1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
تفصیل
’’۔۔۔ ’’ارشاد الطالبین‘‘ کی چند اور بے اصل باتیں:
بہر حال یہ کتاب قابلِ تمسک اور حجت نہیں، نہ اس کتاب سے عالم کو وعظ کہنا چاہئے، نہ لوگوں کو عمل کرنا چاہئے، عمرو نے، ۱۹ شعبان المعظم ۱۳۱۲ھ کو بروز جمعہ بعد نماز جمعہ وعظ کہا، اور صبح سے عام لوگوں کو اطلاع کردی اور زید کے پاس بھی خط اطلاعی بھیج دیا، اور بعد کو تین مرتبہ کہلا بھیجا، عمرو نے مجمع عام میں کتاب ’’ارشاد الطالبین ‘‘ کی عبارت پڑھ پڑھ کر ’’ہدایہ‘‘ اور ’’شامی ‘‘ اور ’’ کنز‘‘ اور ’’تفسیر جلالین‘‘ اور ’’ ماتیہ مسائل‘‘ [اصل میں اسی طرح ہے] وغیرہ کتب حنفیوں کی تردید کی، زید اس مجمع میں باوجود اطلاع نہیں آیا۔
چند مسئلہ کتاب ’’ارشاد الطالبین ‘‘ کے، عمرو کے بیان کئے ہوؤں میں سے لکھتا ہوں:
[سوال ۱ تا۸ کوہمارے موضوع سے متعلق نہ ہونے کی وجہ سے حذف کر دیا،ازطارق]
9 رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے، عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت، عمرو کہتا ہے، لااصل ہے۔
0 بعد وفات رسول اللہﷺ کے صحابہ میں اختلاف ہوا، دربابِ قضا فوائت کے،حضرت فاطمہ R نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے رسول اللہﷺ سےکہ چالیس برس کی نماز ادا ہوجاتی ہے، اگر اس شخص کی نماز چالیس برس کی قضا نہ ہوئی ہو، تو اس کے والدین کی قضا شدہ نماز ادا ہوجاتی ہے، تو چاہئے کہ جمعہ کے دن ظہر کے بعد بارہ رکعت نماز تین سلام سے پڑھے، ہر رکعت میں بعد الحمد کے، سورۂ اخلاص پندرہ مرتبہ پڑھے، اس کی سب نمازیں ادا ہوجاویں گی۔
عمرو کہتا ہے: اس کی بھی کچھ اصل نہیں، فقہ میں باب قضاء الفوایت [اصل میں اسی طرح ہے]میں کہیں یہ ذکر نہیں، احادیث میں نہیں، اس نے کوئی عبارت نقل نہیں کی[1]۔
! ۔۔۔[یعنی ہمارے موضوع سے متعلق نہیں اس لئے اسے حذف کر دیا]
@ صلوٰۃ رغائب جائز ہے، عمرو کہتا ہے : بدعت ہے، ’’شامی‘‘ وغیرہ کتب فتاویٰ میں مصرح ہے[2]۔
# عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے، عمرو کہتا ہے: جائز نہیں، شعائرِروافض سے ہے۔
$ ۔۔۔[یعنی ہمارے موضوع سے متعلق نہیں اس لئے اسے حذف کر دیا]
% بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، ولیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے، عمرو کہتا ہے: معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب، {نعوذ بالله من الشرك والكفر}.
^ حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا، عمرو کہتا ہے کہ {هذا بهتان عظيم}.
& ۔۔۔[یعنی ہمارے موضوع سے متعلق نہیں اس لئے اسے حذف کر دیا]
* حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا، عمرو کہتا ہے: {أستغفر الله}. یہ کھلا ہوا رفض ہے، جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے {من ربك} کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے، عمرو کہتا ہے کہ یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
الغرض عمرو نے بہت سے مسائل کتاب ’’ارشاد الطالبین‘‘ کے مجمع عام میں رد کئے اور زید نہ آیا، مشت نمونہ از خروارے! یہ مسائل تردید کئے ہوئے عمرو کے، مختصراً لکھ کر فتوی چاہتا ہوں کہ قول زید کا موافق اہل سنت کے ہے، یا قول عمرو کا، مسائل نمبری ایک و دو و تین و چار و پانچ و چھ کا جواب کتب حنفیہ سے بروایات معتبرہ لکھئے اور تحریر فرمائے کہ زید وعمرو میں کون حق پر ہے؟ عمرو کہتا ہے کہ کتاب ’’ارشاد الطالبین ‘‘ کو جب تک بہت سے علماء اہل سنت مل کر تصحیح نہ کردیں، قابل عمل نہیں، عوام کو اس کتاب کا دیکھنا بھی نہ چاہئے، زید نے وعظ میں کہا کہ جو کتاب ’’ارشاد الطالبین‘‘ کو نہ مانے، وہ کافر ہے، آیا عمرو اور وہ لوگ جواَب اس کو نہیں مانتے ہیں، کافر ہیں، یا مسلمان ہیں؟ اگر کافر نہیں ہوئے، تو زید اس کہنے سے کس بات کا شرعاً مستحق ہے؟ جو اب ہر ہر بات کا صاف خط میں، جلد تحریر فرماکر بھیج دیجئے، کہ بہت سے مسلمان خلجان میں پڑے ہوئے ہیں، والسلام عليكم وعلى من اتبع الهدى.
