احادیث میں مذکور حضور ﷺ کے فضائل بیان کرنے چاہئیں، گھڑے ہوئے فضائل بیان نہ کریں۔
تفصیل
”حضور ﷺ کے فضائل ہم کو وہی بیان کر نے چاہئیں جو احادیث میں مذکور ہیں، وہ کیا کچھ کم فضائل ہیں، اور یہاں سے اس کی حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے فضائل خود کیوں بیان فرمائے، وجہ یہ ہے کہ اگر خود حضور ﷺ بیان نہ فرماتے تو امت اپنی طرف سے گھڑ گھڑ کر کمالات بیان کرتی، کیونکہ محبت واعتقاد اس پر مجبور کیا کرتا ہے کہ محبوب کے فضائل بیان کئے جائیں، اور ہمارے بیان کردہ فضائل میں یہ اندیشہ غالب تھا کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی تحقیر وتوہین لازم آجائے گی، جیسا کہ مشاہدہ ہو رہا ہے ۔
اس لئے حضور ﷺ نے اپنے سچے اور واقعی کمالات خودہی بیان فرمادئیے تاکہ اگر کسی کو محبت وعشق کے غلبہ میں آپ ﷺ کے فضائل کے بیان کر نے کا شوق ہو، وہ ان صحیح فضائل کو بیان کر کے اپنا شوق پورا کر ے، اور ان فضائل کے بیان کر نے میں کسی نبی کی توہین کا شائبہ بھی نہیں ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : مناظرے کی خرابیاں ، ۲/۱۵۸ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان ۔