التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: قیامت، حشر، حساب و جہنم

روزِ قیامت، میدانِ حشر، حساب و میزان اور شفاعت۔

گروپ: آخرت

21 روایات

  1. روایت: ’’نبی e فرماتے ہیں: مجھے جبرائیل e نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے اتنا ڈرایا کہ میں رونے لگ گیا، میں نے کہا: اے میرے دوست جبرائیل! کیا اللہ رب العزت نے میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کردیا؟ یہ بات سن کر جبرائیل e نے جواب دیا: اے محمد ﷺ! قیامت کے دن آپ ہیبت کے ایسے احوال دیکھیں گے کہ آپ قیامت کی مغفرت کو بھول جائیں گے، نبی e یہ بات سن کر اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسوں آپ کی مبارک ریش پر بہنے لگے‘‘۔

  2. روزِ قیامت اللہ تعالی کا فقراء سے معذرت کرنا

    روایت: ’’اتخذوا عند الفقراء أيادي، فإن لهم دولة يوم القيامة، فإذا كان يوم القيامة نادی مناد: سيروا إلى الفقراء، فيعتذر إليهم كما يعتذر أحدكم إلى أخيه في الدنيا‘‘.

    تم فقراء کے ساتھ احسان کرو، اس لئے کہ قیامت کے دن ان کے لئے بادشاہی ہوگی، سو جب قیامت کا دن ہوگا پکارنے والا پکارے گا، چلو فقراء کی طرف، سو ان سے معذرت کی جائے گی جیسا کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے دنیا میں معذرت کرتا ہے۔

  3. روایت: ’’روزِ قیامت ایک منادی آواز لگائے گا: اے محمد ! کھڑے ہو کر بلاحساب جنت میں داخل ہوجاؤ، اس آواز کو سن کر محمد نامی ہر شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے پکارا گیا ہے، کھڑا ہوجائےگا، انہیں محمدﷺ کی شرافت کی وجہ سے نہیں روکا جائے گا(یعنی یہ سب جنت میں داخل ہوجائیں گے)‘‘، یہ من گھڑت روایت ہے۔

  4. ’’آپ ﷺ کا روزِ قیامت ابو بکر r کودوزخ کے راستے پر،عمر r کو میزان پر،عثمان r کو حوضِ کوثر پر،علی r کودوزخ کے دروازے پر متعین کرنا تاکہ امتی جہنم میں نہ جائیں۔۔۔‘‘، اس من گھڑت روایت کا عقیدہ رکھنے والا فاسق، آگ کا مستحق ہے، اور اس پر کفر کا اندیشہ بھی ہے۔