التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا‘‘، یہ سنداً شدید ضعیف ہے، نیز صحیح روایت سے بھی معارض ہے۔

تفصیل

’’سوال: کیا قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کیساتھ پکارا جائے گا؟ اس کے حوالہ کی ضرورت ہے ۔

جواب:  ×قال الطَبَرَانِي في الکبیر: حدثنا الحسن بن علویه، حدثنا إسمعیل بن عیسى القَطَّان، حدثنا ابن بِشْر أبو حذیفة، حدثنا ابن جریج، عن ابن أبي مُلَیْکَة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله يدعو الناس يوم القيامة بأمهاتهم سترا منه على عباده.

 قلت: ولكن إسحاق بن بِشْر أبو حذیفة کذاب وضّاع، قال ابن الجوزي في الموضوعات: أجمعوا على أنه کذاب. قلت : کذّبه ابن المَدِیْنِی وابن أبی شیبة و الدَارَقُطْنِي.

 وفي الباب عن أنس مرفوعا، أخرجه ابن عدي: حدثنا محمد بن محمد الجُهَنِي، حدثنا علي بن بِشْر بن هلال، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الطَبَرِي، حدثنا مروان الفزاري، عن حُمَیْد الطویل، عن انس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : یدعى الناس یوم القیامة بأمهاتهم سترا من الله علیهم. قال ابن عدي : إسحاق بن إبراهیم منکر الحدیث، و هذا حدیث منکر.

 وأورده ابن الجوزي في الموضوعات، وأعله بهذا الرجل.

 قلت : وهکذا قال الدَارَقُطْنِي: إنه منکر الحدیث.

 قال ابن حِبَّان: منکر الحدیث جدا یأتي عن الثقات بالموضوعات، ولایحل کتب حدیثه إلاعلى جهة التعجب. ثم ذکر له أحادیث واهیة.

 قلت: وقد ثبت مایعارضه: وهو مارواه أبو داود(ص:۲۶۷/۵) وأحمد و الدَارَقُطْنِی (ص :۲۶۱) بسند جید کما قال النَوَوِي في الأذکار عن أبي الدرداء  رضي الله تعالى عنه رفعه: إنکم تدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم فحسّنوا أسمائکم. وفي صحیح البخاري (ص: ۹۱۲) : إن الغادر ینصب له لواء یوم القیامة فیقال: هذه غدرة فلان بن فلان، والله أعلم÷[1].‘‘

[(حضرت جونپوری l کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ) طبرانی l نے ’’کبیر ‘‘ میں ابن عباس r سے تخریج کیاہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ بندوں کی ستر پوشی کی وجہ سے روز قیامت لوگوں کو ان کی ماؤں (کےنام) سے پکاریں گے۔

میں(حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ (سند میں موجود) اسحاق بن بِشْر ابوحذیفہ کذاب، حدیث گھڑنے والاہے، ابن جوزی l’’موضوعات‘‘ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ یہ شخص کذاب ہے۔ میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ ابن مدینی l ، ابن ابی شیبہ l ، دَارَ قُطنِی l نے اسحاق کو ’’ کذاب‘‘ کہا ہے۔

اور اس باب میں حضرت انس r سے مرفوع روایت مروی ہے، جسے ابن    عدی l نے تخریج کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بندوں پر ستر پوشی کی وجہ سے لوگوں کو روز قیامت ان کی ماؤں (کے نام)سے پکارا جائے گا، ابن عدی l فرماتے ہیں کہ (سند میں موجود راوی) اسحاق بن ابراہیم منکر الحدیث ہے،اور یہ حدیث منکر ہے۔

نیز ابن جوزی l نے اسے(حدیث انس r کو) ’’موضوعات ‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور اسی شخص (اسحاق بن ابراہیم ) کو علت حدیث قرار دیا ہے۔

 میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ دَارَ قُطنِی l فر ماتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم منکر الحدیث ہے، ابن حبان l کہتے ہیں کہ شدید منکر الحدیث ہے، ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے، اس کی روایات صرف تعجب کے طور پر ہی لکھی جاسکتی ہیں۔ (حضرت جونپوری l فرماتے ہیں ) پھر ابن حبان l نےاسحاق کی دیگر واہی احادیث نقل کیں ۔

میں(حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ اس روایت سے معارض دوسری احادیث بھی ہیں: (ایک حدیث تو) ابو الدرداء r سے مرفوعاً مروی ہے، جسے ابوداؤد l ، احمد l ، دَارَ قُطنِی l نے بسند ’’جید‘‘ تخریج کیا ہے، جیسا کہ امام نَوَوِی l نے بھی ’’اذکار‘‘ میں لکھا ہے(روایت یہ ہے): تمہیں روز قیامت تمہارے اور تمہارے آباء  کے نام سے پکارا جائے گا لہٰذا تم اپنے نام اچھے رکھو۔ اور (دوسری معارض روایت) ’’صحیح بخاری‘‘ میں ہے: دھوکہ دینے والے کے لئے روز قیامت ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے، واللہ اعلم]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ: کیا لوگوں کو قیامت کے دن ان کی ماؤں[کے نام] کے ساتھ پکارا جائیگا ؟۱/۲۰۸۔

علا مہ اسماعیل عجلونی l ’’ كشف الخفاء‘‘ (۲/ ۴۸۵، رقم:۳۲۳۸) میں روایت ’’قیامت میں لوگوں کو ان کے باپ کے نا م سے پکارا جائے گا‘‘ کے تحت لکھتے ہیں: حافظ ابن بطال l نے فرمایا کہ یہ روایت ان لوگوں پر رد ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ قیامت میں لوگوں کی ستر پوشی کرتے ہوئے ان کو ان کی ماں کے نام سے پکاراجائے گا ۔

حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘ (۱/ ۱۷۷، رقم:۷۱۹ ) میں اسے ’’منکر‘‘  کہا ہے۔

حافظ ابن قیم l نے ’’المنار المنيف‘‘ (ص:۱۳۹،رقم:۳۱۷ ) میں اسے باطل اور صحیح روایت کے معارض قراردیا ہے، تفصیل کےلئے کتاب ’’غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ‘‘ حصہ سوم ص:۳۷، ملاحظہ فرمائیں۔

ملتی جلتی احادیث