روایت: ’’اللہ تعالی کا رات کے وقت فرشتوں کی ایک جماعت کو حکم دینا کہ فلاں ناپسند بندہ کو تھپکی دے کر سلائے رکھو، فلاں محبوب بندہ کوپَر مار کر تہجد کےلئے بیدار کردو، اور فلاں فلاں مقرب بندہ کو کروٹ دے دو، وہ چاہیں عبادت کریں یا سوتے رہیں، میں ان سے راضی ہوں‘‘۔
تفصیل
روایت:’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جب رات ہوتی ہے، اللہ تعالی فرشتوں کی ایک جماعت کو بلاتے ہیں، فرماتے ہیں: میرے فرشتو! فلاں فلاں مجھے نا پسند ہے، جاؤ اور ان کو تھپکی دے کر سلا دو،میں نہیں چاہتا وہ اس وقت میں اٹھیں، میں ان کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتا، لہذا فرشتے انہیں تھپکی دے کر سلا دیتے ہیں، ساری رات جاگتے ہیں، آخری پہر میں گہری نیند آجاتی ہے۔
پھر فرشتوں کی دوسری جماعت کو اللہ تعالی فرماتے ہیں: فلاں فلاں میرے محبوب بندے ہیں، جاؤ اور ان کو پر مار کر جگادو، تاکہ وہ اٹھیں اور مجھ سے راز و نیاز کی باتیں کریں، وہ مجھ سے مانگیں میں ان کی جھولیوں کو بھر دوں، چنانچہ فرشتے آتے ہیں اور بعض لوگوں کو پر مار کر جگا دیتے ہیں۔
اور فرمایا: فرشتوں کی ایک تیسری جماعت ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دیکھو، فلاں فلاں بندے میرے مقربین میں سے ہیں، میں ان سے پیار کرتا ہوں، میں ان سے راضی ہوں، جاؤ اور ان کی کروٹ بدل دو، یہ چاہیں گے تو اٹھ کر عبادت کریں گے اور چاہیں گے تو سو جائیں گے، میں ان کے جاگنے پر بھی راضی ہوں، میں ان کے سونے پر بھی راضی ہوں‘‘۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت موسیٰe کا بے اولاد عورت کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ پیغام دینا کہ تمہاری قسمت میں اولاد نہیں ہے، پھر فقیر کو صدقہ دینے سے اللہ تعالی کا اس کو چار بیٹے عطا کرنا۔
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو دجانہ r ایک صحابی ہیں، وہ فجر کی نماز پڑھتے، اور نماز پڑھنے کے بعد جلدی اپنے گھر چلے جاتے تھے، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں فجر کی محفل میں شرکت نہیں کرتے تھے، کسی نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ابو دجانہ r پتہ نہیں کس حال میں ہے کہ جلدی چلا جاتا ہے، جب نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم جلدی کیوں چلے جاتے ہو؟ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے ہمسائے کے گھر میں ایک درخت ہے جس پر پھل لگے ہوئے ہیں، مگر اس کی کچھ شاخیں میرے گھر پر آتی ہیں، اور جب رات ہوتی ہے تو شاخوں سے پھل میرے گھر میں گر جاتے ہیں، میں فجر کی نماز پڑھ کر جلدی آتا ہوں، تا کہ ان پھلوں کو اٹھا کر اس آدمی کے گھر واپس ڈال دوں، ایسا نہ ہو کہ میرے بچے جاگ جائیں، اور بلا اجازت دوسرے کے پھل کھانے کے گناہ میں ملوث ہوجائیں۔۔۔‘‘۔
روایت: حضرت عمرr ایک مجلس میں بیٹھے فیصلے فرمارہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان کو دو نوجوان خوبصورت لباس پہنے گھسیٹ کر لائے، اور کہا کہ ہمارے والد باغ میں کام کر رہے تھے، اس شخص نے ہمارے والد کو قتل کردیا ہے، ہمیں قصاص چاہئے، حضرت عمر r کے پوچھنے پر اس نوجوان نے قتل کا اقرار کیا، اور قتل کرنے کی وجہ بیان کی، پھر نوجوان نے حضرت عمر r سے تین دن کی مہلت مانگی کہ میرے پاس میرے بھائی کی امانت رکھی ہوئی ہے، میں اس کو واپس کرکے آتا ہوں، حضرت عمر r نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ اس کی کوئی ضمانت لیتا ہے، پھر نوجوان کا حضرت ابو ذرr کو اپنا کفیل بنانا، تیسرے دن حضرت عمر r نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر نوجوان نے تاخیر کی تو میں ابو ذر r سے متعلق وہ کر گزروں گا جس کا اسلامی شریعت تقاضہ کرتی ہے، حاضرین لمبی لمبی سانس لینے لگے، شور وشغب بڑھ گیا، ہچکیاں بڑھ گئیں،بڑے صحابہ p نے ان دو نوجوانوں کو دیت کی پیش کش کی، لیکن وہ دونوں مقتول کے خون کا بدلہ لینے پر ہی اصرار کرتے رہے، چنانچہ صحابہ p بے چین ہوگئے، اور ابو ذر rپر افسوس کرتے ہوئے چیخ وپکار کرنے لگے، اچانک وہ نوجوان آگیا، پھر ان دو نوجوانوں نے اپنے والد کے قاتل کو معاف کردیا۔