روایت: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من ترك الأربع قبل الظهر لم تنله شفاعتي‘‘. جس نے ظہر سے پہلے کی چار سنتیں چھوڑ دیں، وہ میری شفاعت نہیں پائے گا‘‘۔
باب: نوافل و مخصوص نمازیں
تہجد، چاشت، وتر، قضائے عمری، صلوٰۃ الرغائب اور دیگر خاص نمازیں۔
گروپ: طہارت و نماز
11 روایات
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو آدمی تہجد پڑھتا ہے، اس کے جسم کے اعضاء ایک دوسرے کو کہتے ہیں: ’’قد قام صاحبنا لخدمة الله تعالى‘‘. ہمارا ساتھی (آج رات) اللہ تعالی کی خدمت گزاری کےلئے کھڑا ہوگیا ہے‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی کا رات کے وقت فرشتوں کی ایک جماعت کو حکم دینا کہ فلاں ناپسند بندہ کو تھپکی دے کر سلائے رکھو، فلاں محبوب بندہ کوپَر مار کر تہجد کےلئے بیدار کردو، اور فلاں فلاں مقرب بندہ کو کروٹ دے دو، وہ چاہیں عبادت کریں یا سوتے رہیں، میں ان سے راضی ہوں‘‘۔
آپ ﷺ کا حضرت فاطمہ Rکو وتر کے بعد دوسجدے کرکے’’سبوح قدوس رب الملائكة والروح‘‘ پڑھنے پر
بہت سے فضائل کی بشارت دینا
حضرت جبرائیل e کی چالیس ہزارسال کی عبادت سےامت محمدیہﷺکی فجرکی دوسنتیں بڑھ کرہیں
فجر کی سنتیں گھر میں ادا کرنے پر روزی میں وسعت،اہل خانہ کے مابین تنازع نہ ہونا،اور ایمان پر خاتمہ
۶ – جزء: صلوة الرغائب
روایتِ صلوۃ الرغائب (رجب کے پہلے ہفتہ میں پڑھی جانے والی ایک مخصوص نماز)اور پندرہ شعبان کی شب پڑھی جانے والی مخصوص نماز والی روایت محققین کے نزدیک من گھڑت ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’صلوۃ العاشقین‘‘ (ایک مخصوص نماز)،اس نماز کی سند کسی حدیث یا فقہ کی کتاب میں بندہ(حضرت گنگوہی l) نے نہیں دیکھی۔
مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