اس روایت کی تحقیق سے
روایت:ساتھیوں سے ملاقات کےلئے جاتے وقت آپ ﷺ کا پانی میں دیکھ کر اپنی داڑھی اور سر کے بالوں کو سنوارنا ۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی ابو عمروعثمان بن عبداللہ قُرَشی اموی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[58] میں فرماتے ہیں: ’’عثمان بن عبد الله المغربي الأموي أبو عمرو: شيخ، قدم خراسان، فحدثهم بها، یروي عن الليث بن سعد، ومالك وابن لهيعة، ويضع عليهم الحديث، كتب عنه أصحاب الرأي، لا يحل كتابة حديثه إلا على سبيل الاعتبار‘‘.
عثمان بن عبداللہ مغربی اموی ابو عمرو،شیخ، خراسان آیا ،وہاں کے لوگوں کو روایات بیان کرتا تھا،لیث بن سعد، مالک اور ابن لہیعہ سے روایت نقل کرتا تھا، اور ان کے انتساب سےروایت گھڑتا تھا، اس سے اصحاب رائے نے روایت لکھی ہے، اس کی احادیث لکھنا جائز نہیں ہے سوائے اعتبار کے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[59] فرماتے ہیں: ’’عثمان بن عبد الله بن عمرو بن عثمان بن عفان حدث عن مالك و حماد بن سلمة وابن لهيعة وغيرهم بالمناكير, يكنى أبا عمرو، وكان يسكن نصيبين ودار البلاد، وحدث في كل موضع بالمناكير عن الثقات‘‘.
عثمان بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان، مالک ،حماد بن سلمہ اور ابن لہیعہ وغیرہ کےانتساب سے منکرروایات نقل کرتاتھا،اس کی کنیت ابو عمروتھی، نصیبین اور دارالبلاد میں رہتا تھا ،ہرجگہ ثقہ راویوں کے انتساب سے مناکیر بیان کرتا تھا ۔
حافظ ابن عدی l آگے جاکر فرماتے ہیں: ’’ولعثمان غير ما ذكرت من الأحاديث أحاديث موضوعات‘‘[60]. عثمان سے منقول میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ اور بھی من گھڑت روایات ہیں ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘ میں حافظ دارقطنی l کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’متروك الحديث، وقال مرة: يضع الأباطيل على الشيوخ الثقات‘‘[61]. متروک لحدیث ہے، اور ایک مرتبہ فرمایا: ثقہ راویوں پر باطل روایات گھڑتا تھا۔
حافظ خطیب بغدادیl ’’تاريخ بغداد‘‘[62] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا، والغالب على حديثه المناكير‘‘. ضعیف راوی تھا، اور اس کی اکثر احادیث مناکیر ہیں ۔
امام ابوعبداللہ حاکمl فرماتےہیں: ’’عثمان بن عبد الله القرشي الذي يروي عن مالك كذاب، يكنى أبا عمرو، قدم خراسان بعد الثلاثين والمائتين، فحدث عن مالك، والليث بن سعد، وابن لهيعة، والحمادين، وغيرهم بأحاديث، أكثرها موضوعة‘‘[63].
عثمان بن عبداللہ قرشی جو مالک سے روایت نقل کرتا ہے، کذاب ہے، اس کی کنیت ابو عمرو ہے، دوسو تیس(۲۳۰)ہجری کے بعد خراسان آیا، اور مالک، لیث بن سعد، ابن لہیعہ اور حمادین وغیرہ سے روایات نقل کرتا تھاجن میں سے اکثر من گھڑت ہیں۔
حافظ ابونعیم اصبہانیl ’’الضعفاء‘‘[64] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن مالك، والليث، وابن لهيعة، ورشدين، وحماد بن سلمة بالمناكير‘‘. مالک، لیث، ابن لہیعہ، رشدین اور حماد بن سلمہ کے انتساب سے مناکیر نقل کرتا ہے۔
حافظ ابو الفتح ازدی l فرماتے ہیں: ’’ لا يحتج بحديثه‘‘[65] اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
حافظ جوزقانیl ’’الأباطيل والمناكير‘‘[66] میں ایک دوسری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعثمان بن عبد الله المغربي هذا كذاب، فسرق هذا الحديث عن أبي مطيع البلخي‘‘. یہ عثمان بن عبد اللہ مغربی کذاب ہے، اس نے یہ حدیث ابو مطیع بلخی سے سرقہ کی ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[67] میں فرماتے ہیں: ’’متهم، واه، رماه بالوضع ابن عدي وغيره‘‘. متہم، واہی ہے، ابن عدی l وغیرہ نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[68] میں عثمان بن عبد اللہ اموی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن عدی l کے قول کو ذکر کیا ہے۔
حوالہ جات
[58] المجروحين:۲/۱۰۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[59] الكامل في ضعفاء الرجال:6/301،رقم:۱۳۳۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[60] الكامل في ضعفاء الرجال:6/304،رقم:۱۳۳۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[61] لسان الميزان:۵/۳۹۷،رقم:۵۱۳۲،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامی ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴23هـ .
[62] تاريخ بغداد:۱۳/۱۶۱،رقم:۶۰۰۶،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴2۲هـ .
[63] سؤالات مسعود بن علي السجزي:ص:۸۲ ،رقم:۴۲،موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .
[64] الضعفاء لأبي نعيم:ص:116،رقم:158،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .
[65] الضعفاء والمتروكين:2/1۷۰،رقم:2۲۷۴،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[66] الأباطيل والمناكير:1/23،رقم:18،ت:عبد الرحمن عبد الجبار،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى1403هـ .
[67] ديوان الضعفاء:ص:۲۷۰،رقم:۲۷۶۹،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[68] تنزيه الشريعة:1/84 ،رقم:249،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .