آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
تفصیل
”علما ئے متقین نے قرآن و حدیث کی دعا ؤں کو جمع کر کے کتابیں بنادی ہیں، اور ان کے حصے مقر ر کر دیئے ہیں تاکہ روز مرہ پڑھنے میں سہولت ہو، دو چار دفعہ ان کو پڑھئے آپ کی طبیعت خود دوسری دعاؤں کی طرف سے ہٹ جائے گی،مگر آج کل مذاق پلٹ گئے ہیں کہ موضوعات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے ۔
حالانکہ آج کل تحقیق و تعلیم کا بہت چر چا ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جھوٹے قصے پڑھنے سے کونسی تحقیق ہوتی ہے، اور عقلاء اور تعلیم یافتوں سے تعجب ہے کہ ایسے قصوں کو جھوٹا معلوم ہو نے کے بعد پڑھتے ہیں، آج کل اسی قسم کی کتابیں کثرت سے بکتی ہیں، اور لوگ بڑے شوق سے خرید تے ہیں، شریعت تو شریعت لوگوں نے عقل کو بھی چھوڑدیا ہے، بعض کتابیں علاوہ جھوٹ ہو نے کے مُخَرِّبِ اخلاق بھی ہیں، جیسے: ” گل بکاولی “، ”بدر منیر“ کو پڑھ کر کس قدر اثر اخلاق پر پڑتا ہے“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : شریعت پر افتراء ، ۲۶/۳۲۱ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