جواب: ذیل از جناب برکت مآب زبدۃ العارفین عمدۃ المحدثین حضرت مولانا مولوی رشید احمد صاحب مد فیوضہم گنگوہی وعلمائے دیوبند۔
۔۔۔۔ ان مسائل میں قول عمرو صحیح ہے اور قول زید باطل واللہ اعلم!‘‘[3]۔
حوالہ جات
[1] مجدد الامہ ابو الحسنات لکھنوی l نےمذکورہ نماز کو ’’الآثار المرفوعہ‘‘ (ص:۱۱۰)میں ’’صلاۃ الکوثر‘‘ کے نام سے ذکر کیا ہے،اور لکھا ہے کہ یہ اور ان جیسی دیگر بہت سی نمازیں کتاب ’’وسیلہ الطالبین الی محبہ رب العالمین‘‘ میں نقل کی گئی ہیں،اس نماز کو حضرت لکھنوی l نے ان الفاظ سے نقل کیاہے:
{ومنها: صلاة الكوثر لقضاء الفوائت، وهي أن يصلي في يوم الجمعة من فاتت منه صلوات ولا يعلم عدد الفوائت، فيصلي أربع ركعات قائلا: نويت أن أصلي لله أربع ركعات تكفيرا لقضاء ما فات مني في جميع عمري، ويقرأ في كل ركعة بعد الفاتحة آية الكرسي مرة وسورة الكوثر خمس عشرة مرة ويصلي على النبي مائة مرة ويستغفر ويقول: اللهم يا سابق الفوت! ويا سامع الصوت! ويا محيي العظام! بعد الموت صل على محمد وعلى آل محمد، واجعل لي فرجا ومخرجا مما أنا فيه، إنك تعلم ولا أعلم وأنت تقدر ولا أقدر وأنت علام الغيوب يا معطي العطايا! ويا غافر الخطايا! يا سبوح! يا قدوس! ربنا ورب الملائكة والروح، رب اغفر وارحم وتجاوز عما تعلم إنك أنت العلي الأعظم، يا ساتر العيوب يا ذا الجلال والإكرام! يا أرحم الراحمين!}.
اس کے بعد حضرت لکھنوی l نے یہ اور ان جیسی دیگر نمازوں کے آنحضرت ﷺ سے ثابت نہ ہونے کو خوب تفصیل سے بیان کیا ہے،اہمیت کے پیش نظر یہ تفصیلی عبارت ملاحظہ ہو:
{وأما الطبقة العالية فهي بريئة في هذا القسم عن مثل هذه الطريقة الواهية، والحكم في هذين القسمين أن نفس أداء تلك الصلوات المخصوصة بتراكيب مختصة لا يضر ولا يمنع عنه ما لم تشتمل تلك الكيفية على أمر يمنع عنه الشرع ويزجر عنه، فإن وجدت كيفية تخالف الشريعة فلا رخصة في أدائها لأحد من أرباب المشيخة زعما منهم أن هذا ثابت في الطريقة وإن خالف الشريعة، لما ذكرنا سابقا أن الطريقة ليست مباينة للشريعة، ومن توهم ذلك فهو إما جاهل أو مجنون وإما غافل وإما مفتون.
