آج کل واعظین کا مزاج وہی ہے جو یہود کا مذاق تھا، ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو عوام کو حیرت میں ڈال دیں۔
تفصیل
”۔۔۔ غرض آج کل واعظین کا مذاق وہی ہے جو یہودکا مذاق تھا، ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو عوام کو حیرت میں ڈال دیں، اسی طرح آج کل کے واعظین ”شہادت نامہ“ خوب پڑھتے ہیں، تاکہ لوگ روئیں اور اس کی کچھ پروا نہیں کرتے کہ روایا ت صحیح ہوں یا غلط، جس جو [كذا في الأصل] جی میں آیا بیان کردیا، کیونکہ ان کا مقصود تو محض رلانا ہے ۔
ایک شخص نے (قل هو الله) کی تفسیر میں ”شہادت نامہ“ بیان کیا، آپ کو حیرت ہوئی ہوگی کہ (قل هو الله) کی تفسیر میں ”شہادت نامہ “ کا کیا جوڑ تھا، سنئے! ان حضرت نے اس طرح جوڑ لگایا کہ یہ وہ سورت ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی،جن کے نوا سے میدان کربلا میں امت ہی کے ہاتھوں شہید ہو ئے تھے، پس پھر سارا قصہ بیان کر دیا، اس پر بعضے سننے والے کہنے لگے کہ واہ کیا ربط ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ربط نہیں بلکہ خبط ہے، جس کی وجہ سے یہ ساری تقریر قابل ضبط ہے، مگر ضبط کے معنی وہ نہیں کہ قلمبند کی جائے، بلکہ مشہور معنی مراد ہیں، یعنی یہ اس قابل ہے کہ اس کو ردی میں ڈال دیا جائے اشاعت بندکی جائے، بھلا اگر اس کا نام ربط ہے تو ایک (قل هو الله) کیا، ہر سورت کی تفسیر میں تم ”شہادت نامہ “ کو، بلکہ ہزاروں واقعات کو ٹھونس سکتے ہو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کا بھی یہی مذاق تھا جو آج کل کے ان واعظوں کا ہے، اس لئے انہوں نے عوام کو خوش کرنے کےلئے عجیب وغریب قصے گھڑ لیے تھے“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : واعظین کا مذاق ، ۲/۱۴۰ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔
غیر معتبر کتابوں کے پاس مت پھٹکو