من گھڑت روایات کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کا نام لگا دینے سے ان کا پڑھنا جائز نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو عین گستاخی اور معصیت ہے۔
تفصیل
”آپ ہی انصاف کیجئے کہ امتثالِ حکم ادب ہے، یا یہ ادب ہے کہ حکم کو چھوڑ کر اپنے دل میں جو کچھ آئے اس کو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف منسوب کر دیا جا ئے؟ ”معراج نامہ“ اور ”مولد شریف “ کے رسالوں میں دیکھ لیجیے کہ کس قدر موضوعات ہیں، صرف اللہ اور رسولﷺ کا نام لگا دینے سے ان کا پڑھنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ بلکہ یہ تو عین گستاخی اور معصیت ہے کہ جھوٹ بھی لگایا تو اللہ و رسول ﷺ کے نام کے ساتھ لگا یا، اول تو ان میں مضامین خلافِ شرع ہیں، اور دوسرے اور مفاسد بھی ایسے موجود ہیں جن کی وجہ سے منع ہی کو تر جیح ہو سکتی ہے“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : امتثالِ امر ، ۲۶/۳۲۳، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
ملتی جلتی احادیث
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
حضرت سفیان ثوری l مسجد میں ایک بار اپنے سرین اور دونوں قدموں پر بیٹھے تھے، غیب سے آواز آئی کہ اَو ثور!۔۔۔
یہ قصہ محض کسی کا تراشیدہ۔
بعض کتابیں جن میں بے اصل، اور گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔
وعظ میں رنگ بھرنے کے لئے رنگین،من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں، علماء وعارفین کے نزدیک اس سے انوار نہیں بلکہ نار برستی ہے۔
کتاب”دعائے گنج العرش “، کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ من گھڑت ہے۔