لكن يشترط في الأخذ بها لا أن لا يهتم بها أزيد من اهتمام العبادات المروية لا سيما الواجبات والفرائض الشرعية، وأن لا يظنها منسوبة إلى صاحب الشريعة، ولا يتوهم ثبوت تلك الأحاديث المروية ولا يعتقد نسبتها واستحبابها كاستحباب العبادات الشرعية، ولا يلتزمها التزاما زجر عنه الشرع، فإن كل مباح أدى إلى التزام ما لم يلزم يكون مكرها [كذا في الأصل] في الشرع، ولا يعتقد ترتب الثواب المخصوص عليه كترتب الثواب المخصوص على ما نص عليه الرسول، ويشترط مع ذلك في كليهما ألا يجر التزامها وأدائها إلى إفساد عقائد الجهلة ولا يقضى إلى المفسدة بأن يظن ما ليس نسبه سنة وما هو سنة بدعة، ومن ثم منع صاحب البحر الرائق وغيره من أداء أربع الظهر بعد الجمعة وإن اختاره جمع من الفقهاء للعلة الاحتياطية، ثم أن القسم الأول يجب كون الاهتمام به أقل من الاهتمام بالقسم الثاني لئلا يورث ذلك إلى ظن الأحاديث الموضوعة غير موضوعة، بل لو قيل تركها لم يبعد عند العالم الرباني والله أعلم، علمه أحكم.
ولعمري وجود من يشتغل بها مع الشروط التي ذكرناها في زماننا هذا نادر وحكم أدائها بدون هذه الشرائط مما أسلفنا ذكره ظاهر، وكعلم [كذا في الأصل] من التزم بأنواع العبادات الثابتة بتركها الواردة كفى ذلك له في الدنيا والآخرة من غير حاجة إلى التزام هذه الصلوات المخترعة والعمل بالأحاديث المختلفة فافهم واستقم}.
[2] حضرت مولانا محمد یونس جونپوری l نے ’’الیواقیت الغالیہ‘‘ (۲/۳۲۲ )میں عند المحققین ’’صلوٰۃِ رغائب ‘‘ کے من گھڑت ہونے کو تفصیل سے لکھا ہے،ملاحظہ ہو:
’’حنفیہ میں سے صاحب ’’الدرالمختار‘‘ نے (ص : ۴۲۰ ج : ۱) عید ین، نصف شعبان، رمضان کے عشرہ اخیرہ اور ذی الحجہ کے عشرہ اولیٰ کی شبِ بیدرای کو مندوبات میں شمار کیا ہے،علامہ محمد امین بن عمر عابدین الشامی l کہتے ہیں (ص : ۴۶۰ ج : ۱): {قد بسط الشُرُنْبُلاَلِي في الإمداد ما جاء في فضل هذه الليالي كلها}. [ان تمام راتوں کی فضیلت میں جو کچھ آیا ہے شُرُنْبُلَالِی l نے ’’امداد‘‘ میں اسے تفصیل سے لکھا ہے]
لیکن مسجد میں اجتماع اور جماعت سے نماز پڑھنا مکروہ ہے، صاحب ’’امداد الفتاح‘‘نے فُرادیٰ یعنی تنہا پڑھنے کے ساتھ مقید کیا ہے، صاحب نور الایضاح l فرماتے ہیں : {ويكره الاجتماع على إحياء ليلة من هذه الليالي في المساجد}. [مساجد میں ان راتوں میں عبادت کے لئےجمع ہونا مکروہ ہے]
علامہ ابن عابدین شامی l کہتے ہیں (ص : ۴۶۱ج : ۱) :
{و صرح بكراهة ذالك في الحاوي القُدْسِي وقال: وما روي من الصلوات في هذه الأوقات يصلى فرادى غير التراويح. قال في البحر: ومن ههنا يعلم كراهة الاجتماع على صلوة الرغائب التي تفعل في رجب في أول جمعة و أنها بدعة، ومايحتاله أهل الروم مِنْ نذرِها لتخرج عن النفل والكراهة فباطل اهـ .
قال ابن عابدين: وقد صرح بذلك في البزازية، وقد بسط الكلام عليها شارحا المنية، وصرحا بأن ماروي فيها باطل موضوع، وللعلامة نور الدين المَقْدِسِي فيها تصنيف حسن سماه ’’ردع الراغب عن صلوة الرغائب‘‘، أحاط فيه بغالب كلام المتقدمين والمتأخرين من المذاهب الأربعة اهـ }.
