التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’آپ ﷺ کا روزِ قیامت ابو بکر r کودوزخ کے راستے پر،عمر r کو میزان پر،عثمان r کو حوضِ کوثر پر،علی r کودوزخ کے دروازے پر متعین کرنا تاکہ امتی جہنم میں نہ جائیں۔۔۔‘‘، اس من گھڑت روایت کا عقیدہ رکھنے والا فاسق، آگ کا مستحق ہے، اور اس پر کفر کا اندیشہ بھی ہے۔

تفصیل

’’سوال: کتاب ’’مقاصدالصالحین‘‘ (ص: ۳۶ )میں ہے،نقل ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی، آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر صدیق r  کو حکم کریں گے کہ تم دوزخ کی راہ گھیر کر کھڑے ہوجاؤ، اگر کسی شخص کو میری امت سے دوزخ میں لے جائیں تم ہر گز نہ جانے دیجیو جب تک میں نہ پہنچوں، اور عمرr  کو حکم ہوگا کہ تم میزان کے پاس جاکر کھڑے رہو اور خبردار رہو کہ اعمال میری امت کے اچھے تولے جاویں، اگر کسی کا پلّہ عبادت کا ہلکا ہو تو اس کا تولنا موقوف رہے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔

 جب آنحضرت ﷺ خود تشریف لے جاویں گے حکم ہوگا کہ ان کی عبادت، میری روبرو وزن کرو، فرشتے آپ کا حکم بجالائیں گے، جب تولنے کے وقت پلّہ کسی کی عبادت کا سبکی[ہلکے پن] کی طرف مائل ہوگا، آپﷺ اپنے دستِ مبارک سے اس پلہ کو دبادیں گے کہ بھاری ہوجاوےگا، تب فرشتوں کو حکم الٰہی پہنچے گا کہ اے فرشتو! میرے دوست کے خلافِ مرضی کوئی کام نہ کرنا کہ آج میں نے اس کو اختیار دیا ہے جو چاہے سو کرے، اور حضرت عثمان r حوضِ کوثر پر مامور ہوں گے کہ سب سے پہلے میری امت سیراب ہووے، اور حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ دوذخ کے دروازے پر متعین کئے جائیں گے کہ کوئی امتی میرا دوذخ میں نہ جانے پائے جب تک میں نہ آجاؤں، اور آنحضرتﷺ سایۂ عرش میں جاکر اپنے عاصیانِ امت کی شفاعت میں مصروف ہوں گے۔

اس حالت میں جبرائیل e  سراسیمہ[خوف زدہ] آپ کے پاس آئیں گے آپ ان سے سبب سراسیمگی[خوف] پوچھیں گے وہ عرض کریں گے کہ یا رسول اللہﷺ! اس وقت میرا گزر دوذخ کی طرف ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک شخص آپ کی امت کا عذاب میں گرفتار ہے، اور رو رو کر کہتا ہے کہ افسوس کوئی ایسا نہیں کہ میرا حال پیغمبر ﷺ سے عرض کرے اور آپ کو میری خبر دے، اس کی فریاد میں میرا حال متغیر ہوا، آپ یہ سن کر روتے ہوئے دوزخ کی طرف تشریف لے جائیں گے اور اس کو عذاب سے چھوڑائیں [کذا في الأصل] گے، مالک[داروغۂ جہنم] کو حکم ہوگا کہ ہر گز میرے حبیب کے امورات میں دخل نہ دینا اور چُون وچِرا[تکرار] نہ کرنا، بعد اس کے آنحضرت ﷺ میزان کے پاس تشریف لے جائیں گے اور اعمال کے تولنے والوں کو حکم دیں گے کہ اعمال میری امت کے اچھی طرح سے تولنا، پھر کنارہ ٔدوزخ پر جاکر فرمائیں گے کہ اے مالک! اگر کوئی شخص میری امت کا آئے اس پر سختی نہ کیجئو جب تک میں نہ آؤں، آخر کو نوبت یہاں تک پہنچے گی جس شخص کو ملائکہ کے ہاتھ میں دیکھیں گے جناب باری میں عرض کریں گے کہ اے بار خدا!  اس کو میری التماس سے بخش دے یا مجھ کو بھی اس کے ساتھ جانے کا حکم دے، انتہی۔

اے عزیز !کچھ جانتے ہو کہ احکامِ الٰہی میں کیا کیا اسرار ہیں فقط[اصل میں اسی طرح ہے]، لہذا اس کا پڑھنا اور پڑھانا اور اعتقاد کرنا ان روایات کا،صحیح ہے یا غلط اور موضوع ہے؟بینوا وتوجروا ۔

جواب: عبارت مذکورہ بالا کا مضمون احادیثِ صحاح کے خلاف ہے، لہذا غلط ہے، اور یہ احادیثِ مذکورہ بالا موضوع ہیں، اور واضع [گھڑنے والا]ان کا اور ان پر عقیدہ رکھنے والا داخل حدیث :  {من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار}. ’’جو مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے‘‘ہے، اور ایساشخص فاسق ہے، اور اندیشہ کفر کا بھی اس پر ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] تالیفات رشیدیہ : حالاتِ قیامت پر بحث ، ص: ۱۶۲،۱۶۳، ادارہ اسلامیات لاہور ۔ 

ملتی جلتی احادیث