’’صلوۃ العاشقین‘‘ (ایک مخصوص نماز)،اس نماز کی سند کسی حدیث یا فقہ کی کتاب میں بندہ(حضرت گنگوہی l) نے نہیں دیکھی۔
تفصیل
’’سوال: چار رکعت وقت صبح کاذب[صبح کی روشنی، جس کے بعد پھر اندھیراہو جاتا ہے] کے، رکعتِ اول میں بعد فاتحہ واخلاص کے، یا اللہ سو بار، رکعتِ دوم میں بعد الحمد واخلاص کے، یا رحمٰن سو بار، رکعتِ سوم میں بعد فاتحہ واخلاص کے، یا رحیم سوبار، رکعتِ چہارم میں بعد فاتحہ واخلاص، یا ودود سوبار پڑھنے سے مقرب خدا تعالیٰ کا ہوگا، یہ نماز ایک کتاب میں لکھی ہے، اور اس نماز کو ’’صلوۃ العاشقین‘‘ کہتے ہیں، یہ نماز جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اس صلوۃ کی سند کسی حدیث کی کتاب سے یا فقہ سے، بندہ نے نہیں دیکھی‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : صلوۃ العاشقین، ص: ۱۶۷، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
مجدد الامہ ابو الحسنات عبد الحی لکھنوی l نےمذکورہ نماز کو ’’الآثار المرفوعہ‘‘ (ص:۱۰۳ تا ۱۲۳)میں ’’صلاۃ المحبہ‘‘ کے نام سے ذکر کیا ہے،اور لکھا ہے کہ یہ اور ان جیسی دیگر بہت سی نمازیں کتاب ’’وسیلہ الطالبین الی محبہ رب العالمین‘‘ میں نقل کی گئی ہیں،اس نماز کو حضرت لکھنوی l نے ان الفاظ سے نقل کیا ہے: {ومنها: صلاة المحبة، وهي أربع ركعات تصلى بعد صلاة الخضر [أي: الصلاة التي ذكرت قبلها]، يقرأ في الركعة الأولى بعد الفاتحة: يا الله! مائة مرة، وفي الثانية بعد الفاتحة: يا رحمن! مائة مرة، وفي الثالثة: يا رحيم! مائة مرة، وفي الرابعة: يا ودود! مائة مرة}.
اس کے بعد حضرت لکھنوی lنے یہ اور اس جیسی دیگر نمازوں کے آنحضرت ﷺ سے ثابت نہ ہونے کو خوب تفصیل سے بیان کیا ہے،اہمیت کے پیش نظر یہ تفصیلی عبارت ملاحظہ ہو:
{وأما الطبقة العالية فهي بريئة في هذا القسم عن مثل هذه الطريقة الواهية، والحكم في هذين القسمين أن نفس أداء تلك الصلوات المخصوصة بتراكيب مختصة لا يضر ولا يمنع عنه ما لم تشتمل تلك الكيفية على أمر يمنع عنه الشرع ويزجر عنه، فإن وجدت كيفية تخالف الشريعة فلا رخصة في أدائها لأحد من أرباب المشيخة زعما منهم أن هذا ثابت في الطريقة وإن خالف الشريعة، لما ذكرنا سابقا أن الطريقة ليست مباينة للشريعة، ومن توهم ذلك فهو إما جاهل أو مجنون وإما غافل وإما مفتون.
لكن يشترط في الأخذ بها لا [كذا في الأصل، والظاهر أنه خطأ كاتب] أن لا يهتم بها أزيد من اهتمام العبادات المروية، لا سيما الواجبات والفرائض الشرعية، وأن لا يظنها منسوبة إلى صاحب الشريعة، ولا يتوهم ثبوت تلك الأحاديث المروية ولا يعتقد نسبتها واستحبابها كاستحباب العبادات الشرعية، ولا يلتزمها التزاما زجر عنه الشرع، فإن كل مباح أدى إلى التزام ما لم يلزم يكون مكرها [كذا في الأصل، والظاهر أنه مكروها] في الشرع، ولا يعتقد ترتب الثواب المخصوص عليه كترتب الثواب المخصوص على ما نص عليه الرسول، ويشترط مع ذلك في كليهما ألا يجر التزامها وأدائها إلى إفساد عقائد الجهلة، ولا يقضي [کذا فی الأصل] إلى المفسدة بأن يظن ما ليس نسبه [كذا في الأصل] سنة وما هو سنة بدعة، ومن ثم منع صاحب البحر الرائق وغيره من أداء أربع الظهر بعد الجمعة وإن اختاره جمع من الفقهاء للعلة الاحتياطية، ثم أن القسم الأول يجب كون الاهتمام به أقل من الاهتمام بالقسم الثاني لئلا يورث ذلك إلى ظن الأحاديث الموضوعة غير موضوعة، بل لو قيل تركها لم يبعد عند العالم الرباني والله أعلم، علمه أحكم، ولعمري وجود من يشتغل بها مع الشروط التي ذكرناها في زماننا هذا نادر وحكم أدائها بدون هذه الشرائط مما أسلفنا ذكره ظاهر، وكعلم من التزم بأنواع العبادات الثابتة بتركها الواردة كفى ذلك له في الدنيا والآخرة من غير حاجة إلى التزام هذه الصلوات المخترعة والعمل بالأحاديث المختلفة [كذا في الأصل] فافهم واستقم}.
ملتی جلتی احادیث
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔
’’سوا لاکھ دفعہ کلمہ شریف پڑھ کر اگر میت کو بخشا جاوے تو مغفرت کی امید ہے‘‘، یہ روایت کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔
’’غدیر کے دن حضرت علی r کے بارے میں آپﷺ کے ارشاد {من کنت مولاه فعلي مولاه} پر ایک منافق کی ناگواری اور آسمان سے اس پر پتھر کا برسنا‘‘، پتھر گرنے کا قصہ واہی موضوع ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