[اس کے مکروہ ہونے کی صراحت ’’الحاوی القُدْسِی‘‘ میں کی گئی ہے، اور کہا ہے: ان اوقات میں تراویح کے علاوہ منقول نمازیں تنہا پڑھی جائیں گی، ’’بحر‘‘ میں کہا ہے: یہاں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ رجب کے پہلے جمعہ میں پڑھی جانے والی صلوۃ الرغائب کے لئے جمع ہونا مکروہ ہے اور یہ کہ یہ بدعت ہے، اور رومیوں کا نفل وکراہت سے نکلنے کے لئے ان نمازوں کی نذر ماننے کا حیلہ باطل ہے، اھ۔
ابن عابدین l فرماتے ہیں: ’’بزازیہ‘‘ میں اس کی صراحت کی گئی ہے، ’’منیہ‘‘ کے دونوں شارحین نے ان پر تفصیل سے کلام کیا ہے، اور صاف کہا ہے کہ اس بارے میں منقول روایات باطل، موضوع ہیں، علامہ نورالدین مَقدِسِی کی ان نمازوں کے بارے میں ایک اچھی تصنیف ہے، جس کا نام ہے ’’ردع الراغب عن صلوة الرغائب‘‘، اس میں مصنف نے مذاہب ِاربعہ کے متقدمین ومتاخرین کے اکثر کلام کا احاطہ کرلیا ہے]
صلاة الرغائب کا بدعت ہونا تقریباً متفق علیہ ہے، حافظ ابن الصلاح اولاً یہی [یعنی بدعت ہونا ] کہتے تھے پھر رجوع کر لیا اور استحباب کے قائل ہو گئے، شیخ عز الدین بن عبد السلام l ہمیشہ اس کی تردید کرتے رہے اور منع کے قائل تھے، اس سلسلہ میں بعض حدیثیں بھی نقل کی جاتی ہیں مگر وہ باطل ہیں، سارے محققین فرماتے ہیں کہ صلوۃ الرغائب بد عت ہے، اور اس سلسلہ میں جو حدیث نقل کی جاتی ہے وہ موضوع ہے، ابو اسماعیل الانصاریl، ابو بکر السمعانیl، ابو الفضل بن ناصرl، ابو الفرج بن الجوزیl، ابو شامہl، نووی l (ص : ۳۶۱ج : ۱) ابن دقیق العیدl، ابن تیمیہl، ذہبیl، ابن رجبl، عراقیl، ابن حجرl وغیرہم نے اس کی تصریح کی ہے۔
حضرت جونپوری l مزید تحریر فرماتے ہیں(الیواقیت الغالیہ۲/۳۲۲ ):
اب ایک اور بات قابل تنبیہ ہے، وہ یہ کہ اب تک تو گفتگو تھی کہ شبِ براء ت میں خاص طور سے اجتماعاً یا انفراداً بیدار رہنا کیسا ہے ؟ اس کے بعد یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اس رات میں مخصوص طریقے پر نماز پڑھی جاتی ہے اور اس میں متعدد روایات نقل کی جاتی ہیں، مگر وہ سب بے اصل وباطل ہیں، روایات مستقل فصل میں آرہی ہیں، شیخ ابن حجر مکی l ’’تحفۃ المحتاج‘‘ میں لکھتے ہیں (ص : ۲/۲۳۹):
{والصلاة المعروفة ليلة الرغائب ونصف شعبان بدعة قبيحة، وحديثها موضوع، وبين ابن عبد السلام وابن الصلاح مكاتبات وإفتاءات متناقضة، بيّنتُها مع ما يتعلق بها في كتاب مستقل سميته ’’الإيضاح والبيان لما جاء في ليلتي الرغائب والنصف من شعبان‘‘، انتهى [أي: كلام ابن حجر المكي].
وقال التقي السبكي في تقييد التراجيح: الاجتماع لصلاة ليلة النصف من شعبان ولصلاة الرغائب بدعة مذمومة [انتهى كلام السبكي].
وقال النَوَوِي في شرح المهذب (ص :۵۶/۴): الصلاة المعروفة بصلاة الرغائب وهي ثنتي عشرة ركعة، تصلى بين المغرب والعشاء ليلة أول جمعة في رجب، وصلاة ليلة نصف شعبان مائة ركعة، وهاتان الصلاتان بدعتان ومنكرتان قبيحتان، ولا يُغْتَرُّ بذكرهما في كتاب قُوْتُ القلوب وإحياء علوم الدين ولا بالحديث المذكور فيهما، فإن كل ذلك باطل، ولا يُغْتَرُّ ببعض من اشتبه عليه حكمهما من الأئمة، فصنف ورقات في استحبابهما، فإنه غالط في ذلك، وقد صنف الإمام أبو محمد عبدالرحمن بن إسماعيل المقدسي كتابا نفيسا في إبطالهما، فأحسن فيه وأجاد، رحمه الله [انتهى كلام النووي].
وقال النَوَوِي - كما ذكر الزَبِيْدِي في الإتحاف (ص: ۴۲۷ ج: ۳)-: هاتان الصلاتان بدعتان موضوعتان منكرتان قبيحتان، ولا يُغْتَرُّ بذكرهما في كتاب القُوْت والإحياء، وليس لأحد أن يستدل على شرعيتهما بقوله صلى الله عليه وسلم: الصلاة خير موضوع، فإن ذلك يختص بصلاة لا تخالف الشرع بوجه من الوجوه، وقد صح النهي عن الصلاة في الأوقات المكروهة اهـ }‘‘.
