مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔
تفصیل
’’سوال: ایک اردو کتاب میں تحریر ہے کہ کفارۂ قضاءِ عمری کےلئے نماز بترکیبِ ذیل ادا کرنی چاہئے، ہر رکعت میں آیت الکرسی ایک ایک مرتبہ اور سورۃ کوثر گیارہ گیارہ مرتبہ، بعد سورۃ فاتحہ پڑھے، یہ جائز ہے یا مکروہ، اور اسی طرح پر اور نمازوں کی نسبت بھی کئی کئی سورۃ مختلف مقامات کی ہر رکعت میں پڑھنے کے لئے تحریر ہے؟
جواب: اس کی کچھ اصل نہیں ہے، اور اس ترکیب سے نفل پڑھنے میں قضاءِ عمری حاصل نہیں ہوتی، اول تو خود قضاءِ عمری کی کچھ اصل نہیں ہے، بلکہ فقہاء نے اس کو مکروہ لکھا ہے، اور ثانیاًاس ہیئت اور کیفیت کے ساتھ پڑھنا قضاءِ عمری کے لئے [كذا في الأصل] ثابت نہیں ہے، اور یہ طریقہ قضا کا خلافِ قواعدِ شرعیہ ہے، قاعدہ یہ ہے کہ جس قدر نمازیں کسی کے ذمہ فائتہ ہوں بیقین یا بظن غالب ان کو قضا کرے، اور محض توہم کی بنا پر قضاءِ عمری ثابت نہیں ہے، بلکہ مکروہ ہے۔
’’شامی‘‘ میں ’’درمختار‘‘ کے اس قول پر: {وما نقل أن الإمام قضى صلوة عمر} الخ لکھا ہے: {أنه لم يصح ذلك عن الإمام الخ، فالوجه كراهة القضاء لتوهم الفساد} الخ .ص: ۴۹۹‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :قضاءِ عمری کا مروجہ طریقہ ثابت نہیں بے اصل ہے،۴/۲۹۰، مکتبہ حقانیہ ملتان۔
روایتِ قضائے عمری کو ملا علی قاری l نے ’’اسرار المرفوعہ‘‘(ص:۳۴۲) اور ’’المصنوع‘‘ (ص:۱۹۱) میں باطل کہاہے۔ علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخفاء‘‘ (۲/۳۲۱)میں اورعلامہ لکھنوی l نے ’’آثار المرفوعہ‘‘ (ص:۸۵)میں ملا علی قاری l کےکلام پر اعتماد کیا ہے، علامہ پٹنی l نے اسے جھوٹ کہا ہے (دیکھئے: ردع الاخوان:ص:۶۰)،علامہ ابن حجر ہیتمی l نے ’’ تحفۃ المحتاج بشرح المنہاج‘‘ (۱/۴۲۴) میں اسےحرام قرار دیاہے، علامہ زرقانی l نے ’’شرح مواہب اللدنیۃ‘‘ (۹/۴۶۴) میں علامہ ابن حجر ہیتمی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے، شاہ عبد العزیز دہلوی l نے ’’عجالہ نافعہ‘‘ میں اسے خلاف عقل اور جھوٹ قرار دیا ہے (دیکھئے: ردع الاخوان:ص:۵۹)،علامہ شوکانیl نے ’’فوائد مجموعہ‘‘(ص:۷۹)میں اسے من گھڑت قرار دیا ہے، علامہ محمد درویش حوت l نے ’’اسنی المطالب‘‘ (ص:۳۰۵)میں اسے بے اصل کہا ہے، علامہ لکھنوی l نے ’’الاجوبۃ الفاضلہ‘‘ (ص:۳۲)اور ’’ردع الاخوان عن محدثات آخر جمعۃ رمضان‘‘ (ص:۶۳)میں اسے باطل، من گھڑت قرار دیا ہے۔
[2] فتاوی دار العلوم دیوبند: قضاء عمری کا جو طریقہ مروجہ بعض کتابوں میں منقول ہے ثابت نہیں، ۴/۲۹۹، مکتبہ حقانیہ ملتان۔
[3] فتاوی دار العلوم دیوبند :رمضان کے اخیر جمعہ میں قضاءِ عمری کا رواج ثابت نہیں،۴/۳۰۳، مکتبہ حقانیہ ملتان۔
[4] فتاوی دار العلوم دیوبند :قضاء عمری، ۴/۳۰۶،مکتبہ حقانیہ ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
مصلے کے ایک کنارے کو موڑ دینا بے اصل ہے۔
’’مشہور ہے جو شخص عشرۂ محرم میں فوت ہوا اسے عشرہ کے اندر عذاب قبر نہیں ہوتا، نہ حساب ہوتا ہے‘‘، یہ بات غلط ہے۔
{لاصلوة إلا بحضور القلب}. ’’دل کی توجہ کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘، ان الفاظ کے ساتھ کتبِ احادیث میں کوئی حدیث نہیں۔
بعض مشہورمن گھڑت روایات،نیز غیر مستند کتابیں