روایت: ’’نبی e فرماتے ہیں: مجھے جبرائیل e نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے اتنا ڈرایا کہ میں رونے لگ گیا، میں نے کہا: اے میرے دوست جبرائیل! کیا اللہ رب العزت نے میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کردیا؟ یہ بات سن کر جبرائیل e نے جواب دیا: اے محمد ﷺ! قیامت کے دن آپ ہیبت کے ایسے احوال دیکھیں گے کہ آپ قیامت کی مغفرت کو بھول جائیں گے، نبی e یہ بات سن کر اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسوں آپ کی مبارک ریش پر بہنے لگے‘‘۔
باب: قیامت، حشر، حساب و جہنم
روزِ قیامت، میدانِ حشر، حساب و میزان اور شفاعت۔
گروپ: آخرت
21 روایات
روزِ قیامت ایک نیکی دینےپر دوافراد کا جنت میں داخل ہونا
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا
روایت :نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’روزِ قیامت ایک ،ایک قبرسے ستر،سترمردے اٹھیں گے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا دعا فرمانا کہ میری امت کا حساب میرےحوالہ فرمادیجئے، تاکہ میری امت کو دوسری امتوں کے سامنےشرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔۔۔ ‘‘ ۔
روایت: ’’لوگوں کو قیامت کے دن ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا‘‘۔
روزِ قیامت اللہ تعالی کا فقراء سے معذرت کرنا
روایت: ’’اتخذوا عند الفقراء أيادي، فإن لهم دولة يوم القيامة، فإذا كان يوم القيامة نادی مناد: سيروا إلى الفقراء، فيعتذر إليهم كما يعتذر أحدكم إلى أخيه في الدنيا‘‘.
تم فقراء کے ساتھ احسان کرو، اس لئے کہ قیامت کے دن ان کے لئے بادشاہی ہوگی، سو جب قیامت کا دن ہوگا پکارنے والا پکارے گا، چلو فقراء کی طرف، سو ان سے معذرت کی جائے گی جیسا کہ تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے دنیا میں معذرت کرتا ہے۔
روایت: ’’روزِ قیامت ایک منادی آواز لگائے گا: اے محمد ! کھڑے ہو کر بلاحساب جنت میں داخل ہوجاؤ، اس آواز کو سن کر محمد نامی ہر شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے پکارا گیا ہے، کھڑا ہوجائےگا، انہیں محمدﷺ کی شرافت کی وجہ سے نہیں روکا جائے گا(یعنی یہ سب جنت میں داخل ہوجائیں گے)‘‘، یہ من گھڑت روایت ہے۔
’’آپ ﷺ کا روزِ قیامت ابو بکر r کودوزخ کے راستے پر،عمر r کو میزان پر،عثمان r کو حوضِ کوثر پر،علی r کودوزخ کے دروازے پر متعین کرنا تاکہ امتی جہنم میں نہ جائیں۔۔۔‘‘، اس من گھڑت روایت کا عقیدہ رکھنے والا فاسق، آگ کا مستحق ہے، اور اس پر کفر کا اندیشہ بھی ہے۔
روایت: ’’قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا‘‘، یہ سنداً شدید ضعیف ہے، نیز صحیح روایت سے بھی معارض ہے۔