میں نے اسے دیکھا ہے، اور اس سے حدیث لکھی ہے، یہ لیس بشیء ہے۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’ كان يكذب‘‘[16]. یہ جھوٹ بولتا تھا۔

حافظ ابو حاتم l نے ایوب بن مدرک کو ’’ضعيف الحديث، متروك‘‘ کہا ہے [17]۔

حافظ  ابو زرعہ l نے  ایوب بن مدرک کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[18]۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[19] میں لکھتے ہیں: ’’يروي المناكير عن المشاهير، ويدعي شيوخا لم يرهم، ويزعم أنه سمع منهم، روى عن مكحول نسخة موضوعة، ولم يره‘‘. ایوب بن مدرک مشاہیر کے انتساب سےمناکیر نقل کرتا ہے،اور ان شیوخ کا دعوی کرتا ہےجن کو اس نے دیکھا بھی نہیں، اوردعوی کرتا ہےکہ اس نے ان شیوخ  سے  سنا ہے،اس نے مکحول کے انتساب سے ایک من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے،حالانکہ اس نےمکحول کو دیکھا بھی نہیں۔

اما م نسائی l نے ایوب بن مدرک کو ’’متروك الحديث‘‘[20] کہا ہے۔

نیز امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[21]. ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔

حافظ یعقوب بن ابراہیم l نے ایوب کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[22]۔

حافظ صالح بن محمد جزرہ l نے ایوب کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[23]۔

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[24] میں لکھتے ہیں: ’’ولا يتابع عليه، وقد حدث بمناكير‘‘. ایوب بن مدرک کی متابعت نہیں کی جاتی،اور اس نے مناکیر بیان کی ہیں ۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[25] میں لکھتے ہیں: ’’ولأيوب بن مدرك أحاديث، وعامة حديثه عن مكحول، وإذا روى عن مكحول، فيكون مكحول عن صحابة، ولم يدركهم، مثل من ذكرته أبو الدرداء، وعائشة، وغيرهما، مثل واثلة بن الأسقع، وأبوأمامة، وغيرهما، وكذلك مراسيل، وأيوب بن مدرك فيما يرويه عن مكحول وغيره يتبين على رواياته أنه ضعيف‘‘.

ایوب بن مدرک کی کئی احادیث ہیں،اور اس کی اکثر احا دیث  مکحول سے ہیں،اور جب ایوب مکحول سے روایت کرےتو یہ مکحول صحابہ سے روایت کرتا ہے،جبکہ مکحول نے میرے ذکر کردہ صحابہp جیسے: ابوالدرداء r ، عائشہ R اور ان دو کے علاوہ جیسے: واثلہ بن اسقع r، ابوامامہ rاور ان کے علاوہ کا زمانہ نہیں پایا،اور یہی حال اس کی مرسل روایات کا ہے،اور ایوب بن مدرک جن روایات   میں مکحول اور مکحول کے علاوہ سے روایت کرے تو اس کی روایات میں ضعف واضح ہوتا ہے۔

حافظ ابن شاہین l نے ’’تاريخ أسماء الضعفاء‘‘[26] میں ایوب بن مدرک کے بارے میں ایک جگہ ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے، اور ایک دوسرے مقام پر ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

امام دارقطنی l نے ایوب بن مدرک کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[27]۔

امام ابو احمد حاکم l نے ایوب بن مدرک کے بارے میں ’’ ليس حديثه بالقائم‘‘ کہا ہے[28]۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[29] میں لکھتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے ایوب بن مدرک کو ترک کر دیا تھا۔

نیز حافظ ذہبیl نے ’’المقتنى‘‘[30] میں ایوب بن مدرک کو ’’واه‘‘ کہا  ہے۔

حافظ برہان الدین حلبیl ’’الكشف الحثيث‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’ذكر الذهبي توهينه عن غير واحد، وقد ذكره ابن الجوزي في موضوعاته في باب فضل أهل العمائم يوم الجمعة، ثم قال: قال أبو الفتح الأزدي: هذا من وضع أيوب، ثم ذكر ابن الجوزي تضعيفه عن غير واحد، والحديث المشار إليه ذكره الذهبي، فقال: وروى أيوب بن مدرك، عن مكحول نسخة موضوعة، ولم يره انتهى‘‘.

 ذہبیl نے ایک سےزائد  افراد سے اس کے ضعیف ہونے کو ذکر کیا ہے، اور ابن جوزیl اپنی ’’موضوعات‘‘ میں جمعہ کے دن پگڑیوں والوں کی فضیلت کے باب کے تحت اس حدیث کو ذکر کر کے فرماتے ہیں:ابو الفتح ازدیl کہتے  ہیں:یہ حدیث ایوب کی گھڑی ہوئی ہے، پھر ابن جوزیl نے ایک سے زائد افراد سےاس کی تضعیف کو ذکر کیا، اور جس حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسے ذہبیl نے ذکر کر کے کہا ہے: اور ایوب بن مدرک نے مکحول کے انتساب سے ایک من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، حالانکہ اس نے مکحول کو دیکھا بھی نہیں، انتہی ۔

علامہ  ابن عراق l نے ایوب بن مدرک کو وضاعین ومتہمین  کی فہرست میں شمار کرکے حافظ یحیی بن معین l اور حافظ ابن حبان l  کا قول ذکر کیا ہے[32]۔

حوالہ جات

[14] التاريخ الكبير:1/392,رقم:1358،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[15] سؤالات ابن الجنيد:ص:344،رقم:293،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1408هـ .

[16] معرفة الرجال:1/62،رقم:101،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .

[17] الجرح و التعديل:2/259،رقم:925،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[18] الجرح و التعديل:2/259،رقم:925،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[19] المجروحين:1/۱۸۵،رقم:99،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الثالثة1433هـ .

[20] الضعفاء والمتروكين:ص:46،رقم:27،ت:بوران الضناوي،مؤسسة الكتب الثقافية ـ  بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .

[21] لسان الميزان:2/25۵،رقم:1382،ت:عبد الفتاح أبو  غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[22] المعرفة والتاريخ:3/61،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[23] تاريخ بغداد:7/455،رقم:3421،ت:بشار عواد  معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[24] الضعفاء الكبير:1/115،رقم:134،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[25] الكامل:2/۶،رقم:180،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[26] تاريخ أسماءالضعفاء والكذابين:ص:50،رقم:24،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الطبعة الأولى۱۴۰۹هـ .

[27] الضعفاء والمتروكون:ص:151،رقم:110،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .

[28] لسان الميزان:2/25۵،رقم:1382،ت:عبد الفتاح أبو  غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[29] ديوان الضعفاء:ص:43،رقم:530،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعةا1387هـ .

[30] المقتنى في سرد الكنى:1/431،رقم:4652،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،الطبعة1408هـ .

[31] الكشف الحثيث:ص:74،رقم:162،ت:صبحي السامرائي ـ عالم الكتب,مكتبة النهضة العربية،الطبعة الأولى ۱۴۰۷ هـ .

[32] تنزيه الشريعة۱/۴۱،رقم:۳۲۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