’’آپ ﷺ کا روزِ قیامت ابو بکر r کودوزخ کے راستے پر،عمر r کو میزان پر،عثمان r کو حوضِ کوثر پر،علی r کودوزخ کے دروازے پر متعین کرنا تاکہ امتی جہنم میں نہ جائیں۔۔۔‘‘، اس من گھڑت روایت کا عقیدہ رکھنے والا فاسق، آگ کا مستحق ہے، اور اس پر کفر کا اندیشہ بھی ہے۔
تفصیل
’’سوال: کتاب ’’مقاصدالصالحین‘‘ (ص: ۳۶ )میں ہے،نقل ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی، آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر صدیق r کو حکم کریں گے کہ تم دوزخ کی راہ گھیر کر کھڑے ہوجاؤ، اگر کسی شخص کو میری امت سے دوزخ میں لے جائیں تم ہر گز نہ جانے دیجیو جب تک میں نہ پہنچوں، اور عمرr کو حکم ہوگا کہ تم میزان کے پاس جاکر کھڑے رہو اور خبردار رہو کہ اعمال میری امت کے اچھے تولے جاویں، اگر کسی کا پلّہ عبادت کا ہلکا ہو تو اس کا تولنا موقوف رہے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔
جب آنحضرت ﷺ خود تشریف لے جاویں گے حکم ہوگا کہ ان کی عبادت، میری روبرو وزن کرو، فرشتے آپ کا حکم بجالائیں گے، جب تولنے کے وقت پلّہ کسی کی عبادت کا سبکی[ہلکے پن] کی طرف مائل ہوگا، آپﷺ اپنے دستِ مبارک سے اس پلہ کو دبادیں گے کہ بھاری ہوجاوےگا، تب فرشتوں کو حکم الٰہی پہنچے گا کہ اے فرشتو! میرے دوست کے خلافِ مرضی کوئی کام نہ کرنا کہ آج میں نے اس کو اختیار دیا ہے جو چاہے سو کرے، اور حضرت عثمان r حوضِ کوثر پر مامور ہوں گے کہ سب سے پہلے میری امت سیراب ہووے، اور حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ دوذخ کے دروازے پر متعین کئے جائیں گے کہ کوئی امتی میرا دوذخ میں نہ جانے پائے جب تک میں نہ آجاؤں، اور آنحضرتﷺ سایۂ عرش میں جاکر اپنے عاصیانِ امت کی شفاعت میں مصروف ہوں گے۔
اس حالت میں جبرائیل e سراسیمہ[خوف زدہ] آپ کے پاس آئیں گے آپ ان سے سبب سراسیمگی[خوف] پوچھیں گے وہ عرض کریں گے کہ یا رسول اللہﷺ! اس وقت میرا گزر دوذخ کی طرف ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک شخص آپ کی امت کا عذاب میں گرفتار ہے، اور رو رو کر کہتا ہے کہ افسوس کوئی ایسا نہیں کہ میرا حال پیغمبر ﷺ سے عرض کرے اور آپ کو میری خبر دے، اس کی فریاد میں میرا حال متغیر ہوا، آپ یہ سن کر روتے ہوئے دوزخ کی طرف تشریف لے جائیں گے اور اس کو عذاب سے چھوڑائیں [کذا في الأصل] گے، مالک[داروغۂ جہنم] کو حکم ہوگا کہ ہر گز میرے حبیب کے امورات میں دخل نہ دینا اور چُون وچِرا[تکرار] نہ کرنا، بعد اس کے آنحضرت ﷺ میزان کے پاس تشریف لے جائیں گے اور اعمال کے تولنے والوں کو حکم دیں گے کہ اعمال میری امت کے اچھی طرح سے تولنا، پھر کنارہ ٔدوزخ پر جاکر فرمائیں گے کہ اے مالک! اگر کوئی شخص میری امت کا آئے اس پر سختی نہ کیجئو جب تک میں نہ آؤں، آخر کو نوبت یہاں تک پہنچے گی جس شخص کو ملائکہ کے ہاتھ میں دیکھیں گے جناب باری میں عرض کریں گے کہ اے بار خدا! اس کو میری التماس سے بخش دے یا مجھ کو بھی اس کے ساتھ جانے کا حکم دے، انتہی۔
اے عزیز !کچھ جانتے ہو کہ احکامِ الٰہی میں کیا کیا اسرار ہیں فقط[اصل میں اسی طرح ہے]، لہذا اس کا پڑھنا اور پڑھانا اور اعتقاد کرنا ان روایات کا،صحیح ہے یا غلط اور موضوع ہے؟بینوا وتوجروا ۔
جواب: عبارت مذکورہ بالا کا مضمون احادیثِ صحاح کے خلاف ہے، لہذا غلط ہے، اور یہ احادیثِ مذکورہ بالا موضوع ہیں، اور واضع [گھڑنے والا]ان کا اور ان پر عقیدہ رکھنے والا داخل حدیث : {من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار}. ’’جو مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے‘‘ہے، اور ایساشخص فاسق ہے، اور اندیشہ کفر کا بھی اس پر ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : حالاتِ قیامت پر بحث ، ص: ۱۶۲،۱۶۳، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
حدیث قدسی: ’’تمام مخلوق میری رضا مندی طلب کرتے ہیں، اے محمدﷺ!اور میں تیری رضا طلب کرتاہوں‘‘، اس کی سند وصحت بندہ کو معلوم نہیں،اگرچہ اس کا معنی صحیح ہے۔
’’حضرات حسنین q کااپنی خوش خط آپ ﷺ کو،پھر ابوبکر r کو، بالآخر اللہ کو دکھانا [معاذاللہ]‘‘،یہ محض افتراء اور کذب محض ہے، کہیں اس کی اصل نہیں،اس کا واعظ فاسق ہے اس کا وعظ سننا حرام ہے۔