[شبِ رغائب ونصف شعبان کی مشہور نمازیں قبیح بدعت ہیں، اور ان کی احادیث من گھڑت ہیں، اور اس بارے میں ابن عبدالسلام l اور ابن الصلاح l کے درمیان خط وکتابت، نیز مخالف فتوؤں کا سلسلہ رہا ہے، جنہیں میں ان کے متعلقات سمیت ایک مستقل کتاب بنام ’’الإیضاح والبیان لما جاء فی لیلتي الرغائب والنصف من شعبان‘‘ میں بیان کرچکا ہوں، انتہیٰ ( یعنی ابن حجر مکی l کا کلام مکمل ہوگیا)
’’تقیید تراجیح‘‘ میں تقی سبکی l فرماتے ہیں: نصف شعبان کی رات، نیز صلاۃ الرغائب کے لئے لوگوں کا جمع ہونا مذموم بدعت ہے، انتہیٰ (یعنی تقی سبکی l کا کلام مکمل ہوا)
نووی l ’’شرح المہذب ‘‘ میں لکھتے ہیں: صلاۃ رغائب کے نام سے مشہور نماز بارہ رکعتوں والی نماز ہے، جو رجب کے پہلے شب جمعہ میں مغرب وعشاء کے درمیان پڑھی جاتی ہے، اور نصف شعبان کی رات والی نماز کی ایک سو رکعتیں ہیں، اور یہ دونوں نمازیں بدعت ہیں، منکر و قبیح ہیں، اور ان دونوں نمازوں کے ’’قوت القلوب ‘‘ و ’’احیاء علوم الدین ‘‘ میں مذکور ہونے کی وجہ سے، نیز ان کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث کی وجہ سے، دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے، کیونکہ یہ سب باطل ہیں، اور ائمہ میں بعض حضرات پر ان کا حکم مشتبہ ہوگیا ہے، ان کے اقوال سے بھی دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے، جس نے ان کے مستحب ہونے پر چند صفحات تصنیف کئے ہیں، کیونکہ وہ اس بارے میں غلطی کا شکار ہوگئے ہیں، ان نمازوں کے باطل کہلانے کے بارے میں امام ابو محمد عبد الرحمن بن اسماعیل مَقْدِسِی l نے ایک نفیس کتاب تصنیف کی ہے، اور مصنف نے اس میں بہت اچھا اور عمدہ کلام کیا ہے، اللہ ان پر رحمت فرمائے، انتہیٰ (یعنی امام نووی l کا کلام مکمل ہوا)۔
نووی l فرماتے ہیں - جیسا کہ زبیدی l نے ’’اتحاف‘‘ میں کہا ہے- : یہ دونوں نمازیں بدعت، موضوع، منکر، قبیح ہیں، اور کسی کو اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے کہ یہ نمازیں تو ’’قوت ‘‘ و ’’احیاء‘‘ میں مذکور ہیں، اور کوئی شخص آپ ﷺ کے اس ارشاد سے بھی استدلال نہیں کرسکتا کہ ’’نماز مقررہ عبادات میں سب سے بہترعبادت ہے‘‘، کیونکہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد ایسی نماز کے ساتھ مخصوص ہے جو کسی بھی درجہ میں بھی شریعت کے مخالف نہ ہو، اور صحیح روایت ہے کہ مکروہ اوقات میں نماز پڑھنا ممنوع ہے، اھ ]
[3] باقیات فتاوی رشیدیہ : ایک جاہل واعظ کی بیان کی ہوئی سات بے اصل باتوں کی حقیقت، ص: ۵۶۸ - ۵۷۳،دار الکتاب لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
’’صلوۃ العاشقین‘‘ (ایک مخصوص نماز)،اس نماز کی سند کسی حدیث یا فقہ کی کتاب میں بندہ(حضرت گنگوہی l) نے نہیں دیکھی۔
’’آپ ﷺ نے فرمایا: آدم e نے بحق محمدﷺ، علی r ، فاطمہ R ، حسن r ، اللہ سے سوال کیا تھا‘‘، یہ روایت من گھڑت ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
’’حضرت عائشہ R امامِ ثالث (حضرت عثمان r )کو نَعْثَل[بے وقوف بڈھا] کہتی تھیں اور لعنت کرتی تھیں‘‘، معاذ اللہ یہ روافض کا محض طوفانِ بہتان ہے، اہلِ سنت کی کسی کتاب میں یہ بات نہیں۔